Connect with us

دلی این سی آر

اردو اکادمی دہلی کی اردو تھیٹر ورکشاپ کا شاندار اختتام

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: اردو اکادمی، دہلی کی تھیٹر ورکشاپ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور مسلسل جاری رہنے والا پروگرام ہے۔ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی اردو تھیٹر ورکشاپ کے دو مراکز قائم کیے گئے تھے کریسنٹ اسکول، موج پور اور اردو اکادمی دہلی کے دفتر کا احاطہ۔ ہندوستان میں شاید ہی کوئی دوسری ادبی و ثقافتی اکادمی ہو جو تقریباً تین دہائیوں سے مسلسل بچوں کے لیے باضابطہ ڈراما ورکشاپ کا انعقاد کرتی آ رہی ہو۔ اس ورکشاپ کے ذریعے بچوں کو اداکاری، مکالمہ ادائیگی، اسٹیج کے آداب اور اردو تھیٹر کی روایت سے عملی طور پر روشناس کرایا جاتا ہے۔وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ اور چیئرمین اردو اکادمی ،دہلی کپل مشرا کی خصوصی توجہ، تعاون اور سرپرستی کے باعث ہی سمر کیمپ اور اردو تھیٹر ورکشاپ کا کامیاب انعقاد ممکن ہو سکا۔
منڈی ہاؤس کے سری رام سینٹر میں منعقدہ اختتامی پروگرام میں بڑی تعداد میں ایسے افراد بھی شریک ہوئے جن کا تعلق غیر اردو پس منظر سے تھا۔ اس موقع پر ایک خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ ’یہ میری زندگی کا پہلا موقع ہے کہ میں اردو اکادمی کے کسی پروگرام میں شریک ہوئی ہوں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بچوں کی صلاحیتوں پر مبنی اتنا خوبصورت اور معیاری پروگرام بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔‘‘دیگر حاضرین نے بھی بچوں کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صرف بائیس دن کی محنت میں بچوں نے جس اعتماد اور مہارت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، وہ حیرت انگیز اور قابلِ ستائش ہے۔ ان کے مطابق اردو اکادمی، دہلی اس کامیاب کاوش پر مبارک باد کی مستحق ہے۔
دوسرے روز کا پروگرام اپنے مقررہ وقت پر ریشماں فاروق کی دلکش نظامت میں شروع ہوا۔ اردو اکادمی، دہلی کے سینئر اراکین محمد ہارون اور عزیز حسین قدوسی نے فنکاروں کو گلدستہ پیش کر کے استقبال کیا۔
پروگرام کا پہلا حصہ سمر کیمپ میں تیار کردہ داستان گوئی پر مشتمل تھا، جس میں نو بچوں نے جناب ساحل آغا اور محترمہ اسما رحمان کی رہنمائی میں اپنی داستانیں پیش کیں۔ افرا افتخار نے ’’چچا چھکن‘‘، سمرین نے ’’نیکی کا فرشتہ‘‘، محمد عمر نے ’’شیر اور خرگوش‘‘، افرح حریم نے ’’ایمانداری‘‘، زویا نے ’’بڑوں کی عزت‘‘، یاسین نوشاد نے ’’کپڑوں کی دعوت‘‘، انشا محبوب نے ’’دنیا کی سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟‘‘، ایمن فاطمہ نے ’’محنتی کسان اور اس کے آلسی بیٹے‘‘ اور عنایہ عظیم نے ’’میں بچ گئی ماں‘‘ کے عنوانات سے اپنی داستانیں پیش کیں۔
پروگرام کا دوسرا حصہ سمر کیمپ میں تیار کردہ غزل گائیکی پر مشتمل تھا۔ جویریہ نے ’’بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے‘‘، تسمیہ نے ’’اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں‘‘ اور عامرہ نے ’’یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا‘‘ پیش کر کے سامعین سے خوب داد حاصل کی۔ ان کے ساتھ ہارمونیم پر ان کے موسیقی استاد جناب ذیشان ضمیر اور طبلے پر غلام صابر نے شاندار سنگت پیش کی۔
بعد ازاں اردو تھیٹر ورکشاپ میں تیار کردہ مزاحیہ ڈراما ’’گدھے کا گدھا‘‘ پیش کیا گیا۔ ڈرامے کی کہانی جمن میاں اور ان کے محبوب گدھے ’’جنّوں میاں‘‘ کے گرد گھومتی ہے، جسے وہ تعلیم دلا کر انسان بنانا چاہتے ہیں۔ مختلف مناظر پر مشتمل اس ڈرامے میں معاشرتی مسائل کی عکاسی کے ساتھ کئی اہم پیغامات بھی پیش کیے گئے۔تقریباً ایک گھنٹے پر مشتمل اس ڈرامے میں اٹھائیس ننھے اداکاروں نے اپنی شاندار اداکاری سے حاضرین کو محظوظ کیا اور بھرپور داد حاصل کی۔
دونوں روز کے پروگراموں نے ثابت کر دیا کہ اردو اکادمی، دہلی کا سمر کیمپ اور تھیٹر ورکشاپ ہر اعتبار سے کامیاب رہا۔ ان دو دنوں میں 17بچوں نے داستان گوئی،5 بچوں نے غزل گائیکی اور71 بچوں نے ڈراموں میں حصہ لیا۔پروگرام میں ڈراما اور ادب سے وابستہ شخصیات کے علاوہ ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی، ڈاکٹر شاہنواز فیاض، ڈاکٹر فرمان چودھری، حبیب سیفی، عرفان راہی، شاکر دہلوی، مختلف اسکولوں کے اساتذہ و طلبہ اور بچوں کے والدین نے بھی شرکت کی۔

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

دہلی میٹرو کی گولڈن لائن پر کام آخری مراحل میں

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی : دہلی میٹرو کی نئی گولڈن لائن پر کام تقریباً اپنے آخری مراحل میں ہے۔ جلد ہی، آپ اس لائن پر میٹرو کو آسانی سے چلتے ہوئے دیکھیں گے، جس سے ہوائی اڈے اور جنوبی دہلی کے علاقوں کے درمیان آسانی سے سفر کیا جا سکتا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس لائن کا پہلا حصہ سال کے آخر تک یعنی دسمبر تک کھل جائے گا۔ معلوم کریں کہ اس لائن کے کھلنے سے سفر کتنا آسان ہو جائے گا۔دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کے مطابق، ایروسٹی-تغلق آباد گولڈن لائن پر 83 فیصد سول ورک مکمل ہو چکا ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے اندازہ لگایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے کا ایک حصہ اس سال دسمبر تک کھول دیا جائے گا۔ پہلا مرحلہ تغلق آباد اور سنگم وہار کے درمیان تقریباً ساڑھے آٹھ کلومیٹر کے حصے کو کھولے گا۔ اس سیکشن میں کل چار اسٹیشن ہوں گے۔ ان میں سے تین اسٹیشنز زیر زمین ہوں گے جبکہ باقی ایک ایلیویٹڈ ہوگا۔
گولڈن لائن دہلی میٹرو کے فیز 4 کے تحت تعمیر کی جانے والی ایک نئی میٹرو لائن ہے۔ اسے پہلے سلور لائن کا نام دیا گیا تھا۔ یہ تقریباً 25.8 کلو میٹر لائن جنوبی دہلی کو اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل 1 سے جوڑے گی۔ تعمیر جون 2022 میں شروع ہوئی اور اب اسے 2026 کے آخر تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔قطب مینار اور مہرولی آرکیالوجیکل پارک جیسے تاریخی مقامات کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لیے لائن کا راستہ تبدیل کر دیا گیا۔ جنوری 2024 میں اس کا نام سلور لائن سے بدل کر گولڈن لائن کر دیا گیا۔ سریتا وہار ڈپو کو بھی گولڈن لائن کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ ڈپو فی الحال دہلی میٹرو کی وائلٹ لائن کے لیے ٹرینیں چلاتا ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

بڑے پیمانے پرنوجوانوں کو تباہ کر رہی ہےبی جے پی :کجریوال

Published

on

نئی دہلی :عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے منشیات کے مسئلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کیا ہے جو پنجاب کے نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر تباہ کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں آنے والی 80 فیصد منشیات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں سے آرہی ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے زیر اقتدار کئی ریاستوں کا نام لیا، خاص طور پر اس کے لیے گجرات کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ دریں اثنا، کجریوال نے پنجاب میں بی جے پی کے انسداد منشیات مارچ کو بے شرمی قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ اگر بی جے پی منشیات کے استعمال کو روکنا چاہتی ہے تو اسے پنجاب میں اے اے پی حکومت سے سیکھنا چاہئے۔ کیجریوال نے بی جے پی کو ہر چیز پر سیاست نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا۔سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں کیجریوال نے لکھا، “2022 میں جب ہماری حکومت بنی تو 80 فیصد منشیات پاکستان سے آتی تھیں، AAP حکومت نے اینٹی ڈرون سسٹم لگا کر پاکستان سے آنے والی منشیات کو کنٹرول کیا، جس کے نتیجے میں آج صرف 20 فیصد منشیات پاکستان سے آتی ہیں۔”
انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ کے لیے بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا، “آج 80 فیصد منشیات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں جیسے گجرات، راجستھان، ہریانہ، اتر پردیش، اور دہلی سے آرہی ہیں۔ کیا بی جے پی اپنی ریاستوں میں منشیات کے کاروبار کو روکنے میں ناکام رہی ہے، یا وہ نہیں چاہتی؟” وہ تیس سال سے گجرات میں برسراقتدار ہیں اور وہاں منشیات کا کاروبار سب سے زیادہ ہے۔پوسٹ کے آخر میں، AAP کنوینر نے لکھا، مندرا بندرگاہ کے ذریعے بھارت میں منشیات داخل ہوتی ہیں، جس کی ذمہ داری مرکزی بی جے پی حکومت پر عائد ہوتی ہے، اور ان کی بے شرمی دیکھیں، یہ لوگ پنجاب میں منشیات کے خلاف مارچ کر رہے ہیں۔ اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو پنجاب سے سیکھیں، AAP سے سیکھیں، اور اپنی ریاستوں میں بھی منشیات کا خاتمہ کریں۔ ہر چیز پر سیاست نہ کریں۔”
کیجریوال نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک مضمون بھی شیئر کیا، جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ جہاں پولس نے سرحد پار سے آنے والی منشیات کو روکنے میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے، وہیں دوسری طرف ان ادویات کی مانگ پڑوسی ریاستوں سے فارماسیوٹیکل ادویات درآمد کرکے پوری کی جارہی ہے۔
مضمون میں پولیس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پنجاب میں داخل ہونے والی تقریباً 80 فیصد دوائیاں اب گجرات، اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ اور دہلی سے آتی ہیں۔ اس عرصے کے دوران، 2025 سے اب تک 1.154 ملین گولیاں اور کیپسول قبضے میں لیے جا چکے ہیں۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ جہاں پولیس ڈرونز اور پاکستان کی سرحد پر توجہ نے ایک سپلائی روٹ میں خلل ڈالا ہے، وہیں فارماسیوٹیکل چینلز کی شکل میں ایک نیا اور زیادہ خطرناک نیٹ ورک سامنے آیا ہے۔ پولیس نے اطلاع دی ہے کہ طبی مقاصد کے لیے منشیات کو غیر قانونی مارکیٹ میں موڑ دیا جا رہا ہے، جو اس چیلنج کو مجرمانہ اور ریگولیٹری دونوں بناتا ہے۔

 

 

Continue Reading

دلی این سی آر

جامعہ کے طلبہ کی وی ایم اے سی 2026 میں شاندار کارکردگی

Published

on

نئی دہلی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فیکلٹی آف لاء نے ورچوئل میڈی ایشن ایڈووکیسی کمپٹیشن وی ایم اے سی) 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اپنے طلبہ عزیز عمر (تیسرے سال)، سیدہ یسرا (چوتھے سال) اور سارہ اظفر (تیسرے سال) کو مبارکباد پیش کی ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے طلبہ نے اس باوقار مقابلے میں 60 سے زائد ٹیموں کا مقابلہ کیا اور ثالثی (Mediation)، وکالت (Advocacy)، گفت و شنید (Negotiation) اور سہولت کاری (Facilitation) کے شعبوں میں غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
قابلِ تحسین کارکردگی کے اعتراف میں ٹیم کو 20,000 روپے کی وی ایم اے سی اسکالرشپ دی گئی۔ اس کے علاوہ ٹیم نے ‘اسپیشل ایوارڈز کیٹیگری’ میں پانچواں انعام بھی حاصل کیا، جس کے تحت اسے 1,000 روپے کی انعامی رقم دی گئی۔ اس طرح ٹیم نے مجموعی طور پر 21,000 روپے کے انعامات اور اعزازات حاصل کیے۔
یہ کامیابی طلبہ کی محنت، تیاری اور متبادل تنازعات کے حل (Alternative Dispute Resolution – ADR) کے شعبے میں اپنی مہارت کو فروغ دینے کے عزم کی عکاس ہے۔ ان کی شاندار کارکردگی سے فیکلٹی آف لاء کا وقار بلند ہوا ہے اور قومی و بین الاقوامی اے ڈی آر مقابلوں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بڑھتی ہوئی موجودگی میں ایک اور اہم کامیابی کا اضافہ ہوا ہے۔
فیکلٹی نے فیکلٹی آف لاء کے ڈین پروفیسر (ڈاکٹر) غلام یزدانی اور فیکلٹی کنوینر ڈاکٹر علیشہ خاتون کی مسلسل حوصلہ افزائی اور تعاون کا بھی اعتراف کیا، جنہوں نے طلبہ کو ADR مقابلوں میں شرکت اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے مواقع فراہم کیے۔
میڈی ایشن ایڈووکیسی امتحان میں بھی ٹیم نے غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 100 فیصد مجموعی اسکور کے ساتھ کامیابی سے امتحان مکمل کیا، جو میڈی ایشن ایڈووکیسی کی مہارتوں پر ان کی مضبوط گرفت کو ظاہر کرتا ہے۔
ٹیم نے پورے مقابلے کے دوران وقف شدہ رہنمائی، قیمتی مشوروں اور مسلسل تعاون کے لیے محترمہ اسرا مختار اور محترمہ خدیجہ مرزا کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
فیکلٹی آف لاء نے اس قابلِ تحسین کامیابی پر عزیز عمر، سیدہ یسرا اور سارہ اظفر کو دلی مبارکباد پیش کی اور ان کی آئندہ کوششوں میں مسلسل کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network