Connect with us

uttar pradesh

موٹر سائیکل چور گروہ کا پردہ فاش، تین گرفتار

Published

on

دیوبند:سرساوہ پولیس نے موٹر سائیکل چوری کرنے والے گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے ان کی نشاندہی پر نو چوری شدہ موٹر سائیکلیں برآمد کی ہیں۔
پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ملزمان نے سرساوہ کے علاوہ صدر بازار، چلکانہ اور ہریانہ میں بھی موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ گروہ کے کچھ دیگر ارکان کے نام بھی سامنے آئے ہیں، جن کی تلاش کی جا رہی ہے۔ ایس پی دیہات مینک پاٹھک نے پیر کی دوپہر پولیس لائن میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ سرساوہ علاقے میں مسلسل موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں کے پیش نظر پولیس نے چوری کے مقامات کو ہاٹ اسپاٹ کے طور پر نشان زد کیا تھا۔ مشتبہ گاڑیوں کی جانچ اور نگرانی کے لیے پولیس ٹیمیں تعینات کی گئی تھیں۔
اسی سلسلے میں ۳۱ ستمبر کو نکوڑ-سرساوہ روڈ پر ہائی وے پل کے نیچے جانچ کے دوران نتن کمار عرف روہت فوجی ساکن جھبیرن، ونس عرف راجا ساکن گدڑہیڑی اور گورو ساکن جھبیرن کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے بعد ملزمان کی نشاندہی پر نکوڑ روڈ پر واقع بند پڑے اینٹوں کے بھٹے کے کھنڈرات سے نو چوری شدہ موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں۔ ان میں اسپلیندر اور پلاٹینا سمیت مختلف ماڈل کی موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق برآمد موٹر سائیکلوں میں سے دو چوری کے درج مقدمات سے متعلق ہیں۔ پوچھ گچھ کے دوران ملزمان نے رادھا سوامی ست سنگ بیاس، سرساوہ اور پی جی آئی پلکھنی ہسپتال سمیت دیگر مقامات سے موٹر سائیکلیں چوری کرنے کی بات بھی بتائی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نشے کے عادی ہیں اور نشے کا خرچ پورا کرنے کے لیے موٹر سائیکلیں چوری کرتے تھے۔
پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چوری کی موٹر سائیکلیں دیہی علاقوں میں چھ سے آٹھ ہزار روپے میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ایس پی دیہات کے مطابق گروہ کے ارکان چوری کی موٹر سائیکلوں کو ٹھکانے لگانے سے پہلے ان کے چیسس اور انجن نمبر گھس کر مٹا دیتے تھے، تاکہ ان کی شناخت نہ ہو سکے۔ پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چوری کی کچھ موٹر سائیکلیں کاٹ کر ان کے پرزے ریہڑوں میں استعمال کیے جاتے تھے، جبکہ دیگر پرزے فروخت کر دیے جاتے تھے۔
پولیس اس سلسلے میں چوری شدہ گاڑیوں کے پرزے خریدنے والوں کے کردار کی بھی جانچ کر رہی ہے۔پوچھ گچھ میں تین چار روز قبل تیلی پورہ ٹھیکے کے قریب چابی لگی موٹر سائیکل چوری کرنے کی واردات کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ایس پی دیہات مینک پاٹھک نے بتایا کہ پوچھ گچھ کے دوران ہریانہ میں بھی موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں ملوث ہونے کی معلومات سامنے آئی ہیں۔ سرساوہ ہریانہ کی سرحد سے متصل ہونے کے باعث پولیس ہریانہ میں درج موٹر سائیکل چوری کے مقدمات سے بھی ملزمان کے تعلق کی جانچ کر رہی ہے۔ گروہ سے وابستہ دیگر افراد کی تلاش کے ساتھ متعلقہ مقدمات میں ضروری قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

uttar pradesh

دارالعلوم فاروقیہ دیوبند میں ششماہی امتحانات اختتام پذیر

Published

on

دیوبند:معروف دینی ادارہ دارالعلوم فاروقیہ دیوبند میں جاری تحریری و تقریری ششماہی امتحانات پیر کے روز حسن انتظام اور کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئے۔ کئی روز سے جاری امتحانات میں درجہ حفظ و ناظرہ، عربی اول تا دورہ حدیث شریف اور تکمیلِ افتاء سمیت تمام شعبہ جات و درجات کے طلبہ نے ذوق و شوق، علمی سنجیدگی اور محنت کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے اپنے پرچے حل کیے۔امتحانات کو شفاف، منظم اور پرسکون ماحول میں مکمل کرانے میں ادارے کے ذمہ داران، بالخصوص بانی و مہتمم مولانا نور الہدیٰ قاسمی بستوی کی سرپرستی اور شبانہ روز کاوشیں نمایاں رہیں۔ ان کی حسن تدبیر اور منظم حکمت عملی کے ساتھ اساتذہ کرام کی مسلسل نگرانی کے نتیجے میں امتحانی عمل بخوبی اپنے اختتام کو پہنچا۔
مدارس اسلامیہ کے تعلیمی نظام میں ششماہی امتحانات کو تعلیمی سال کے نصف سفر کا جائزہ تصور کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے قرآن کریم، احادیث مبارکہ، فقہ اسلامی اور علوم عربیہ میں طلبہ کی علمی استعداد، فہم اور گہرائی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ امتحانات کے اختتام پر دارالعلوم فاروقیہ دیوبند کے ارباب حل و عقد اور اساتذہ کرام نے اطمینان و مسرت کا اظہار کیا۔ مولانا نور الہدیٰ قاسمی بستوی نے امتحانات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ امتحان طلبہ کی علمی استعداد، فہم اور محنت کو پرکھنے کا اہم ذریعہ ہے۔ ششماہی امتحان تعلیمی سفر کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور آئندہ کے لیے مزید محنت و بہتری کی سمت متعین کرنے کا مؤثر وسیلہ ہے۔
مولانا نور الہدیٰ قاسمی بستوی نے تمام طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی نمایاں کامیابی، علمی و عملی ترقی، فہم دین میں رسوخ اور امت مسلمہ کے لیے نافع بننے کی دعا فرمائی۔ اب اساتذہ کرام کی جانب سے امتحانی کاپیوں کی جانچ کا مرحلہ شروع ہوگا، جس کے بعد نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ نتائج کے اعلان کے ساتھ تعلیمی سال کے بقیہ نصف حصے کی تعلیمی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔

Continue Reading

uttar pradesh

اکھلیش یادو سے آر روشن بیگ کی اہم ملاقات

Published

on

لکھنؤ: کرناٹک کے سابق وزیر اور سینئر سیاسی رہنما آر روشن بیگ نے اترپردیش کے دورے کے دوران مختلف مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور ریاست کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے دیوہ شریف اور مجگاوں شریف سمیت مختلف مقدس مقامات پر حاضری دے کر عقیدت کا اظہار کیا۔آر روشن بیگ نے دیوہ شریف میں حضرت حاجی وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے دربار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی، جبکہ مجگاوں شریف میں حضرت مخدوم شیخ سارنگ چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر بھی حاضری دے کر عقیدت پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے ملک میں امن، بھائی چارے، سماجی ہم آہنگی اور عوام کی خوشحالی کے لیے دعا کی۔
دورے کے دوران آر روشن بیگ نے اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال، بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ ماحول کے خدشات، عوامی مسائل اور حالاتِ حاضرہ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں سہارنپور کے مسجد سے متعلق معاملے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس کے علاوہ ریاست میں مختلف طبقات کے درمیان پیدا ہونے والی بے چینی، امن و امان کی صورتحال اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ حالات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے عوامی مفادات سے متعلق مسائل پر گفتگو کی۔ملاقات کا ایک اہم موضوع اترپردیش میں عنقریب ہونے والے اسمبلی انتخابات بھی رہا۔ آر روشن بیگ اور اکھلیش یادو نے انتخابات کے ممکنہ سیاسی منظرنامے، عوامی توقعات اور مختلف طبقات کے سیاسی رجحانات پر تبادلۂ خیال کیا۔ خاص طور پر مسلمانوں کی توقعات، سیاسی ترجیحات اور انہیں درپیش خدشات کے علاوہ ریاست میں ان کے سماجی، تعلیمی اور سیاسی مسائل بھی گفتگو کا حصہ رہے۔
آر روشن بیگ نے اپنے دورۂ اترپردیش کے دوران سینئر صحافیوں اور دانشوروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ریاست کے موجودہ حالات، سیاسی تبدیلیوں، سماجی مسائل اور ملک میں رونما ہونے والی اہم پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ صحافتی اور دانشورانہ حلقوں کے ساتھ بات چیت میں عوامی مسائل کو وسیع تناظر میں سمجھنے اور مختلف نقطۂ نظر جاننے پر بھی توجہ رہی۔سیاسی مبصرین کے مطابق اترپردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیوں میں بتدریج تیزی آرہی ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں عوامی مسائل اور مختلف سماجی طبقات کی توقعات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں آر روشن بیگ کی سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور دانشوروں سے ملاقاتوں کو ریاست کے موجودہ حالات کا جائزہ لینے اور مختلف حلقوں کے خیالات جاننے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔آر روشن بیگ کے دورے میں مذہبی عقیدت کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی سطح پر رابطوں کو بھی اہمیت دی گئی۔ دیوہ شریف اور مجگاوں شریف میں روحانی شخصیات کے مزارات پر حاضری کے علاوہ اکھلیش یادو اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتوں کے ذریعے انہوں نے اترپردیش کی سیاسی، سماجی اور عوامی صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔

Continue Reading

uttar pradesh

نقلی سکے بنانے والے بین ریاستی گروہ کا سرغنہ سمیت 5 گرفتار

Published

on

دیوبند:20 روپے کے نقلی سکے تیار کرکے بازار میں کھپانے والے بین ریاستی گروہ کا پولیس نے انکشاف کرتے ہوئے سرغنہ سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ایس ایس پی ابھینندن کے مطابق کوتوالی نگر پولیس، ایس او جی، سواٹ اور سرویلنس کی مشترکہ ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے پنجاب کے زیرک پور کے رہنے والے گروہ کے سرغنہ اپکار لوتھرا عرف ابھے پرتاپ سنگھ سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 20 روپے کے 6400 جعلی سکے، 500 روپے کے 20 جعلی نوٹ، سکے بنانے والی چھ مشینیں،59 ڈائیاں، تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کے نیم تیار سکے، آٹھ موبائل فون اور دو کاریں برآمد کی ہیں۔ سہارنپور پولیس لائن میں پریس کانفرنس کے دوران ایس ایس پی ابھینندن نے بتایا کہ اپکار لوتھرا سال 2001 سے جعلی سکے بنانے کے دھندے سے وابستہ تھا۔ ابتدا میں وہ چاندی کے سکے تیار کرتا تھا۔
ان کے مطابق جیل میں رہنے کے دوران اس کے کچھ لوگوں سے رابطے ہوئے اور جیل سے باہر آنے کے بعد انہی رابطوں کی بنیاد پر اس نے جعلی سکے تیار کرنے اور انہیں بازار میں کھپانے کا نیٹ ورک قائم کیا۔ ایس ایس پی کے مطابق گروہ میں کل آٹھ افراد شامل تھے، جن میں سے پانچ کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جبکہ تین فرار ارکان کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کے مطابق گروہ کے پاس روزانہ تقریباً ۰۱ سے ۲۱ ہزار جعلی سکے تیار کرنے کی صلاحیت تھی۔
جعلی سکوں کی فنشنگ اس انداز میں کی جاتی تھی کہ پہلی نظر میں انہیں پہچاننا مشکل ہوتا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمان انہیں چھوٹے دکانداروں، شراب کے ٹھیکوں، ٹول ٹیکس اور دیگر مقامات پر کھپاتے تھے۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ 21ستمبر کو کی گئی کارروائی کے دوران پانچوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے قبضے سے 20 روپے کے 6400 جعلی سکے، 500 روپے کے 20 جعلی نوٹ، سکے بنانے والی چھ مشینیں، 59 ڈائیاں، ڈائی پالش مشین، گھسائی کے پتھر، ریتی، ہتھوڑے، آری، رینچ، شکنجا، الیکٹرانک کانٹا اور اوون سمیت دیگر آلات برآمد ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ حساب کتاب کے سات رجسٹر اور پیڈ اور ایک چیک بک بھی برآمد ہوئی ہے۔ ایس ایس پی ابھینندن کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ملزمان نے گزشتہ چھ ماہ میں اب تک 70 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے جعلی سکے بازار میں کھپانے کی بات بتائی ہے۔ پولیس برآمد شدہ رجسٹروں، موبائل فونز اور دیگر دستاویزات کی بنیاد پر اس دعوے کی جانچ کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جعلی سکوں کی سپلائی اور کھپت سے وابستہ نیٹ ورک کا بھی سراغ لگایا جارہا ہے۔ ایس ایس پی کے مطابق گروہ کے ارکان سہارنپور میں بھی جعلی سکے بنانے کا پلانٹ لگانے کی تیاری کررہے تھے، تاہم اس سے پہلے ہی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گروہ کا انکشاف کردیا۔ گرفتار ملزمان میں اپکار لوتھرا عرف ابھے پرتاپ سنگھ، ہمانشو عرف گلّو ساکن علاقہ تیتروں، کلدیپ ساکن مظفر نگر، سنتوش چورسیا عرف جناردھن ساکن مدھوبنی، بہار اور انوراگ پال عرف لنکیش ساکن بھدوہی شامل ہیں۔ ایس ایس پی ابھینندن کے مطابق ۲۱ ستمبر کو پولیس نے تقریباً ایک لاکھ ۰۲ ہزار روپے مالیت کے جعلی ۰۲ روپے کے سکوں کے ساتھ دو افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ان سے پوچھ گچھ کے بعد پولیس مرکزی سپلائر اور جعلی سکے تیار کرنے والے نیٹ ورک تک پہنچی۔ اسی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے پانچ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس اب تین فرار ارکان کے علاوہ جعلی سکوں کی سپلائی اور کھپت سے وابستہ دیگر افراد کی بھی تلاش کررہی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network