Connect with us

Bihar

تنظیمی قوت سے ہی مسائل و مشکلات کا حل ممکن:مفتی محمد سہراب ندوی،تنظیم امارت ضلع شیوہر کے عہدہ داران و ارکان کو اسناد کی تفویض اور ہدایات و اختیارات سے آگاہی

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:اس وقت بدلتے ہوئے حالات نے ملت کے سامنے جتنے مسائل و مشکلات کھڑے کر دئیے ہیں قریب کی تاریخوں میں اس کی نظیر کم ملتی ہے ،بات صرف شہریت کے تحفظ و بقاء کی نہیں ؛بلکہ ایمان اور ایمان کے بنیادی تقاضوں پر عمل اور ایمانی شناخت کی حفاظت بھی سنگین خطرات کے گھیرے میں ہے ، دن کے اجالے میں جس طرح دستور کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور بنیادی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے وہ ہر حساس صاحب ایمان کو بے چین کر دینے کے لئے کافی ہے۔
حالات کی تفصیلات آپ حضرات سے مخفی نہی ہیں ،کیا ایسی صورت حال میں باعزت ،باضمیر اور مومنانہ شناخت کے ساتھ زندگی گذارنے کے لئے فکرمند ہونا ہم سب کی ذمہ داری نہیں ہے ؟مشکلات سے گھبرانا اور حالات کے سامنے بلا سوچے سمجھے سرنگوں ہو جانا نہ ایمان کا تقاضہ ہے اور نہ انصاف کا ،ضرورت ہے کہ ملک کے دستور و آئین کو سامنے رکھتے ہوئے قدم کو آگے بڑھایا جائے اور حوصلہ مندی کے ساتھ حسن تدبیر کو کام میں لایا جائے ،حالات سے مایوسی اگر کفر ہے تو خوف و ہراس میں مبتلا ہونا بھی ایمان کے منافی ہے ،امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ پھلواری شریف ،پٹنہ نے ہمیشہ ایسے مواقع پر مختلف پہلوؤں سے ملت کو بیدار رکھنے اور ملی وجود کی بقاء کے لئے جدوجہد کرنے کے سلسلہ میں عملی کردار نبھایا ہے ،آج بھی مختلف تدبیروں کو رو بہ عمل لانے کے ساتھ امارت شرعیہ چاہتی ہے کہ کلمہ گو افراد نظم و اتحاد کی ایسی راہ اختیار کریں جس سے نہ صرف اندرونی استحکام حاصل ہو ؛بلکہ اس کے ذریعہ مسائل و مشکلات حل ہو سکیں ۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تنظیمی قوت سے ہی مسائل ومشکلات حل ہوئے ہیں اور آج بھی اسی راہ سے مشکلات کے حل کی امید کی جا سکتی ہے ،امارت شرعیہ کے تحت بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال چاروں صوبوں کی اکثر مسلم آبادیوں میں تنظیم امارت قائم ہے ،ضرورت تھی کہ اس تنظیمی ڈھانچہ کو ان چاروں صوبوں میں گاؤں سے لے کر پنچایت ،پنچایت سے لے کر بلاک اور بلاک سے لے کر ضلع کی سطح پر تنظیمی کڑی کے ذریعہ منظم کیا جائے،چنانچہ اس تنظیمی کڑی کو مکمل کرنے کا کام جاری ہے ،ضلع شیوہر میں ضلع کمیٹی کی تشکیل کے بعد اسناد کی تفویض اور ہدایات و اختیارات سے آگاہی کے لئے منعقد یہ میٹنگ در اصل اسی سرگرمی کا ایک اہم حصہ ہے ،ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے نائب ناظم جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی انچارج شعبۂ تبلیغ و تنظیم امارت شرعیہ نے مدرسہ اسلامیہ عربیہ ڈومری شیوہر کے وسیع جامع مسجد میں منعقد تنظیم امارت شرعیہ ضلع شیو ہر کے عہدہ داران و ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے صدارتی گفتگو میں کیا۔
واضح رہے مورخہ ۱۳؍ستمبر ۲۰۲۶ ء کو امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کی ہدایت اور ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب کے مشورہ سے تقسیم اسناد اور تفویض اختیارات کے عنوان سے تنظیم امارت ضلع شیوہر کے عہدہ داران و ارکان کی باوقار تقریب اور شاندار میٹنگ منعقد ہوئی ،ضلع تنظیم شیوہر میں مختلف طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک سو چھیاسٹھ (۱۶۶) افراد کو شامل کیا گیا ہے ،میٹنگ میں شریک تمام عہدہ دران و ذمہ داران کو محترم نائب ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی ،مولانا قمر انیس قاسمی معاون ناظم اور قاضی شریعت شیوہر مولانا فخرالدین قاسمی کے ہاتھوں حضرت امیر شریعت مدظلہ کی طرف سے جاری عہدے کی سند دی گئی اور ہدایات و اختیارات پر مشتمل تحریر سپرد کی گئی ۔جناب ماسٹر فخرالحسن صاحب ڈومری شیوہر کو بحیثیت صدر اور جناب مولانا مفتی اعجاز احمد قاسمی صاحب سوگیا کو بحیثیت سکریٹری سند سے نوازا گیا۔ایسے تمام اضلاع جہاں تنظیمی ڈھانچے کی تکمیل یا تجدید کی ضرورت ہے اسے پورا کیا جا رہا ہے اور ان اضلاع میں بھی اس طرح کی میٹنگوں کے انعقاد کی تیاری جاری ہے ،حضرت امیر شریعت مدظلہ اور ناظم امارت شرعیہ بھی اس سلسلہ میں بے حد فکر مند ہیں اور ان کی منشاء ہے کہ ہر ضلع میں ایسے متحرک افراد کی ٹیم تیار ہو جو ہر وقت ملی خدمت کے لئے مستعد و تیار رہے ،اس میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے معاون ناظم امارت شرعیہ جناب مولاناقمر انیس قاسمی صاحب نے کہاکہ امارت شرعیہ کی سو سالہ روشن تاریخ گواہ ہے کہ ہر مشکل موقع پر امارت شرعیہ کی طرف سے فکری اور عملی رہنمائی ملت کو حاصل رہی ہے ،انہوں نے امارت شرعیہ کی فکر اور اس کی تحریکی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی ،قاضی شریعت جناب مولانا فخرالدین قاسمی صاحب نے میٹنگ کی نظامت کی اور افتتاحی خطاب کیا،میٹنگ کا آغاز مفتی فیاض قاسمی کی تلاوت سے ہوا ،نعت پاک مولانا جلال الدین ندوی نے پیش کی ،نومنتخب صدر ماسٹر فخرالحسن صاحب نے اپنے تأثرات کے اظہار کے ساتھ شکریہ کے کلمات کہے ، مولانا محمد نوشاد عالم مظاہری اور مولانا احمد حسین قاسمی مبلغین امارت شرعیہ نے قاضی صاحب کے تعاون سے میٹنگ کو کامیاب بنایا ،میٹنگ میں شریک تمام عہدہ داران و ارکان نے حضرت امیر شریعت کی ہدایات اور مفوضہ ذمہ داریوں کو نبھانے کے سلسلے میں مضبوط عزم کا اظہار کیا ۔

Bihar

ٹرین کے اے سی کوچ سے نوجوان لڑکی 15.8 کلو گاگانجے کے ساتھ گرفتار

Published

on

(پی این این)
گیا جی: ٹرین میں سفر، اے سی-2 کوچ اور بیگ میں 15 کلو 800 گرام گانجا! گیا جنکشن پر پیر کی رات منشیات کی اسمگلنگ کے ایک ایسے معاملے نے ریلوے پولیس کو چونکا دیا، جس میں ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر گانجے کی بڑی کھیپ کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ برآمد گانجے کی قیمت تقریباً سات لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ بھونیشور تیجس راجدھانی ایکسپریس کے اے سی-2 ٹائر کوچ میں مشتبہ انداز میں سفر کر رہی لڑکی پر خفیہ اطلاع کے بعد آر پی ایف، سی آئی بی اور جی آر پی کی مشترکہ ٹیم کی نظر پڑی۔ تلاشی کے دوران اس کے بیگ سے گانجے کی بھاری مقدار برآمد ہوتے ہی ٹرین میں ہلچل مچ گئی۔ پولیس نے گانجا ضبط کرکے لڑکی کو گرفتار کرلیا۔
آر پی ایف انسپکٹر بنارسی یادو کے مطابق گرفتار لڑکی جھاج پور سے نئی دہلی جا رہی تھی اور وہ گیا کی رہنے والی بتائی گئی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ 15.8 کلو گانجا کہاں سے آیا؟ کس نے دیا؟ دہلی میں کس کے حوالے ہونا تھا؟ اور اس پوری کھیپ کے پیچھے کون ہے؟ریلوے پولیس ان سوالات کے جواب تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ گرفتار لڑکی سے پوچھ گچھ کے دوران ملنے والی معلومات کی بنیاد پر اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس گرفتاری نے منشیات اسمگلنگ کے بدلتے انداز پر بڑا سوال کھڑا کردیا ہے۔ کیا اسمگلر اب عام کوچوں کے بجائے اے سی کوچ کو محفوظ راستہ سمجھنے لگے ہیں؟ کیا خواتین اور لڑکیوں کو پولیس کی نظروں سے بچنے کے لیے کوریئر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ گیا کی اس کارروائی نے ان سوالات کو مزید گہرا کردیا ہے۔حالیہ دنوں میں پٹنہ اور سمستی پور میں خواتین کے ذریعے شراب کی اسمگلنگ کے معاملات سامنے آ چکے ہیں۔ سمستی پور میں اے سی فرسٹ کلاس سے غیر ملکی شراب کے ساتھ ایک لڑکی اور اس کے بہنوئی کی گرفتاری، جبکہ پٹنہ جنکشن پر ایک طالبہ کے شراب کے ساتھ پکڑے جانے کے بعد اب گیا میں لڑکی کے ذریعے گانجے کی اتنی بڑی کھیپ پکڑے جانے سے خواتین کو ’کوریئر‘ بنانے کے ممکنہ رجحان پر تفتیشی ایجنسیوں کی نظر ٹک گئی ہے۔
15.8 کلو گانجا برآمد ہونا محض ایک گرفتاری نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود سپلائی چین کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ ریلوے پولیس اب یہ جاننے میں مصروف ہے کہ اس کھیپ کا اصل سپلائر کون تھا، اسے کس نے لڑکی کے حوالے کیا اور دہلی میں اسے کس کے حوالے کیا جانا تھا۔گیا جنکشن پر سات لاکھ روپے کی گانجے کی کھیپ کے ساتھ لڑکی کی گرفتاری نے ریلوے میں منشیات کی اسمگلنگ کے نئے راستوں، اے سی کوچ کے ممکنہ استعمال اور خواتین کو کوریئر بنائے جانے کے خدشے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Continue Reading

Bihar

گیاجی: شبھ کامنا اسپتال پر علاج میں غفلت کا الزام

Published

on

(پی این این)
گیا جی: شہر کے شبھ کامنا ہارٹ ہاسپٹل اینڈ میٹرنٹی سینٹر میں مریض کی موت کے بعد مبینہ طبی غفلت کو لے کر اہل خانہ کا غصہ پھوٹ پڑا۔ اہل خانہ نے ہاسپٹل کے ڈاکٹر پر علاج میں لاپروائی، غلط دوا دینے اور مبینہ طور پر اوور ڈوز کے باعث مریض کی حالت بگاڑنے جیسے سنگین الزامات عائد کئے۔ موت کے بعد اہل خانہ نے ہاسپٹل کے باہر زبردست ہنگامہ کیا۔ اطلاع ملنے پر رام پور تھانہ کی پولیس موقع پر پہنچی اور کافی مشقت کے بعد حالات کو قابو میں کیا۔ پولیس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق مانپور بلاک کے نارائن نگر کے رہنے والے سابق پنچایت سکریٹری سدھیشور پرساد کی طبیعت تقریباً 20 روز قبل اچانک خراب ہوئی تھی۔ ان کے بیٹے وپن کمار نے انہیں شبھ کامنا ہارٹ ہاسپٹل اینڈ میٹرنٹی سینٹر میں داخل کرایا۔ اہل خانہ کے مطابق جانچ کے دوران دل میں بلاکیج کی بات سامنے آئی، جس کے بعد ڈاکٹروں نے آپریشن کرکے دو اسٹنٹ لگائے۔اہل خانہ کا الزام ہے کہ اسٹنٹ لگانے کے بعد ڈاکٹر امن سنہا نے اسٹنٹ صحیح طریقے سے لگ جانے کی بات کہتے ہوئے مریض کو گھر لے جانے کا مشورہ دیا اور تقریباً ایک ماہ بعد دوبارہ مشورے کے لئے بلایا۔ اس کے بعد مریض کی طبیعت مسلسل بگڑتی رہی۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ وہ کئی مرتبہ ہاسپٹل پہنچے اور مریض کی حالت کے بارے میں معلومات لینے کے ساتھ بہتر علاج کے لئے دوسرے ہاسپٹل لے جانے کی اجازت بھی مانگی، لیکن انہیں مسلسل یہ کہہ کر مطمئن کیا جاتا رہا کہ اسٹنٹ لگ چکا ہے اور اب کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
متوفی کے بیٹے وپن کمار نے الزام لگایا کہ ان کے والد کو ضرورت سے زیادہ دوائیں دی گئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دل کے مرض کے علاج کے لئے ضروری دواؤں کے بجائے دوسری دوائیں دی گئیں اور مبینہ اوور ڈوز کی وجہ سے مریض کی حالت مسلسل خراب ہوتی چلی گئی۔ اہل خانہ کے مطابق علاج کے نام پر اب تک تقریباً چار لاکھ روپے خرچ ہو چکے تھے، اس کے باوجود مریض کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
وپن کمار کے مطابق موت سے ایک روز قبل بھی وہ اپنے والد کو لے کر ہاسپٹل پہنچے تھے اور ان کی سنگین حالت کو دیکھتے ہوئے داخل کرنے کی درخواست کی تھی۔ الزام ہے کہ اس وقت بھی مریض کو داخل نہیں کیا گیا۔ اگلے ہی روز مریض کی موت ہوگئی۔ موت کی خبر ملتے ہی اہل خانہ مشتعل ہوگئے اور ہاسپٹل کے باہر ہنگامہ شروع کردیا۔
اہل خانہ نے محکمہ صحت سے پورے معاملے کی غیر جانب دار میڈیکل جانچ کرانے، علاج کے دوران دی گئی دواؤں اور ان کی مقدار کی جانچ کرنے اور اگر طبی غفلت ثابت ہو تو ہاسپٹل اور متعلقہ ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر ڈاکٹر امن سنہا کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کا فون نہیں لگا۔ ان کی بہن ڈاکٹر میگھا سنہا نے کہا کہ یہ ایمرجنسی ہاسپٹل ہے اور یہاں مریضوں کی اموات ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ اب پُرسکون ہوچکا ہے اور اہل خانہ لاش لے کر چلے گئے ہیں۔رام پور تھانہ کے تھانیدار دنیش بہادر سنگھ نے بتایا کہ مریض کی موت کے بعد ہاسپٹل کے باہر اہل خانہ کے ہنگامے کی اطلاع ملی تھی۔ پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو پُرسکون کرایا۔ انہوں نے کہا کہ پورے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔

Continue Reading

Bihar

شیرگھاٹی میں سیرت النبیؐکوئز مقابلہ کی شاندار تقریب کا انعقاد

Published

on

شیرگھاٹی:(پی این این) اہلِ سنت فاؤنڈیشن، سب ڈویژن شیرگھاٹی کی جانب سے طلبہ و طالبات میں سیرتِ طیبۂ رسولِ اکرم ﷺ سے محبت، دینی شعور اور علمی ذوق پیدا کرنے کے مقصد سے منعقدہ سیرت النبی ﷺ کوئز مقابلہ کے کامیاب انعقاد کے بعد آج بروز اتوار، 13 ستمبر 2026ء کو نور کمیونٹی میرج ہال، لودی شہید، شیرگھاٹی میں تقریبِ تقسیمِ انعامات و اسناد نہایت شاندار اور پُروقار انداز میں منعقد ہوئی۔
واضح رہے کہ 6 ستمبر کو منعقد ہونے والے اس کوئز مقابلے میں شیرگھاٹی کے مختلف مدارس، اسکولوں، کوچنگ سینٹروں اور تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے 900 سے زائد طلبہ و طالبات نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی تھی۔ مقابلے میں سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ، اخلاق و کردار، شمائل و خصائل، غزوات، اہلِ بیتِ اطہار، صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اسلامی تاریخ سے متعلق سوالات شامل کیے گئے تھے۔
تقریبِ تقسیمِ انعامات کو طلبہ و طالبات کی سہولت کے پیشِ نظر دو حصوں میں منعقد کیا گیا۔ صبح 9 بجے سے 11 بجے تک طلبہ جبکہ دوپہر 12 بجے سے 2 بجے تک طالبات کے لیے پروگرام منعقد ہوا۔ دونوں نشستوں میں طلبہ و طالبات، والدین، اساتذہ، علمائے کرام اور معززینِ شہر کی ایسی کثیر تعداد شریک ہوئی کہ نور کمیونٹی میرج ہال اپنی گنجائش کے اعتبار سے چھوٹا محسوس ہونے لگا۔ شہر میں پروگرام کی غیر معمولی شرکت اور پُرجوش ماحول نے اہلِ شیرگھاٹی کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔
پروگرام کی صدارت حضرت علامہ و مولانا شمیم خان صاحب نے فرمائی، جبکہ سرپرستی حضرت علامہ مفتی مظفر حسین مصباحی صاحب قاضی شہر گیا نے فرمائی۔ یہ پروگرام حضرت مولانا سرفراز خان صاحب خطیب و امام لودی شہید مسجد (شیر گھاٹی )کے زیر نگرانی نہایت ہی اہتمام کے ساتھ منعقد کیا گیا اس موقع پر مولانا حامد صاحب، مولانا طاہر صاحب حافظ آصف صاحب،مفتی تحسین صاحب ،مفتی فضیل صاحب ،مفتی صدام ازہری صاحب ،مولانا سیدشاداب منظر ،قاری شرافت صاحب مولانا شارق صاحب ،حافظ ساجد صاحب، مولانااشرف صاحب، مولانا امتیاز صاحب،حافظ مدثر نظر صاحب، قاری توقیر صاحب ،حافظ شبیرصاحب،حافظ سرفراز صاحب،حافظ ممتاز صاحب، مولانا ندیم صاحب ،سید شعیب عالم ، شمس تبریز، نسیم سر ،احسان سر ،دلشاد سر ،عمران علی صاحب،محمد علی،معین اشرفی ،کیفی سر ،سید نجیب اختر ،دانشسر،اکرام سر ،وسیم خان سر ،سرفرازسر،الحاج سبکتگین خان،شبیر فردوسی صاحب، سہراب خان صاحب، کلام الدین سر سمیت علاقے کے متعدد جید علمائے کرام، ائمۂ مساجد، مفتیانِ عظام، اساتذہ اور دانشورانِ قوم و ملت نے شرکت فرمائی اور طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔
تقریب میں کوئز مقابلے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کو خصوصی طور پر اعزاز سے نوازا گیا۔ اول پوزیشن حاصل کرنے والے تین طلبہ و طالبات کو سِلائ مشن، میڈل اور اسناد پیش کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی، جبکہ دیگر نمایاں کامیاب طلبہ و طالبات کو ٹیبل فین، میڈل اور اسناد سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ مقابلے میں شریک سینکڑوں طلبہ و طالبات کو میڈل، جائے نماز، قلم اور سندِ شرکت پیش کی گئی۔انعامات اور اسناد کی یہ وسیع سطح پر تقسیم تقریب کا ایک نمایاں اور منفرد پہلو رہی، جس کے باعث طلبہ و طالبات کے چہروں پر خوشی، جوش اور حوصلے کے نمایاں آثار دیکھنے میں آئے۔ والدین اور اساتذہ نے بھی اہلِ سنت فاؤنڈیشن کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے اسے نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے ایک مؤثر قدم قرار دیا۔
اس موقع پر علمائے کرام نے اپنے خطابات میں کہا کہ نئی نسل کو سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ سے جوڑنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سیرت النبی ﷺ سے متعلق علمی و تعلیمی سرگرمیاں بچوں کے اندر محبتِ رسول ﷺ، دینی شعور، اخلاق و کردار، مطالعے کا ذوق اور اسلامی شناخت کو مضبوط کرتی ہیں۔ ایسے پروگرام محض ایک مقابلہ نہیں بلکہ نسلِ نو کی فکری و اخلاقی تربیت کا مؤثر ذریعہ ہیں۔اہلِ سنت فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقدہ اس پروگرام نے شیرگھاٹی میں سیرتِ رسول ﷺ کے حوالے سے ایک نئی علمی و تعلیمی فضا قائم کرنے کا پیغام دیا۔ 900 سے زائد طلبہ و طالبات کی شرکت اور تقسیمِ انعامات کے موقع پر عوام کی غیر معمولی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت رہی کہ شہر کے عوام اپنی نئی نسل کو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے وابستہ دیکھنے کے خواہاں ہیں۔تقریب کے اختتام پر اہلِ سنت فاؤنڈیشن کی جانب سے تمام علمائے کرام، اساتذہ، تعلیمی اداروں، والدین، معاونین، منتظمین اور تمام شرکائے پروگرام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا، جن کے تعاون سے یہ عظیم الشان پروگرام کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ پُروقار، پُرجوش اور روح پرور ماحول میں منعقد ہونے والی یہ تقریب شیرگھاٹی کی دینی و تعلیمی سرگرمیوں میں ایک نمایاں یادگار کے طور پر اپنی ایک منفرد شناخت قائم کر گئی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network