Connect with us

uttar pradesh

مسجد کے انہدام کا معاملہ انتہائی اہم اور حساس

Published

on

دیوبند:کلکٹریٹ مسجد کے انہدام کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا ایک وفد سہارن پور پہنچا، جس میں بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس اور سکریٹری ڈاکٹر یاسین علی عثمانی، نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل، شامل تھے۔
وفد نے شہر قاضی ندیم اختر کی رہائش گاہ پر قاضی ندیم اختر، مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی، کل ہند کنوینر آل انڈیا ملی یوتھ آرگنائزیشن (ملی کونسل) و مہتمم جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ میرٹھ، بھائی حیدر رؤوف، سعد قاضی اور وکلاء کی ایک ٹیم سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفد کو کلکٹریٹ مسجد کے انہدام سے متعلق پوری صورتحال، قانونی کارروائی اور اب تک کی پیش رفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ آئندہ کے لائحہ عمل اور قانونی و آئینی طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔
اس موقع پر قاضی ندیم اختر نے وفد کو معاملے کی مکمل تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مسجد کے انہدام کا معاملہ انتہائی اہم اور حساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام قانونی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے آئینی اور پُرامن طریقے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک مسجد کا نہیں بلکہ ملک میں قانون، انصاف اور باہمی احترام کے اصولوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ معاملے کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے اور تمام متعلقہ پہلوؤں پر قانونی ماہرین کے مشورے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد نے مقامی ذمہ داران اور وکلاء کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کو بغور سنا اور یقین دلایا کہ معاملے کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے کر آئندہ کی حکمت عملی پر مناسب طور پر پیش رفت کی جائے گی۔

uttar pradesh

وزیر اعلیٰ پر قابل اعتراض معاملہ میں ہدیٰ زری والاکو ضمانت ،جیل سے رہا

Published

on

دیوبند:سہارنپور کلکٹریٹ احاطہ میں واقع مسجد کے انہدام سے متعلق صوبائی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے پر گرفتار کی جانے والی سماجی کارکن ھدیٰ زری والا کو بدھ کے روز ضلع مجسٹریٹ کی عدالت سے ضمانت مل گئی ہے ۔ضمانت ملنے کے بعد دوپہر کے بعد انہیں جیل سے رہا کردیا گیا ۔جیل سے باہر آنے پر کانگریس کے شہر صدر منیش تیاگی سمیت سماجی کارکنان نے ان کا استقبال کیا ۔واضح ہو کہ مسجد کی انہدامی کا رروائی سے ناراض صوبائی وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے بارے میں نام نہاد قابل اعتراض اور بھڑ کائو تبصرہ کئے جانے کے الزام میں پولیس نے ھدیٰ زری والا کے خلاف کارروائی کی تھی ۔پولیس نے دشنیت سنگھ ایڈوکیٹ کی تحریر پر مقدمہ درج کرکے نقض امن کی دفعات کے تحت چالان کرکے جیل بھیج دیا تھا ۔پولیس کے مطابق شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ دہلی کی باشندہ ھدیٰ زری والا نے مسجد کی انہدامی کا رروائی پر سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر صوبائی وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا ۔اس سلسلہ میں ان کا ایک ویڈیو بھی وائر ل ہوا تھا ۔شکایت کنندہ نے مذکورہ تبصرہ سے علاقہ کا امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا ۔بتایا جاتا ہے کہ پیر کے روز سرکٹ ہائوس میں سماجوادی نمائندہ وفد کے ساتھ جانے پر ھدیٰ زری والا کی پولیس کے ساتھ بحث ہوگئی تھی ۔خواتین پولیس کی جانب سے انہیں وہاں سے ہٹانے کی کوشش کے دوران ماحول کشیدہ ہوگیا تھا جس کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا ۔بدھ کے روز شہر مجسٹریٹ کلدیپ سنگھ کی عدالت میں اس معاملہ کی سماعت ہوئی جہاں سے ھدیٰ کو ضمانت دیدی گئی بعد ازاں انہیں جیل سے رہا کردیا گیا ۔اس معاملہ سونو پٹھان موسیٰ ایڈوکیٹ ،سماجی کارکن ذیشان حید ر ملک اور مراد آباد کے دانش خاں سمیت دیگر افراد نے ان کی پیر وی میں تعاون کیا ۔

Continue Reading

uttar pradesh

دیوبند میں بجلی چیکنگ کے دوران کاٹے گئے 21کنکشن

Published

on

دیوبند:پاور کارپوریشن ٹیم نے دیوبند میں سخت چیکنگ مہم چلاکر 3؍ لا کھ روپے سے زائد رقم بقایا بل وصول کی اور بل جمع نہ کرنے والے 21؍بجلی صارفین کے کنکشن کاٹے گئے ۔تفصیل کے مطابق بجلی بلوں کی بقایا رقومات کی وصولی کے لئے پاور کارپوریشن کی جانب سے چلا ئی جانے والی سخت چیکنگ مہم کے دوران بجلی افسران کی ٹیم نے بل جمع نہ کرنے والے 21؍بجلی صارفین کے بجلی کنکشن کاٹ دیئے ۔
وہیں اس چیکنگ مہم کے دوران 3؍ لاکھ 4؍ہزار روپے کی بقایا رقم کی وصولی بھی کی ۔پاورکارپوریشن کے ایگزیکیٹیو انجینئر انکت کمار وششٹھ اور جونیئر انجینئر سنتوش کمار کی نگرانی میں بجلی ٹیم نے سہارنپور مظفر نگر ہائی وے پر واقع بابوپور روڈ ،گاندھی کالونی اور لال والا روڑ پر یہ چیکنگ مہم چلائی ۔
چیکنگ کے دوران بجلی افسران واضح طور کہا کہ بجلی کے بل جمع نہ کرنے والے بقایا داراوں کے خلاف یہ مہم آئندہ جاری رہے گی ۔
جونیئر انجینئرسنتوش کمار نے بجلی صارفین سے اپیل کی کہ وہ مشکلات اور کنکشن کاٹے جانے کی کارروائی سے بچنے کے کے لئے اپنے بجلی بلوں کے بقایا رقومات کو فوراً جمع کرائیں ۔اس چیکنگ مہم میں وجے کمار شرما ،بشٹھ کو ٹھاری ،محمد ذیشان ،رنکوکمار ،سنجیو کمار اور پریم سنگھ سمیت دیگر بجلی کارکنان شامل رہے ۔

Continue Reading

uttar pradesh

ڈا کٹر یونس غازی ؔکے قطعات مرقع نگاری کا اعلیٰ نمو نہ :پروفیسر فاروق بخشی

Published

on

میرٹھ:میرٹھ کالج میں کئی ایسی ادبی شخصیات بھی آئیں جنہوں نے یہاں کی مٹی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ ایسے ہی اساتذہ میں ڈاکٹر یونس غازیؔ کابھی نام شامل ہے جنہوں نے یہاں رہ کر بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔
 آج یہاں ان کی دو کتابوں ”شعرائے دبستان میرٹھ“ ]قطعات کا مجمو عہ [اور حمدیہ مجموعہ”للہ الحمد“ کا اجراء عمل میں آ یا۔یہ دونوں کتابیں بہت عمدہ ہیں۔ آپ کا اسلوب، طرز ادا لاجواب ہے۔ ان قطعات میں جدت ہے جو مرقع نگاری کا اعلیٰ نمو نہ ہیں۔ یہ ایک ایسی تالیف ہے جو ایک مستند حیثیت رکھتی ہے۔یہ الفاظ تھے معروف شاعر اور سابق صدر شعبہئ اردو فاروق بخشی کے جو یہاں شعبہئ اردو کے زیر اہتما م منعقدڈاکٹر محمد یونس غازی ؔ کی شعری کاوشوں ”للہ الحمد“اور”شعرائے دبستان میرٹھ“ کی شاندار رسم اجراء کے پروگرام کے دوران مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈا کٹر یونس غازی کا مطا لعہ تو ہے ہی لیکن ان کا مشاہدہ بھی کمال کاہے اور یہ ساری باتیں انہیں ایک قادر الکلام شاعر ثابت کر نے کے لیے کا فی ہیں۔
اس سے قبل پروگرام کا آغازمحمد ندیم نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔ بعد ازاں فرحت اختر نے اپنی خوبصورت آواز میں ڈاکٹر یونس غازیؔ کی نعت پاک پیش کر کے سماں باندھ دیا۔مہمانوں کا پھولوں کے ذریعے استقبال کیا گیا۔ صدارت کے فرا ئض معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے انجام دیے اور مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے معروف شاعر اور سابق صدر شعبہئ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یو نیورسٹی، حیدر آباد نے شر کت کی۔ مہانانِ اعزازی کے بطور معروف استاد شاعر انوار الحق شاداں پھلاؤدی،ڈاکٹر یشیکا ساگر]صدر شعبہئ اردو،میرٹھ کالج[ معروف سماجی کار کن عادل چودھری اورآفاق احمد خاں شریک ہوئے۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی اور نظا مت کے فرائض ڈا کٹرارشاد سیانوی انجام دیے جب کہ شکریے کی رسم ڈاکٹر الکا وششٹھ نے ادا کی۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ارشاد بے تاب نے کہا کہ یہ اردو ہی ہے جس کی محبت اور لگن کی وجہ سے آج اردو کی اتنی بڑی ہستیوں کے ساتھ جنبش لب کر رہا ہوں۔ میں کافی عرصے سے غازی سر کے رابطے میں ہوں۔
۔میں دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے اپنی کتاب میں شامل کیا اور کتاب کا انتساب بھی کیا۔ میں یونس غازیؔ کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
ذیشان قریشی نے کہا کہ آج یونس غازی صاحب کی دو کتابوں کا اجراء عمل میں آیا۔ میں بس اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ جس دن سے پروفیسر اسلم جمشید پوری میرٹھ میں آئے ہیں اردو کے حوالے سے بہت سے کام ہوئے ہیں اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی ہوتے رہیں گے۔ یو نس غازی صاحب کو بے حد مباک باد۔ آپ کے شاگردوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو آپ کے نام اور کام کو آ گے بڑھا ئیں گے۔
ڈاکٹر شاداب علیم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یونس غازیؔ بااخلاق انسان،مشفق استاد اور ایک اچھے ادیب ہیں۔انہوں نے نہ صرف نثر اور نظم دونوں پر طبع آزمائی کی ہے اور دو نوں میدا نوں میں بے مثل کارنامے انجام دیے ہیں کچھ موضو عات قدیم ضرور لگتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے نادر تخیلات کے ذریعے انہیں اچھوتا بنا دیا ہے اور یہ ان کا ایک بڑا کار نامہ ہے۔
معروف صحافی شا ہد چودھری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر یونس غازی میں بھی فرہاد کی مانند پہاڑوں کو کاٹ کر جوئے شیر نکالنے کا حوصلہ ہے۔ اجراء شدہ کتابیں ان کی اسی ہمت کو شش اور کاوش کا نتیجہ ہے۔انہوں نے ناممکن کو ممکن میں بدل دیا ہے۔ دبستان میرٹھ کے جو شعرا وقت کی گرد آلود پرتوں میں فرا موش ہوگئے تھے انہیں ان کی سنہ پیدائش و وفات، ان کے طرزِ سخن ان کی ادبی خدمات کے ساتھ منظر عام پر لانا اور وہ بھی قطعات کی صورت میں یقینا قابل ستائش اور قا بل رشک کام ہے۔شعرائے دبستان میرٹھ ایک کامیاب کوشش اور نایاب تحفہ ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے کتنا بیش قیمتی سرما یہ ہمارے لیے چھوڑا ہے۔
آفاق احمد خاں نے کہا کہ آج کا یہ جلسہ ایک یاد گار ی جلسہ ہے۔آج جو نسل یہاں بیٹھی ہے وہ آگے چل کر فخر کریں گی کہ ہم نے پروفیسر فاروق بخشی کو دیکھا تھا، پروفیسر یونس غازیؔ کی شاعری کو سنا تھااورپروفیسر اسلم جمشید پوری سے ملے تھے۔ یونس غازی کی غزلیں اسکول میں بچے پڑھتے ہیں۔میرٹھ کو دبستان کا درجہ دلانے کی مہم میں ہمیں پروفیسر اسلم جمشید پوری کا ہر سطح پر سا تھ دینا چاہئے اور اس خواب کو تعبیر سے ہمکنار ہونا چاہئے۔
ڈاکٹر یشیکا ساگر نے کہا کہ میں آپ کی بیٹی کی مانند ہوں۔سر نے بہت ہی عمدہ طریقے پر میری تربیت کی۔ آپ نے ہمیشہ ہی بغیر کسی لالچ کے اردو ادب کی خدمات انجام دیں۔ آپ نہ صرف ایک اچھے استاد، شاعر، محقق اور ناقد ہیں بلکہ ایک با اخلاق با مروت اور انسان دوست شخصیت کے مالک ہیں۔ میں آپ کو دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں اور آپ کی عمر درازی اور صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔آپ آئندہ بھی اردو ادب کی ایسے ہی خدمات انجام دیتے رہیں۔
استاد شاعر انوار الحق شاداں نے کہا کہ آپ صرف شاعر ہی نہیں مفکر بھی ہیں،ناقد اور محقق بھی۔ آپ نے ادب کی زبردست خدمات انجام دیں۔جس عمر میں لوگ تھک جاتے ہیں آپ اس عمر میں بھی کسی نوجوان کی مانند ادبی کاموں میں مصروف ہیں۔ میری دلی دعا ہے کہ آپ آسمان ادب پر یوں ہی چمکتے رہیں۔
عادل چودھری نے کہا کہ میں پروفیسر اسلم جمشید پوری کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں اردو کے فروغ کے لیے کار ہائے نمایاں انجام دیے اور ہم جیسوں کو بھی ترغیب دی۔آج ہم بھی آپ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کررہے ہیں اور ہر ماہ اپنے یہاں پروگرام منعقد کررہے ہیں اور آئندہ بھی انشاء اللہ یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔میں یہاں موجود سبھی مہمانان پروفیسر فاروق بخشی،ڈاکٹر یونس غازی سبھی کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں۔
اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ آج بڑاتاریخی لمحہ ہے جو خواب ہم نے اس شہر کے لیے دیکھا تھا اس کی تعبیر اب نکل کے آ رہی ہے،میرٹھ جو ایک قدیم شہر ہے۔ہم نے میرٹھ کو دبستان کی حیثیت سے تعارف کرا نے کا عزم کیا ہے۔ یہاں افسانہ نگار، ناول نگار، کالم نگار، طنزو مزاح،محقق سبھی طرح کے ادیب گذرے ہیں لیکن کوئی ناقد نہیں۔ اس لیے میرٹھ کو وہ حق نہیں مل سکا جس کا میرٹھ حق دار تھا۔ہم مسلسل کوشش کررہے ہیں ہم نے میرٹھ کے شعرا و ادبا پر ایم فل کرائی، اور اب رسائل نکالنے ہیں۔ دبستان میرٹھ ]شاعری[ نکل چکا ہے، دو چار ماہ میں نثر نمبر نکلے گا اور اس کے بعد”مشاہیر میرٹھ“ ہم کوشش کرتے رہیں گے۔پروفیسر یونس غازی نے تاریخی کام کیا ہے۔ انہوں نے ایسے شعرا کا ذکر کیا جو گمنامی کا حصہ بن چکے تھے۔ اسی طرح انہوں نے حمدیہ مجمو عہ لکھ کر بڑا کار نامہ انجام دیا ہے۔ اردو ادب میں حمدیہ مجمو عے کم ہیں۔میرا مقصد بس اتنا ہے کہ میرٹھ اردو کے حوالے سے ہمیشہ زندہ رہے اور آسمان ادب پر میرٹھ کا نام خوب منور ہو۔ ابھی ہمارے خواب کی تعبیر باقی ہے۔ آپ سب کا تعاون چاہئے۔ انشاء اللہ ہما را مقصد پورا ہوگا۔
پروگرام میں ڈاکٹر مفتی محمد رضوان، مولانا سید نایاب الدین نایاب،پروفیسر ہما مسعود، ڈاکٹر فرحت خاتون،ڈاکٹر نوید خان، ڈاکٹر شبستاں آس محمد،نذیر میرٹھی،سیدہ مریم الٰہی، صائمہ،سر تاج جہاں،محمد عیسیٰ رانا،محمد فیضان، محمد ہارون،محمد فرمان محمد نعیم، محمد جلیس،فیاض حسن، محمد فیض سمیت کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات اور عمائدین شہر موجود تھے۔
Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network