Connect with us

uttar pradesh

شوبھت یونیورسٹی گنگوہ کے بائیولوجیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے طالب علموں نے تعلیمی دورہ کاکیا انعقاد،طلبہ وطالبات نے سائنسی ریسرچ اور ان سے متعلق سرگرمیوں کی حاصل کی معلومات

Published

on

(پی این این)
دیوبند:شوبھت یونیورسٹی گنگوہ کے اسکول آف بائیولوجیکل انجینئرنگ اینڈ سائنس کے 50؍طلبہ وطالبات نے گزشتہ روز موہالی اور چندی گڑھ کے مختلف تعلیمی اور سائنسی مقامات کا تعلیمی دورہ کیا ۔ان طلبہ وطالبات کے ساتھ متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کے چا ر پروفیسر بھی شریک رہے ۔اس تعلیمی دورہ کا آغاز یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مہیپال سنگھ اور ڈیپارٹمنٹ انچارج ڈاکٹر ونے کمار نے بس کو ہری جھنڈی دکھا کر کیا ۔
اس موقع پر ایس بی ایس ای کے ڈین اور ڈین ریسرچ پروفیسر ڈاکٹر راجیو دتا بھی موجود رہے ۔اپنے سفر کے دوران طلبہ وطالبات نے برک نیشنل ایگری فوڈ اینڈ بائیو مینو فیکچرنگ انسٹی ٹیوٹ موہالی کا دورہ کیا ۔طالب علموں نے یہاں کھیتی ،کھاد ،سائنس اور دوسری سائنس ریسرچ لیب اور ان سے متعلق سرگرمیوں کی جانکار ی حاصل کی ۔
ان طلبہ وطالبات کو موہالی کے ادارہ کی لیب اور ریسرچ سرگرمیوں کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا ۔اس کے علاوہ ان طلبہ وطالبات نے راک گارڈن چندی گڈھ کا دورہ کرکے وہاں کی سرگرمیوں اور بے مثال کارناموں کو دیکھا ۔اس کے علاوہ طالب علموں نے سکھنا جھیل پر جانے کے دوران قدرتی نظاروں کابھی لطف لیا ۔نیشنل ایگری فوڈ اینڈ بائیو مینو فیکچرنگ انسٹی ٹیوٹ موہالی میں کام کرنے والے سائنس داں ڈاکٹر سنجنا نیگھی کو ان کی خدمات کے صلہ میں اعزاز دیا گیا ۔
یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بوٹا سنگھ سدھو اور پروفیسر ڈاکٹر مہیپال نے اس تعلیمی دورہ کے منتظمین کو اپنی نیک خواہشات سے نوازا ،انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دورے طالب علموں کو حقیقی حالات اور موجود ہ سرگرمیوں سے واقفیت کا موقع ملتا ہے اور طلبہ کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے ۔
اس کے علاوہ انہوں نے اپنے مضامین سے متعلق اہم معلومات حاصل کرنے کا بھی موقع ملتا ہے ۔اس تعلیمی دورہ کے دوران طلبہ کے ساتھ ڈاکٹر سریتا شرما ،انکور چوہان ،سونالی رائو وغیرہ موجود رہے ۔

 

uttar pradesh

برکس اجلاس کے اعلامیہ میں مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کا اعلان ، مظفر نگر کے علمی ادارہ شاہ اسلامک اکیڈمی میں برکس اجلاس کے انعقاد پر تجزیاتی پروگرام کا اہتمام

Published

on

(پی این این)
مظفرنگر:ملک کے دارالحکومت دہلی کے بھارت منڈپم میں دو روزہ برکس ممالک کے سربراہان کے اجلاس کے کامیاب انعقاد پر تجزیاتی پروگرام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نقوش عمل ڈیجیٹل اردو بیج کے مدیر قاری محمد خالد بشیر قاسمی نے کہا کہ وطنِ عزیز بھارت کی بین الاقوامی سطح پر کامیاب حکمت عملی کے نتیجہ میں برکس ممالک کے 11 مستقبل ارکان و 10 معاون ارکان ممالک کے سربراہان کا اجلاس ملک کی راجدھانی دہلی میں منعقد ہوا اور اجلاس میں 45 صفحات پر مشتمل اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیہ میں نامزد کی بغیر امریکی و اسرائیلی آمرانہ طرز حکومت کو بھی مسترد کیا گیا ہے۔ چین روس برازیل بھارت ساؤتھ افریقہ ایران جیسے دنیا کے بڑے ممالک کی مشترکہ حکمت عملی موجودہ عالمی صورتحال کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ برکس اجلاس میں اقوام متحدہ کے متعلق اصلاحات کے مطالبہ کے ضمن میں اقوام متحدہ میں بھارت کے کردار کو مزید وسعت دینے کی حمایت بھی حکومت کی کامیاب بین الاقوامی کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ معروف صحافی گلفام احمد نے ٓ آن لائن اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا عالمی سطح پر موجودہ حالات میں برکس ممالک کے سربراہان کے اجلاس کا کامیاب انعقاد حکومت ہند کا شاندار اقدام ہے۔ جس کے اندرون ملک وبیرون ملک اچھے و بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ سینئر قانون داں و تجزیہ کار محبوب عالم ایڈووکیٹ نے کہا کہ برکس ممالک کی مشترکہ حکمت عملی عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو قائم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو گی اور علاقائی معیشت کے استحکام کو بھی بہتر کریں گی۔
ہندی اخبار وودھ وچار کے چیف ایڈیٹر سہیل احمد خان نے کہا یک طرفہ ٹیریف کی مخالفت میں دوٹوک قرار داد حکومت ہند کی قابل تعریف کامیاب کوشش کا نتیجہ ہے۔ پروگرام میں مفتی عبد الستار قاسمی نے برکس سربراہ اجلاس میں عالم اسلام سے تعلق رکھنے والے کی اہم مسائل پر واضح موقف اختیار کر نے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اسی طرح ماسٹر دانش قریشی نے برکس ممالک کے سربراہان کی میزبانی اور اجلاس کی صدارت و کامیاب انعقاد تمام باشندگان ملک کے لئے باعثِ مسرت و قابل فخر ہے مرکزی حکومت کے بین الاقوامی معیار کے انتظامات اور وزیر اعظم کی کامیاب قیادت نے عالمی رہنماؤں کو شاندار پیغام دیا ہے۔ پروگرام میں ماسٹر اختر خان عبد الاحد ڈاکٹر تنویر گوہر گلفام ایڈووکیٹ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

Continue Reading

uttar pradesh

سہارنپورمیں مسجد کا انہدامی معاملہ تشویشناک،آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ’گاندھی-امبیڈکر سماد یاترا‘ چوتھے دن پہنچی بجنور

Published

on

(پی این این)
بجنور: ’’گاندھی-امبیڈکر سماد یاترا‘‘ کا پہلا مرحلہ جس کا علی گڑھ سے چل کر سہارنپور جانا ہے آج بجنور پہنچی۔بجنور کے ضلع کانگریس دفتر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے معزز شاہنواز عالم قومی سیکریٹری/ شریک انچارج بہار نے سچر کمیٹی پر تفصیل سے چرچہ کی۔ سابق وزیر اعظم مرحوم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑی پہل رہی کہ مسلمانوں کی سماجی، سیاسی اور تعلیمی حالت کا جائزہ لیا گیا لیکن اس پر مکمل عمل نہ ہو پانے پر تشویش ظاہر کی۔
جلسے میں موجود جے این یو طالب علم ہاشم علی نے آسام میں حد بندی کر کے مسلمانوں کی نمائندگی کو کم کرنے کی سازش کی مذمت کی اور ملک بھر میں بھی آسام ماڈل پر حد بندی کرنے کی مودی حکومت کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے اپوزیشن پارٹی کے رہنماؤں کو ہوشیاری سے کام لینے کی اپیل کی۔جلسے میں موجود بجنور شہر کانگریس کمیٹی کے صدر ہمایوں بیگ نے ’گاندھی- امبیڈکر سماد یاترا‘ جیسی کوشش کے لیے’ہم بھارت کے لوگ‘ تنظیم کی تعریف کی۔ انہوں نے مکالمے کے تمام مسائل پر اتفاق کیا اور حد بندی جیسے اہم مسئلے پر کھل کر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جلسے کی صدارت بجنور شہر کانگریس کمیٹی کے صدر ہمایوں بیگ جی نے کی اور نظامت پی سی سی ممبر نزاکت علوی نے کی۔ اتر پردیش صوبائی ترجمان تمجید احمد جی نے حکومت کی آئین مخالف پالیسیوں کی اسٹیج سے مخالفت کی۔ حال ہی میں سہارنپور کی مسجد کے انہدام پر گہری تشویش ظاہر کی اور اپوزیشن پارٹیوں سے اس مسئلے کو پرزور طریقے سے اٹھانے کی مانگ کی، یاترا میں معزز شاہنواز عالم قومی سیکریٹری/ شریک انچارج بہار، صوبائی ترجمان جناب تمجید احمد، محمد کیف، محمد جشم، محمد عاصم وغیرہ اہم طور پر شامل رہے۔ضلع کانگریس دفتر پر ہوئی میٹنگ میں محترم ہمایوں بیگ بجنور شہر صدر، پی سی سی ممبر نزاکت علوی، ضلع نائب صدر ونود تومر ایڈووکیٹ، ضلع نائب صدر وکرم سنگھ، حاجی ناصر چودھری، رفاقت چودھری، محمد حنیف، سید حسنین زیدی، مینو گوئل، وسیم اکرم، عبدالصمد آزاد، محمد رفعت، یوسف انصاری، قمر النساء، چودھری شورویر سنگھ، چتون شرما، انوپ سنگھ، انل تیواری، قاضی عاطف علی، حاجی نسیم انصاری، تارا، ابراہیم، رقیب عالم وغیرہ کانگریسی موجود رہے۔

 

 

Continue Reading

uttar pradesh

دارالعلوم فاروقیہ میں موطا امام مالک کے پہلے سبق کی مجلس، مولانا مجیب اللہ گونڈوی نے درس کاکرایاباوقار آغاز

Published

on

(پی این این)
دیوبند:معروف دینی ادارہ دارالعلوم فاروقیہ دیوبند میں مدرسہ کے بانی و مہتمم مولانا نور الہدیٰ قاسمی بستوی کی خواہش پر موطا امام مالک کے پہلے سبق کی مناسبت سے ایک علمی مجلس کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس کی صدارت دارالعلوم دیوبند کے معروف استاذ حدیث مولانا مجیب اللہ گونڈوی نے کی، جنہوں نے موطا امام مالک کا پہلا درس دے کر کتاب کی تدریس کا باقاعدہ آغاز کرایا۔ درس کے دوران مولانا مجیب اللہ نے حدیث پاک کی اہمیت، طلبہ کے لیے حصول علم کے آداب اور امام مالک ؒکی علمی عظمت و عشق رسولؐ پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے موطا امام مالک کی وجہ تسمیہ کے حوالے سے محدثین کے مختلف اقوال بیان کرتے ہوئے اس موضوع پر مفید علمی گفتگو کی۔ انہوں نے طلبہ کو ادارے، اس کے ذمہ داران اور اساتذہ کے ادب و احترام کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ علم کا سلسلہ واسطہ در واسطہ آگے منتقل ہوتا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح بجلی کا بلب کھمبوں اور تاروں کے ذریعے روشن ہوتا ہے، اسی طرح طلبہ بھی اپنے اساتذہ کے ذریعے اپنے مستقبل کو روشن کرتے ہیں۔ اس موقع پر ادارہ کے شیخ الحدیث مولانا ابو شبلی، مفتی افتخار کیرانوی، حذیفہ نور، مفتی رشید احمد، مفتی محمد احمد، مفتی اطہر، مفتی ایوب، مولوی عبدالرحمن، قاری احباب سمیت ادارہ کے اساتذہ اور جملہ طلبہ موجود رہے۔ مجلس کے اختتام پر مولانا مجیب اللہ نے دعا کرائی، جس میں ادارہ کی ترقی، اساتذہ و طلبہ کے بہتر مستقبل اور پوری امت کی بھلائی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network