Connect with us

Bihar

بھاگلپور: خواجہ میر دردؔ کے یوم پیدائش پرادبی نشست کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
بھاگلپور:انجمن باغ و بہار ،برہ پورہ،بھاگل پور کے زیر اہتمام نوشین جہاں کی رہائش گاہ پر شاعر جوثر ایاغ کی صدارت میں خواجہ میر دردؔ کے یوم پیدائش پر ایک ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر انجمن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد پرویز نے خواجہ میر دردؔکے حیات و فن کی روشنی میں کہا کہ خواجہ میر دردؔ کے نام سے ہر وہ شخص واقف ہے جنہوں نے اردو شاعری کی تاریخ کے بارے میں تھوڑا سا بھی مطالعہ کیا ہو۔ وہ شمالی ہندمیں اردوشاعری کے دور اول کے شاعر وں میں شمار کئے جاتے ہیں۔وہ میر تقی میر اور سودا کے ہمعصر تھے۔انکی شہرت کی سب سے بڑی وجہ انکا متصوفانہ کلام ہے۔اردو کی صوفیانہ شاعری میں جو مقام اور مرتبہ انکو حاصل ہوا وہ کسی اور شاعر کے حصے میںآج تک نہیں آئی۔انکی شاعری میں گہری معنویت پوشیدہ ہے اور انکی غزلوں میں بلا کا تغزل پایا جاتا ہے۔ انکی شاعری انفرادی،اجتماعی،مذہبی،سماجی اور سیاسی زندگی کی ہر ایک پہلو کی آئینہ دار ہے۔
انہوں نے قطب الدین کاکی،خواجہ نظام الدین اولیا،نصیرالدین چراغِ دلی اور امیر خسرو کا زمانہ دیکھا تھا۔ انکا اصل نام خواجہ میر اور تخلص دردؔ تھا۔والد کا نام خواجہ ناصر اور تخلص عندلیب اور والدہ کا نام بخشی بیگم عرف مْنگا بیگم تھا۔ ہمارے ہندو ستان میں عام طور پر صوفیوں اور بزرگوں کے دو سلسلے زیادہ مشہور ہیں ایک نقشبندی اور دوسراچشتیہ سلسلے۔وہ نقشبیندی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے۔ میر اثرؔجنکی مثنوی کا نام خواب و خیال ہے انکے چھوٹے بھائی تھے۔13 ستمبر 1721ء دہلی میں پیدا ہوئے اور وفات جنوری 1785ء دہلی میں۔
انہوں پندرہ سال کی عمر میںرسالہ اسرار الصلوۃ نکالا۔میر اثرؔ اور قائم چاند پوری انکے شاگردوں میں تھے۔انہوں نے مثنوی اور قصیدے نہیں لکھے ۔ حسین آزاد نے اپنی کتاب آب حیات میں میر درد کا ذکر تیسرے دور میں کیا ہے۔انکی تصانیف میں علم الکتاب،اردو دیوان(جس میں پندرہ سو اشعار ہیں)،دیوان فارسی،نالہء درد،آہ سرد، درد دل،رسالہ واردات،رسائل اربعہ، سوز دل، شمع محفل وغیرہ ہیں۔
اس موقعے پر جوثر ایاغ نے کہا کہ میر درد ایک اونچے درجے کے شاعر اور ایک بلند پایہ عالم تھے۔انکی کلام میںجگہ جگہ یاس و امید کا رنگ نمایا ں ہے۔ شہزور اختر نے کہا کہ خواجہ میر درد اردو ادب کے ان چند شاعروں میں ہے جو اپنے فن و شخصیت کے اعتبار سے بلند مقام رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر سید نیر حسن نے کہاکہ میر درد اؔردو کے بڑے غزل گوشاعر تھے ،انکی غزل کی عظمت انکے زمانے میں بھی تسلیم ہوئی اور آج بھی تسلیم کی جاتی ہے۔نشست میں شامل محمد شاداب عالم،نوشین جہاں،محمد محبوب عالم،محمد تاج الدین ،محمد عامر پرویزوغیرہ نے میر دردؔ کی شاعری سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

Bihar

قرض ادا نہیں کیا تودرج ہوگا مقدمہ،آج سے خصوصی وصولی کیمپ کا انعقاد،محکمہ اقلیتی بہبود کا سخت قدم، نادہندگان کے خلاف دیوانی و فوجداری کارروائی کی وارننگ، جرمانہ سود بھی ہوگاعائد

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:اقلیتی فلاحی اسکیموں کے تحت قرض حاصل کرنے کے بعد قسطیں جمع نہ کرنے والے مستفیدین کے خلاف محکمہ اقلیتی بہبود نے سخت رخ اختیار کیا ہے۔ بقایا قرض کی وصولی کے لیے 14 ستمبر سے 19 ستمبر 2026 تک خصوصی قرض وصولی کیمپ کا انعقاد کیا جائے گا۔
کیمپ ضلع اقلیتی بہبود دفتر میں روزانہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہے گا۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سونیتا سونو نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ اقلیتی روزگار قرض اسکیم، این ایم ڈی ایف سی ٹرم لون اسکیم اور وزیر اعلیٰ اقلیتی تعلیمی قرض اسکیم کے تحت قرض لینے والے ایسے مستفیدین جنہوں نے اب تک اپنی بقایا قسطیں جمع نہیں کی ہیں، وہ خصوصی کیمپ میں حاضر ہوکر بقایا قرض کی رقم جمع کرا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر سونیتا سونو نے واضح کیا کہ مقررہ مدت میں بقایا رقم ادا نہ کرنے والے قرض داروں سے ضابطے کے مطابق سادہ سود کے ساتھ جرمانہ سود بھی وصول کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خصوصی کیمپ کے دوران بقایا رقم ادا نہ کرنے والے نادہندگان کے خلاف دیوانی اور فوجداری مقدمہ درج کرانے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔محکمہ نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وصولی کیمپ میں بقایا رقم جمع نہ کرنے کی صورت میں کسی بھی قرض دار کا کوئی عذر یا وضاحت قبول نہیں کی جائے گی۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے تمام قرض داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانونی کارروائی، جرمانہ اور اضافی سود سے بچنے کے لیے 14 سے 19 ستمبر کے درمیان خصوصی کیمپ میں پہنچ کر اپنا بقایا قرض بروقت جمع کرا دیں۔ محکمہ کے سخت موقف کے بعد قرض کی قسطیں ادا نہ کرنے والے نادہندگان پر کارروائی کا امکان بڑھ گیا ہے۔

Continue Reading

Bihar

پیپر لیک روکنے کے لیےسمراٹ حکومت کا بڑا فیصلہ، بہار کے29اضلاع میں قائم کئے جائیں گے امتحانی مراکز اور اسٹرونگ روم

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں پیپر لیک اور امتحانات میں بدعنوانی روکنے کے لیے 29 اضلاع میں امتحانی مراکزاور اسٹرونگ روم بنائے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اس سلسلے میں بہار بورڈ یعنی بہار اسکول ایگزامینیشن بورڈ (بی ایس ای بی) کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔
حکومت نے اس کے لیے 33 کروڑ روپے کے بجٹ کا انتظام کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 12 اضلاع میں امتحانی عمارتوں کی تعمیر کو انتظامی منظوری مل گئی ہے۔ ان میں سیتامڑھی، لکھی سرائے، مشرقی چمپارن، کیمور، نالندہ اور مدھے پورہ سمیت دیگر اضلاع شامل ہیں۔
زیادہ تر امتحانی عمارتیں اور اسٹرونگ روم موجودہ اسکولوں کے احاطے میں ہی تعمیر کیے جائیں گے۔ تقریباً ایک سے ڈیڑھ ایکڑ زمین پر امتحانی عمارت کے ساتھ اسٹرونگ روم بھی بنایا جائے گا۔ امتحانی عمارت میں طلبہ و طالبات کے لیے نقل سے پاک امتحان کے انعقاد کی تمام جدید سہولیات موجود ہوں گی۔ وہیں اسٹرونگ روم میں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان امتحانی پرچوں، جوابی کاپیوں اور دیگر ضروری مواد کو محفوظ رکھنے کا انتظام ہوگا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے بہار اسکول ایگزامینیشن بورڈ کی جانب سے منعقد کیے جانے والے مختلف امتحانات کے پرچوں اور دیگر ضروری مواد کو محفوظ طریقے سے رکھنے کی سہولت حاصل ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی امتحانات کے انعقاد کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔ یہ نقل سے پاک امتحانات کے انعقاد کی سمت میں ایک اہم پہل ہے۔
بی ایس ای بی کی جانب سے پہلے مرحلے میں 12 اضلاع میں امتحانی مراکز اور اسٹرونگ روم کی تعمیر کے لیے انتظامی منظوری دے دی گئی ہے۔ روہتاس ضلع میں ساسارام کے تکیا شری شنکر ہائر سیکنڈری اسکول، لکھی سرائے میں شرما، رام گڑھ چوک واقع شری ڈھیڑناتھ مہادیو ہائر سیکنڈری اسکول، بیگوسرائے کے وشنوپور میں سرکاری بنیادی اسکول، سیتامڑھی ضلع میں ڈمرا کے بریارپور مڈل اسکول، موتیہاری میں پی ایم شری ڈسٹرکٹ اسکول، ویشالی ضلع کے بھگوان پور واقع سرائے آدرش ہائر اسکول، بھبھوا کے رتوار ہائر سیکنڈری اسکول، نالندہ میں راج گیر کے آر ڈی ایس پلس ٹو اسکول، جموئی میں جموئی بازار پلس ٹو ہائر اسکول، کٹیہار میں درشن ساہ کالج، نوادہ میں کنہائی انٹر اسکول اور مدھے پورہ میں بھوپندر نارائن منڈل یونیورسٹی کے احاطے میں امتحانی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔

Continue Reading

Bihar

اے آئی ایس اے کا جے پی یونیورسٹی میں بدنظمی کے خلاف احتجاج

Published

on

(پی این این)
چھپرا:آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) نے ہفتہ کو جے پرکاش یونیورسٹی میں تعلیمی بدنظمی،عملے کی ہڑتال اور یونیورسٹی انتظامیہ کی طلبہ کے مسائل کو حل کرنے میں مبینہ بے حسی کے خلاف احتجاج کیا۔کارکنوں نے وائس چانسلر کا پتلا جلایا و نعرے لگائے۔
انہوں نے احتجاج کو تیز کرنے کی دھمکی دی۔AISA کے ضلع صدر کنال کوشک نے کہا کہ تنظیم نے 10 ستمبر کو یونیورسٹی میں احتجاج کی قیادت کی۔اہم مطالبات میں 2023-27 کے سیشن کے لیے سمسٹر ایک سے چار تک کے طلبہ کو فوری طور پر اصلی مارک شیٹس کی فراہمی،68 کریڈٹ سسٹم کا خاتمہ،تمام کالجوں میں ہیلپ ڈیسک کا قیام اور درخواستیں جمع کرانے کی رسیدیں شامل تھے۔
AISA رہنماؤں کے مطابق تنظیم کی ٹیم نے 11 ستمبر کو جے پی ایم ویمن کالج کا معائنہ کیا۔وہاں کا عملہ اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال پر تھا۔نتیجتاً طلبہ کی درخواستیں نہیں لی جا رہی تھیں اور رسیدیں نہیں مل رہی تھیں۔
کالج کی سطح پر تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے آن لائن فارم منسوخ ہونے کا بھی خدشہ تھا۔کنال نے کہا کہ وائس چانسلر نے احتجاج کے دوران کالجوں کا معائنہ کرنے کا دعویٰ کیا۔تاہم جے پی ایم ویمنس کالج کی صورتحال نے انتظامیہ کے دعووں پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ضلع سکریٹری وکاس نے مطالبہ کیا کہ کالج ہیلپ ڈیسک،سیکورٹی اور پینے کا پانی،بیت الخلا،کامن روم اور بیٹھنے کے انتظامات فراہم کریں۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو AISA یونیورسٹی کو تالا لگا کر پرتشدد احتجاج شروع کرے گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network