Connect with us

uttar pradesh

میرٹھ، مظفر نگر، دیوبند ریلوے روٹ پر بند کی گئی ٹرینوں کو بحال کرنے کا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
دیوبند:دہلی سے میرٹھ، مظفر نگر اور دیوبند ہوتے ہوئے انبالہ جانے کیلئے صبح کے وقت ایک بھی ٹرین مہیا نہیں ہے۔ ان دنوں دوپہر ایک بجے کے بعد اس روٹ پر جانے کیلئے ٹرین ملتی ہے جو اکثر بڑی تاخیر سے آتی ہے۔ ایسی صورت میں عام مسافروں، نوکری پیشہ افراد اور طالب علموںکو بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کورونا مدت سے پہلے اس روٹ پر صبح کے وقت میرٹھ انبالہ پیسنجر، نظام الدین انبالہ پیسنجر اور دوپہر میں دہلی۔ انبالہ میمو جیسی ٹرینیں چلائی جاتی تھیں۔ جس کا فائدہ ہزاروں ریل مسافروں کو ملتا تھا لیکن ان ٹرینوں کے بند ہو جانے کے بعد اس علاقے کے عوام گزشتہ کا فی عرصے سے پریشان ہیں۔
اس علاقے کی بد نصیبی کی بات یہ ہے کہ بار بار مطالبہ کے بعد بھی عوامی نمائندوں نے اس سنگین مسئلہ اور پریشانی پر کوئی توجہ نہیں دی، جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی اور ناراضگی ہے۔ دیوبند مظفر نگر اور دیگر علاقوں کی عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ ریلوے انتظامیہ اس علاقے کے ریل مسافروں کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے میرٹھ۔ انبالہ پیسنجر، دہلی انبالہ میمو اور نظام الدین۔
انبالہ پیسنجر ٹرینوں کی آمد و رفت کو جلد از جلد بحال کرنے کے اقدامات کرے۔ کیونکہ مذکورہ ٹرینیں لاکھوں ریل مسافروں کی یومیہ ضرورت ہے۔ لہذا وزارت ریل اور ریلوے انتظامیہ اس سلسلہ میں مثبت اقدامات کر کے عوام کو راحت پہنچانے کا فیصلہ کرے۔ پریشان حال ریل مسافروں کا کہنا ہے کہ ڈبل لائن ہو جانے کے بعد بھی مذکورہ ٹرینوں کو بحال نہ کرنا حیرت کی بات ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان ٹرینوں کے بند رہنے سے جہاں ریل مسافروں کو بہت زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں ریلوے کی آمدنی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

uttar pradesh

گستاخ نازیہ خان کے خلاف مسلمانوں میں شدید غم وغصہ ،جمعیۃ علماء سہارنپور نے مولانا شمشیر قاسمی کی قیادت میں پولیس کو میمورنڈم سونپا، سخت کارروائی کامطالبہ

Published

on

(پی این این)
دیوبند:آقائے نامدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شان مقدسہ میں کی گئی گستاخی اور نازیبا تبصرے کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کے کارکنان نے ایک میمورنڈم پیش کرکے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
رام پور منیہاران میں جمعیۃ علمائے ہند کے کارکنان نے ضلع نائب صدر مولانا شمشیر قاسمی کی قیادت میں رام پور منیہارن پولیس اسٹیشن پہنچے اور سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے نام ایک میمورنڈم پیش کیا۔میمورنڈم میں کہا گیا کہ نازیہ خان نامی ایک عورت نے ایک پوڈ کاسٹ میں محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شان میں گستاخانہ اور اشتعال انگیز گفتگو کی جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی۔
سوشل میڈیا پر گر دش کررہی ویڈیو میں نازیہ الٰہی خان نے توہین آمیز تبصرہ محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کیا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے اوراسلامی عقائد کی رو سے ناقابل معافی ہے، اسکا یہ جارحانہ اور تکلیف دہ عمل ملک کے آئین و قانون کے خلاف ورزی ہے۔اس طرح کے دانستہ بیانات مذہب اور اس کے ارکان کے لیے ذہنی صدمے کا باعث بنتے ہیں۔ مولانا شمشیر قاسمی نے پولیس حکام کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اشتعال انگیز بیانات معاشرے میں بے چینی اور نفرت کے فروغ کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے ایسے معاملات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔
مولانا شمشیر قاسمی نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی اور احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کاحق فراہم کرتا ہے ملک میں سماجی ہم آہنگی بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لئے تمام مذاہب مقدس ہستیوں مذہبی شعائر کا احترام ناگریزہے ۔ انہوں نے ملک کے امن و ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ۔
اس موقع پر مولانا وسیم احمد قاسمی،قاری مکرم حسین، قاری شوقین الحسنی، مفتی عمیر ناظمی، مولانا ثوبان، حاجی ایوب، مولانا قمر، مولانا عبدالقادر، مولانا منور، ماسٹر ارشد ماجری، حکیم اسلم، احسان ملک، قاری مزمل، قاری سالک، قاری شاداب، قاری تنویر، قاری مبارک، قاری اسجد، سرور، انتظار، شمشیر، نعیم احمد قاری انیس، قاری محمد سلمان قاری عابد حافظ ندیم، مرسلین حافظ سفیان، محمدعمار ،ثاقب، آیان، حاجی عمران، وغیرو موجود رہے۔

 

Continue Reading

uttar pradesh

محرم الحرام خوشیوں، سعادت اور حق پر استقامت کا مہینہ: مفتی ابوالکلام حلیمی

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:آل انڈیا سنی موومنٹ کے زیرِ اہتمام جاری عظیم الشان دینی و اصلاحی ’جلسہ شہدائے اسلام ‘بَرف خانہ، مصاحب گنج، ٹھاکر گنج، لکھنؤ میں عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوا۔ جلسے کی صدارت صدر آل انڈیا سنی موومنٹ سید بلال نورانی نے کی، جبکہ نظامت جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محمد متین خان نے انجام دی۔
جلسے کا آغاز حافظ محمد احمد صاحب کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ شعرائے کرام محمد اسامہ، حافظ محمد سعد اور محمد عمران نے بارگاہِ رسالت میں نعت و منقبت کا نذرانہ پیش کیا۔ اس موقع پر علماء کرام، ائمہ مساجد، دانشوران اور عوام الناس کی بڑی تعداد موجود رہی۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالمِ دین مولانا مفتی ابوالکلام حلیمی نے فرمایا کہ محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے، جو اپنے دامن میں بے شمار عظیم شہادتوں کی سعادت اور عزت سمیٹے ہوئے ہے۔ اگرچہ حضرت حسین کی شہادت اس مہینے کا عظیم ترین واقعہ ہے، لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا صرف حضرت حسین ہی کی شہادت ماہِ محرم میں ہوئی؟ اور کیا شہادت کا مفہوم رنج و الم اور آنسو بہانا ہے؟
انہوں نے کہا کہ اسلامی تاریخ اس کا واضح جواب دیتی ہے۔ حضرت عمر فاروق کی شہادت بھی ماہِ محرم میں ہوئی، جبکہ حضرت عثمان غنی، سید الشہداء حضرت حمزہ اور دیگر بے شمار جلیل القدر صحابہ کرام نے بھی راہِ خدا میں جامِ شہادت نوش کیا۔ اس لیے محرم کی عظمت صرف ایک تاریخی شہادت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ابتدا ہی سے حرمت والا مہینہ قرار دیا ہے۔مفتی حلیمی نے کہا کہ اسلام میں شہادت غم نہیں بلکہ عزت، سعادت اور دائمی کامیابی کی علامت ہے۔ حضرت حسین کی قربانی امت کو صبر، استقامت، حق پر ڈٹے رہنے اور ظلم کے سامنے نہ جھکنے کا درس دیتی ہے۔ کربلا کا پیغام مایوسی نہیں بلکہ عزم، حوصلہ، قربانی اور دین پر ثابت قدمی کا پیغام ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے حضرت عمر فاروقؓ کی دعا کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ رسول اکرم ؐ سے جنت کی بشارت پانے کے باوجود آپؐ کی سب سے بڑی آرزو شہادت تھی۔ آپ دعا فرمایا کرتے تھے۔یعنی: اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا فرما اور میری موت اپنے رسول کے شہر مدینہ میں مقدر فرما۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شانِ کریمی سے حضرت عمر فاروق کی دونوں دعائیں قبول فرمائیں اور انہیں مدینہ منورہ میں شہادت کی عظیم سعادت عطا فرمائی۔ یہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اخلاص کے ساتھ مانگی گئی دعا کو اللہ تعالیٰ ایسے انداز سے قبول فرماتا ہے جس کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔آخر میں انہوں نے کہا کہ حضرت عمر فاروق کی شہادت اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ شہادت اہلِ ایمان کی آرزو، انبیاء و صالحین کی خواہش اور اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

اردو کے فروغ میں دہلی کالج کی انفرادی خصوصیات کو نہیں کیا جاسکتا نظر انداز:پروفیسر اے آر فتیحی

Published

on

میرٹھ:وہ مدرسہ جو مغلوں کے دور میں قائم ہوا اور آہستہ آہستہ مدرسہ سے کالج میں تبدیل ہوگیا۔ دہلی کالج نے ایسا ذخیرہ اکٹھا کیا جس سے اردو کو فروغ ملا۔ مولوی ذکا ء اللہ نے ترجمہ کے حوالے سے ایک بڑا کام کیا۔1857ء کے ہنگامے کے بعد بہت سی چیزیں ادھر اُدھر ہوگئیں اور یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ دہلی کالج کی ادبی خدمات سے ہمارے اسکالرز نے بڑی تعداد میں استفادہ حاصل کیا۔یہ الفاظ تھے معروف ماہر لسانیات پرو فیسر اے۔ آر فتیحی کے جو شعبہئ اردو اور ایو ساکے زیر اہتمام منعقد ”دہلی کالج کی ادبی خدمات“ موضوع پر مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو کے فروغ میں دہلی کالج کی انفرادی خصوصیات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سرپرستی بین الاقوامی شہرت یافتہ ناقدڈاکٹر تقی عابدی]کناڈا[ اور معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض سابق صدر شعبہئ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔ مہمانان خصوصی کے بطور معروف ماہر لسانیات اے آر فتیحی]شعبہئ لسانیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی[ اورجہان ِاردو، دربھنگہ کے مدیر پروفیسر مشتاق احمد نے آن لائن شر کت فرمائی۔مہمانِ اعزازی کے بطور معروف ناقد پروفیسر سر ور ساجد]علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی[ شریک ہو ئے۔پروگرام میں ایوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین موجود رہیں۔ مقالہ نگار کے بطور ریسرچ اسکالر اطہر خان نے شر کت کی۔استقبالیہ ڈاکٹر ارشاسیانوی اورنظامت کے فرائض لکھنؤ یونیورسٹی کی شاذیہ خان نے بحسن و خوبی انجام دیے اور شکریے کی رسم محمد عابد نے ادا کی۔
صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ دہلی کالج میں غالبؔ بھی پڑھانے کے لیے گئے تھے مگر جس طرح سے دہلی کالج میں غالبؔ کا استقبال ہونا چاہئے تھا اس طرح نہیں ہوا۔ اس لیے غالبؔ وہاں سے واپس آ گئے۔ ماسٹر رام چندر، مولوی ذکا ء اللہ، امام بخش صہبائی، پیارے لال آ شوب وغیرہ نے اردو کو عربی و فارسی کے دائرے سے نکالنے کا کام کیا۔ اردو ادب کی خدمات میں ان کو فرا موش نہیں کیا جاسکتا۔
پروفیسر ریشما پروین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً تمام کالجز اور یونیورسٹیز کے نصاب میں دہلی کالج کی ادبی خدمات کو شامل کیا گیا ہے۔
آج کے موضوع سے یقینا ہمارے اسکالرز کو کافی فائدہ ہوگا اور ہمارے طلبا بھی اس سے کافی فیض اٹھائیں گے۔
پروفیسر مشتاق احمد نے کہا کہ ہم اردو والوں کے اعتبار سے اس کالج کی بڑی اہمیت ہے۔ مغلیہ عہد میں اس ادارے کا قیام عمل میں آ یا تھا۔یہ کالج صرف ادب کے لیے نہیں تھا۔ اس وقت یورپ میں انقلاب کے بعد جو جدید تعلیم کا آ غاز ہوا اس وقت یورپ تک مغربی ادبیات کو دہلی کالج نے عام کیا اگر دہلی میں کالج کا قیام عمل میں نہ آ تا تو سرسید علی گڑھ میں یونیورسٹی کی بنیاد نہیں ڈال پا تے۔ دہلی کالج کی طرز پر انہوں نے یو نیورسٹی بنائی۔ آج نئی نسل کے لیے یہ ادارہ ایک مثال ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈا کٹر تقی عابدی]کناڈا[ نے کہا کہ ادب نما کے پروگرام میں بہت سے مضامین پر بات ہوتی ہے۔ اسلم صاحب نئے نئے موضو عات کا انتخاب کرتے ہیں اور ڈاکٹر ارشاد صاحب تو سدا بہار ہیں الگ الگ موضو عات پر خوب بات کرتے ہیں۔ رام چندر نے ریاضی کو ترجموں کے ذریعے پیش کیا۔ اس حوالے سے انہیں ادب کا پلر یا ستون کہہ سکتے ہیں۔ ہماری قوم کی ترقی تعلیم سے جڑی ہوئی ہے۔ دہلی کالج علوم سائنس کے ساتھ ورنا کلر کی مدد سے سائنس، اردو اور ریاضی کی تعلیم کو فروغ دینے میں آگے رہا۔یہ کالج کچھ سال بند ہوجانے کے بعد سے کسی شکل میں چلا لیکن ہمارے ادیبوں نے اس کے چلانے میں جو اہم خدمات انجام دیں ان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دہلی کالج نے دلوں اور دماغوں پر حکومت کی ہے۔
Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network