Bihar
گاؤں کی ترقی کے بغیر ترقی یافتہ بہارکا عزم ادھورا،آتم نربھر بھارت کی تعمیر میں گرام پنچایتوں کا کردار انتہائی اہم : ڈاکٹر پریم کمار
(پی این این)
پٹنہ: بہار اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر پریم کمار نے پنچایت وکاس دیوس کے موقع پر ریاست کے عوام اور پنچایتی راج اداروں سے وابستہ تمام منتخب نمائندوں کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کی ہیں۔ ڈاکٹر پریم کمار نے آج ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے جمہوری نظام کی سب سے مضبوط بنیاد ہماری گرام پنچایتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں کی ترقی، عوامی شراکت داری اور آتم نربھر بھارت کی تعمیر میں پنچایتوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈاکٹر پریم کمار نے کہا کہ ہندوستان کی روح گاؤں میں بستی ہے اور گاؤں کی ہمہ جہت ترقی کے بغیر ترقی یافتہ بہار اور ترقی یافتہ ہندوستان کا عزم پورا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتیں محض انتظامی اکائی نہیں بلکہ دیہی عوام کی خواہشات، مسائل اور ترقیاتی منصوبوں کو زمین پر پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کی 73 ویں ترمیم کے ذریعے پنچایتی راج اداروں کو آئینی مضبوطی ملی اور گاؤں میں جمہوریت کو نئی توانائی حاصل ہوئی۔ آج ملک میں لاکھوں منتخب پنچایت نمائندے عوام کی خدمت میں سرگرم ہیں، جن میں بڑی تعداد میں خواتین بھی قیادت کر رہی ہیں۔ یہ سماجی تبدیلی اور جمہوریت کی مضبوطی کی علامت ہے۔
اسمبلی اسپیکر نے کہا کہ ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی جانب سے پنچایتوں کو بااختیار بنانے کے لیے کئی اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی سڑکیں، صفائی ستھرائی، پینے کا پانی، رہائش، صحت، تعلیم، ڈیجیٹل خدمات، منریگا اور روزگار سے جڑی اسکیموں کے ذریعے گاؤں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنچایت نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفافیت، ایمانداری اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے علاقے کی ترقی کو آگے بڑھائیں۔ گرام سبھا کو مضبوط بنانا، مقامی ضروریات کے مطابق منصوبوں کو تیار کرنا اور معاشرے کے آخری شخص تک ترقی کے ثمرات پہنچانا ہی پنچایتی نظام کا بنیادی مقصد ہے۔ڈاکٹر پریم کمار نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس“ کے منتر کے ساتھ گاؤں کی ترقی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ بہار میں بھی پنچایتی راج اداروں کو مضبوط بنانے اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی توسیع کی سمت میں مسلسل کام ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنچایتیں جمہوریت کی پاٹھ شالا (درسگاہ) ہیں، جہاں عام شہری براہ راست حکومت اور ترقیاتی عمل سے جڑتے ہیں۔ نوجوانوں، خواتین اور معاشرے کے تمام طبقات کی شراکت داری سے پنچایتیں ترقی کے نئے ماڈل پیش کر سکتی ہیں۔
بہار اسمبلی کے اسپیکر نے پنچایت نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں تعلیم، ماحولیات کے تحفظ، صفائی ستھرائی، پانی کے تحفظ، خواتین کو بااختیار بنانے اور خود کفیل گاؤں کی تعمیر کے لیے خصوصی کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط پنچایتیں ہی مضبوط ریاست اور مضبوط قوم کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنچایت وکاس دیوس ہمیں یہ عہد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم گاؤں کو خوشحال، خود کفیل اور ترقی یافتہ بنانے میں اپنا تعاون دیں گے۔
Bihar
اسپورٹس کلبوں کے کام کو بہتر طریقے سے چلانےکولیکر بلاک وار میٹنگ
ارریہ: محکمہ کھیل، پٹنہ، بہار کی ہدایت کے مطابق، ضلع کی گرام پنچایتوں میں بنائے گئے اسپورٹس کلبوں کے فعال اور ہموار کام کو یقینی بنانے کے لئے ایک بلاک وار میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس سلسلے میں بدھ کے روز اسپورٹس بلڈنگ ارریہ کے آڈیٹوریم میں صدر بلاک ارریہ کی مختلف پنچایتوں میں بننے والے اسپورٹس کلبوں کے صدور، سکریٹریز، خزانچی اور ممبران کے ساتھ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔
میٹنگ کی صدارت جناب سانیال کمار، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف فزیکل ایجوکیشن، ارریہ نے کی۔ میٹنگ میں تفصیلی بات چیت کی گئی، جس میں پنچایت کی سطح پر بنائے گئے اسپورٹس کلبوں کے باقاعدہ اور موثر کام کرنا، کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینا، اور زیادہ سے زیادہ مقامی نوجوانوں اور کھلاڑیوں کو کھیلوں میں شامل کرنا شامل ہے۔
بات چیت میں پنچایت کی سطح پر دستیاب کھیل کے میدانوں کے مناسب استعمال، کھیلوں کی سرگرمیوں کے انعقاد اور دیہی علاقوں میں کھیلوں کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔ میٹنگ کے دوران اسپورٹس کلبوں کو فعال کرنے اور ان کے ذریعے پنچایت سطح پر مختلف کھیلوں کی سرگرمیاں کرانے کے لئے ایک ایکشن پلان پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر موجود اسپورٹس کلبوں کے ممبران نے بھی اسپورٹس کلبوں کے امور کے حوالے سے اپنی تجاویز اور خیالات کا اظہار کیا۔
فزیکل ایجوکیشن کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جناب سانیال کمار نے کہا کہ پنچایت سطح پر کھیلوں کے کلبوں کے فعال اور باقاعدہ کام سے دیہی بچوں اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے بہتر مواقع فراہم ہوں گے۔ انہوں نےاسپورٹس کلب کی موثر سرگرمیوں کو محکمانہ رہنما اصولوں کے مطابق یقینی بنانے اور کھیلوں میں نوجوانوں کی شرکت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
Bihar
مولانا آزاد کی وراثت کو نئی دھار دیں گی حسن آرا یوسف سلیم
پٹنہ:مولانا ابوالکلام آزاد کی وراثت محض تاریخ کے صفحات تک محدود نہیں ہے، بلکہ تعلیم، سماجی یکجہتی، جمہوری اقدار اور مشترکہ ثقافت کی وہ فکر ہے، جو آج بھی معاشرے کو سمت دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی وراثت کو سماجی سروکاروں سے جوڑنے کی سمت میں کولکاتا کی رہنے والی حسنا آرا یوسف سلیم کا سماجی شعبے میں فعال ہونا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ انہیں آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت کی رکنیت فراہم کی گئی ہے۔
مجلس کے صدر ایڈووکیٹ فیروز احمد کی جانب سے جاری استقبالیہ خط میں حسنا آرا یوسف سلیم کی رکنیت قبول کیے جانے پر انہیں مبارکباد دی گئی ہے۔ سماجی شعبے میں فعال حسنا آرا یوسف سلیم مافیسہ کی بانی اور صدر بھی ہیں۔ تنظیم کو امید ہے کہ ان کے تجربے، فعالیت اور سماجی سروکاروں سے مجلس کے مقاصد کو مضبوطی ملے گی۔
حسنا آرا یوسف سلیم کا تعلق اس خاندان سے ہے، جس کی وراثت ملک کی تحریکِ آزادی، تعلیم اور ہندو مسلم اتحاد کے نظریات سے گہرائی سے وابستہ رہی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم رہے اور انہوں نے تعلیم کو قوم کی تعمیر کا سب سے اہم بنیاد قرار دیا۔ ان کی سوچ مذہبی تنگ نظری سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی، بھائی چارے اور مشترکہ ثقافت کی حامی تھی۔
مولانا آزاد کی اسی وسیع فکر کو خاندان کی اگلی نسل سماجی خدمت کے ذریعے آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔ حسنا آرا یوسف سلیم نے بھی تعلیم اور سماجی بااختیاری کو اپنے کاموں کا اہم حصہ بنایا ہے۔ ان کی کوششوں میں تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور بچوں کے بہتر مستقبل سے متعلق موضوعات کو خصوصی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ضرورت مند بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے، خواتین کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو مرکزی دھارے سے جوڑنے جیسی کوششوں کو مولانا آزاد کی سماجی سوچ کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد کے لیے تعلیم صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ تعلیم یافتہ معاشرہ ہی اپنے حقوق کو سمجھ سکتا ہے اور جمہوری نظام کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ ان کی اسی سوچ میں سماجی مساوات، قومی یکجہتی اور انسانیت کا وسیع پیغام مضمر تھا۔
آج کے دور میں تعلیم، سماجی انصاف، شہری حقوق، خواتین کو بااختیار بنانا اور سماجی ہم آہنگی جیسے مسائل پہلے سے زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔
ایسے وقت میں حسنا آرا یوسف سلیم کا سماجی فعالیت کے میدان میں آگے آنا اور مسلم مجلس سے وابستہ ہونا ان مسائل کو وسیع پلیٹ فارم فراہم کرنے کی سمت میں اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
تنظیم کو ملے گی نئی توانائی
مسلم مجلس سے وابستہ ہونے کے بعد حسنا آرا یوسف سلیم کو اقلیتوں کے آئینی اور شہری حقوق، تعلیم، سماجی انصاف، خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی اتحاد جیسے موضوعات پر کام کرنے کے لیے وسیع پلیٹ فارم ملے گا۔ وہیں ان کے تجربے اور سماجی فعالیت سے تنظیم کو بھی نئی توانائی ملنے کی امید ہے۔
ان کی رکنیت کو تنظیمی توسیع سے آگے بڑھ کر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ مولانا آزاد کی اس وراثت کو موجودہ سماجی چیلنجز سے جوڑنے کی کوشش ہے، جس میں تعلیم، انصاف، برابری اور سماجی اتحاد کو مرکز میں رکھا گیا تھا۔
مولانا آزاد کی وراثت کو صرف یادوں، تقریبات اور تقریروں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے معاشرے کے درمیان عملی کام کی صورت میں آگے بڑھانا ہی ان کے نظریات کے تئیں حقیقی احترام ہوگا۔ حسنا آرا یوسف سلیم کی سماجی فعالیت اور مسلم مجلس سے ان کا وابستہ ہونا اسی سمت میں ایک نئی کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Bihar
وارڈ 14 کی شیعہ ٹولی میں عوامی راستے پر قبضے سے پریشانی، میونسپل کمشنر سے کارروائی کا مطالبہ
بھاگلپور: آشا نندپور محلہ کے وارڈ 14 واقع شیعہ ٹولی میں عوامی راستے اور سرکاری زمین پر تجاوزات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ مرحوم سید نقی حسین عرف ہیرو، والد مرحوم سید ناظم حسین اور ان کے بیٹوں کی جانب سے طویل عرصے سے سرکاری زمین اور راستے کی جگہ پر قبضہ کر رکھا گیا ہے۔
تجاوزات کے باعث مقامی لوگوں کو آمدورفت میں پریشانی ہو رہی ہے۔ معاملے کو لے کر مقامی باشندے، سماجی کارکن اور جے ڈی یو جنرل سکریٹری (اقلیتی) سید ارشد علی نے میونسپل کمشنر کو تحریری درخواست دے کر تجاوزات ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست پر محلے کے کئی لوگوں کے دستخط بھی ہیں۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ علاقے میں پانی کی سنگین قلت کو دیکھتے ہوئے مقامی لوگوں نے کئی دہائیوں سے مبینہ طور پر قبضے میں رہی مذکورہ سرکاری زمین کو پانی کے پیاؤ کی تعمیر کے لیے نشان زد کیا ہے۔ وارڈ 14 کے کونسلر انیل پاسوان کی جانب سے بھی میونسپل کارپوریشن کو تحریری طور پر مذکورہ زمین کو سرکاری بتاتے ہوئے یہاں پیاؤ تعمیر کیے جانے کی ضرورت سے آگاہ کیے جانے کی بات درخواست میں کہی گئی ہے۔درخواست گزار کا الزام ہے کہ مذکورہ زمین پر قبضہ کرنے والے افراد کے پاس زمین سے متعلق کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں ہے اور مبینہ طور پر دبنگئی کے زور پر زمین پر قبضہ برقرار رکھا گیا ہے۔ معاملے کی جانچ کے لیے میونسپل کارپوریشن کے تجاوزات شعبہ کے انچارج جے پرکاش یادو بھی موقع پر پہنچے تھے۔ درخواست کے مطابق، موقع پر جانچ کے بعد انہوں نے زمین کو سرکاری قرار دیا اور متعلقہ فریق کو جگہ خالی کرنے کا الٹی میٹم بھی دیا تھا۔ اس کے باوجود اب تک زمین کو تجاوزات سے آزاد نہیں کرایا جا سکا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف علاقے میں پینے کے پانی کا سنگین مسئلہ ہے اور دوسری جانب جس مقام پر پیاؤ کی تعمیر کی پہل ہو سکتی ہے، وہ مبینہ تجاوزات کی وجہ سے استعمال میں نہیں آ پا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی راستے کی زمین پر مبینہ قبضے کے باعث گلی بھی تنگ ہو گئی ہے، جس سے لوگوں کی آمدورفت میں پریشانی ہو رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر میونسپل کارپوریشن کی جانچ میں زمین سرکاری پائی گئی اور متعلقہ فریق کو مقام خالی کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی، تو اب تک تجاوزات کیوں نہیں ہٹائی گئیں؟ مقامی لوگوں نے میونسپل کارپوریشن انتظامیہ سے پورے معاملے کی دوبارہ موقع پر جانچ کرا کر سرکاری زمین اور عوامی راستے کو تجاوزات سے آزاد کرانے اور پیاؤ کی تعمیر کا عمل آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عوامی راستہ اور سرکاری زمین کسی ایک شخص کے ذاتی استعمال کے لیے نہیں ہو سکتی۔ انتظامیہ کی جانب سے بروقت کارروائی نہیں کی گئی تو آنے والے دنوں میں مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
