Connect with us

Bihar

سنگین جرم میں ملوث افرادکو دی جائے سخت سزا، متاثرہ خاندان کو ہر حال میں ملے انصاف

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ:دربھنگہ کے پرانی منصفی محلہ میں یاماہا ایجنسی کے منیجر مرحوم فیض احمد کے قتل کے بعد انصاف کی مانگ مسلسل زور پکڑتی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں بہار ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین مولانا غلام رسول بلیاوی اور راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) کے سینئر رہنما و رکن قانون ساز کونسل عبدالباری صدیقی نے الگ الگ مرحلوں میں مقتول کے گھر پہنچ کر اہلِ خانہ سے ملاقات کی، اظہارِ تعزیت کیا اور انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
مولانا غلام رسول بلیاوی نے مرحوم فیض احمد کے والد ماسٹر اسد احمد اور دیگر اہلِ خانہ سے ملاقات کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی اور سوگوار خاندان کو صبر کی تلقین کی۔ انہوں نے مقدمے کی پیش رفت سے متعلق معلومات حاصل کیں، جس پر اہلِ خانہ نے بتایا کہ چندن پٹی گاؤں میں واقع یاماہا ایجنسی کے سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قتل کی واردات میں متعدد افراد ملوث تھے، لیکن پولیس نے اب تک صرف ایک ملزم سونو پاسوان کو گرفتار کرکے جیل بھیجا ہے۔اہلِ خانہ نے اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کے سامنے مطالبہ رکھا کہ قتل میں شامل تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، سی سی ٹی وی فوٹیج کی فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) سے سائنسی جانچ کرائی جائے، متاثرہ خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے، مناسب مالی امداد فراہم کی جائے اور اسپیڈی ٹرائل کے ذریعے تمام مجرموں کو سخت سزا دلائی جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی کرائم برانچ یا کسی آزاد ایجنسی سے غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ قتل کی مبینہ سازش بے نقاب ہو سکے۔
مولانا غلام رسول بلیاوی نے اہلِ خانہ کو یقین دلایا کہ بہار ریاستی اقلیتی کمیشن اپنے آئینی اور قانونی دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سنگین جرم میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون سے بچنے نہیں دیا جانا چاہیے اور متاثرہ خاندان کو ہر حال میں انصاف ملنا چاہیے۔
عبدالباری صدیقی نے موقع ہی سے ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) دربھنگہ سے ٹیلیفون پر بات کرکے متاثرہ خاندان کے لیے مناسب معاوضہ اور سرکاری امداد فراہم کرنے کی درخواست کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سے بھی گفتگو کرتے ہوئے ہدایت دی کہ قتل میں ملوث تمام افراد کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے، کسی بھی ملزم کے ساتھ نرمی نہ برتی جائے اور اسپیڈی ٹرائل کے ذریعے انہیں قرار واقعی سزا دلائی جائے۔
اس موقع پر آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدر اور جنتادل (یو) کے رہنما نظرعالم، دیدار حسین چاند، ریاض خان قادری، ڈاکٹر انتخاب ہاشمی، مولانا مہدی رضا روشن القادری، مولانا بشیر الہدیٰ قادری، حافظ نصیر احمد سرپنچ، محمد شاہد، محمد سیفو، حافظ محمد ابو شحمہ، نواب، حبیب اصغر، ڈاکٹر آفتاب عالم، ڈاکٹر منصور خشتر، حامد انصاری، سمیر خان، اشرف احمد، ضمیر خان، بھولو یادو، عبدالباسط سمیت بڑی تعداد میں معززینِ شہر اور مقامی باشندے موجود تھے۔
شرکاء نے مشترکہ طور پر قاتلوں کی فوری گرفتاری، غیرجانبدارانہ تحقیقات، مناسب سرکاری امداد اور متاثرہ خاندان کو جلد از جلد انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

Bihar

’دعوتِ گفتگو‘کے تحت ایک علمی و ادبی مذاکرہ کا انعقاد

Published

on

گیا جی : شہر کے نیو کریم گنج میں واقع مولانا انوارالحق اردو لائبریری میں جمعہ کی شام ’’دعوتِ گفتگو‘‘ کے تحت ایک علمی و ادبی مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں ادب، علم اور فکر کے دو اہم موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ پہلا موضوع ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ ممتاز افسانہ نگار و ادیب پروفیسر حسین الحق کی شخصیت اور ادبی خدمات تھا، جبکہ دوسرا موضوع بھارت رتن اور سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی تصنیفی خدمات اور ان کے افکار کی عصری معنویت پر مشتمل تھا۔
مقررین نے کہا کہ پروفیسر حسین الحق نے اپنی تخلیقات میں انسانی رشتوں، سماجی تبدیلیوں اور عوامی زندگی کے مسائل کو نہایت حساس اور فنی انداز میں پیش کیا، جس کی وجہ سے انہیں اردو فکشن میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
اس موقع پر ان کی غیر مطبوعہ تحریروں پر مشتمل دو کتابوں ’’حسین الحق: فن اور فنکار‘‘ اور ’’حسین الحق: مسافر کا خواب‘‘ کی رسمِ اجرا بھی انجام دی گئی۔ ان کتابوں کی تدوین ان کے صاحبزادے ڈاکٹر سید عینین علی حق نے کی ہے۔ مقررین نے اسے اردو ادب کے لیے ایک اہم اضافہ قرار دیا۔
دوسرے اجلاس میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی سائنسی، تعلیمی اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ان کی تحریریں نوجوانوں میں علم، تحقیق، سائنسی مزاج اور قومی خدمت کا جذبہ پیدا کرتی ہیں اور ان کی زندگی عزم، دیانت اور محنت کی روشن مثال ہے۔
جلسے کی صدارت پروفیسر سید احمد قادری نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض شارے علی حق نے انجام دیے۔ مذاکرے سے پروفیسر قاسم فریدی، پروفیسر عین تابش، ندیم جعفری، پروفیسر محمد بدیع الزماں، پروفیسر اصفر جمال ملک، پروفیسر مشیر الزماں، نوشاد ناداں، ڈاکٹر احسان اللہ دانش، پروفیسر پرویز وہاب اور امان الحق نے خطاب کیا۔ مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ مدثر ظفر اور غلام غوث نے بھی اظہارِ خیال کیا۔
اس موقع پر اسد الحق، آفتاب عالم، صحافی فیصل رحمانی، ممتاز احمد، معراج احمد، ایس ایم ثاقب، سید فضل الرحمن، ابو آلے، اشتیاق عالم اور لائبریرین محمد دانش سمیت بڑی تعداد میں اہلِ علم، ادباء، محققین اور کتاب دوست افراد موجود تھے۔
اختتام پر پروفیسر پرویز وہاب نے کہا کہ مولانا انوارالحق اردو لائبریری صرف کتابوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ علمی و ادبی مکالمے کا ایک فعال مرکز ہے۔ بعد ازاں پروفیسر عین تابش کے کلمات تشکر سے پروگرام اختتام پزیر ہوا۔

Continue Reading

Bihar

تحریم فاطمہ نے نیٹ یوجی2026میں شاندار کامیابی حاصل کرکے علاقے کا نام کیاروشن

Published

on

دربھنگہ: ضلع کی باصلاحیت طالبہ تحریم فاطمہ، دختر اعجاز احمد اور شبانہ پروین نے قومی اہلیت و داخلہ امتحان (نیٹ یوجی) 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔
تحریم فاطمہ نے 720 میں سے 601 نمبر حاصل کیے ہیں۔ انہیں 99.5092242 پرسنٹائل حاصل ہوا ہے جبکہ آل انڈیا رینک (اے آئی آر) 9503 حاصل کرکے اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔ مضامین کے لحاظ سے انہوں نے حیاتیات (بایولوجی) میں 99.86 پرسنٹائل، کیمسٹری میں 99.71 پرسنٹائل اور فزکس میں 98.38 پرسنٹائل حاصل کیے ہیں۔
تحریم کی اس شاندار کامیابی پر ان کے اہلِ خانہ، اساتذہ اور پورے علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تمام خیرخواہوں نے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں ایک کامیاب ڈاکٹر بن کر انسانیت، معاشرے اور ملک کی خدمت کریں گی۔اس موقع پر اہلِ خانہ، اساتذہ، دوستوں اور علاقے کی معزز شخصیات نے تحریم فاطمہ کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی اس کامیابی کو ضلع کے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔تحریم کے بھائی عبدالواسع نے کہا کہ تحریم نے یہ نمایاں کامیابی حاصل کرکے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ہم سب کی جانب سے تحریم فاطمہ کو اس شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد اور ان کے روشن، کامیاب اور تابناک مستقبل کے لیے نیک خواہشات۔ اللہ تعالیٰ انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین۔

Continue Reading

Bihar

جھارکھنڈ میں ایس آئی آر کے فارم کی خانہ پُری کے لئے عوامی بیدار تحریک سرگرم عمل

Published

on

پھلواری شریف : ر  یاست جھارکھنڈ میں انتخای فہرستوں پر نظر ثانی کا کام چل رہا ہے ،ووٹر لسٹ میں ناموں کو درج کرانے کے لئے امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال کی طرف سے عوامی بیداری لانے کی خاطر ریاست بھر میں گیارہ رکنی ٹیمیں مستقل متحڑک و سرگرم عمل ہیں ،یہ تمام ٹیمیں امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ ،ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی صاحب ،قاضی شریعت مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی صاحب اور نائب ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی صاحب کی نگرانی میں اضلاع کی سطح سے بلاک و قصبات تک ایس آئی آر کے فارم بھرنے کے طریقہ کار سے واقف کرا رہے ہیں ،جس سے لوگوں میں بیداری آ رہی ہے ۔امارت شرعیہ کی طرف سے رہنمائی کرنے والی ٹیموں کی رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ فکر و عمل کی یکسانیت اور مسئلہ کی حساسیت و نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے بڑی دلچسپی سے تربیتی کیمپوں میں شرکت کر رہے ہیں ،ضلع رانچی کے مانڈر اور بیڑو بلاک سے قاضی انور صاحب ،مفتی محمد وسیم اختر صاحب ،مولانا سہیل سجاد صاحب اور مولانا اسجد قاسمی صاحب نے اپنی رپورٹ میں بتلایا کہ یہ ٹیم ہر اعتبار سے کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے ،مانڈر بلاک کے پانچ مقامات پر ایس آئی آر ہیلپ ڈیسک لگائے جا چکے ہیں ،اسی طرح بیڑو میں چار جگہوں پر تربیتی کیمپ منعقد ہوئے اور ہر جگہ فعال نوجوان کی ٹیم مقرر کر دی گئی ہے ،ضلع گڈا سے قاضی سہیل اختر قاسمی صاحب اور مولانا مجیب الرحمٰن قاسمی صاحب نے کہا کہ مہگاواں بلاک اور بسنترائے کے خرد سانکھی ،بسنت رائے ،جمنی کولہ کیتھیا میں تربیتی پروگرام ہوئے ۔ضلع دھنباد سے قاضی شاہدقاسمی صاحب نے لکھا کہ ضلع بوکارو کے چندنکیاری ،انصار محلہ ،نوڈیہا،مکتا پور کے مقامی اصحاب کی مٹینگیں ہوئیںاور ان کے سامنے ایس آئی آر کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی،اس کے بعد ہیلپ ڈیسک قائم ہوا ،قاضی ضمیرالدین قاسمی صاحب نے گریڈیہہ کے منڈا ٹانر اور بلائی ڈیہہ میں متدد اجتماعات کئے ۔مولانا احمد حسین احمدقاسمی مدنی ،مولانا عمران عالم قاسمی اور مولانا سرفراز عالم مظاہری نے ضلع دیوگھر کے کئی بستیوں میںپروگرام کیا اور ایس آئی آر کے تعلق سے رہنمائی کی،بستیوں میں نوجوانوں کی ٹیم بھی بنا دی گئی ہے کام بھی جاری ہے ۔مولانا قمر انیس قاسمی صاحب اور قاضی سعود عالم قاسمی صاحب نے اپنے معاونین کے ساتھ جمشید پور چائباسہ میں متعدد پرگرام کئے اور ہر جگہ ہیلپ ڈیسک تشکیل دی ۔مولانا کلیم اللہ مظہر قاسمی ،مفتی عبدالباری قاسمی ،مولانا رفیع احمد ندوی اور مولانا عبدالجبار حسامی کی معاونت میں ہزاری باغ کے بڑکا گاؤں بلاک کے مختلف علاقوں میں رہنمائی میں مستقل مصروف ہیں اور متحرک نوجوانوں کی ٹیم تشکیل دے کر ایس آئی آر مہم کو قوت بخش رہے ہیں اور ہر مقام پر رضاکاروں کو بھی توجہ دلا رہے ہیں۔مولانا قیام الدین قاسمی،مولانا سعودا للہ رحمانی ،قاضی صدام حسین قاسمی اور مولانا ضیاء الاسلام قاسمی پاکوڑ کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو ایس آئی آر کا فارم بھرنے کی طریقہ بتلایا اور اکثر مساجد کے دروازہ پر ہیلپ ڈیسک قائم کیا اور وہاں نامزد افراد بھی طے کر دیئے جس سے کاموں کو آگے بڑھانے میں سہولت پیدا ہوئی ۔مولانااکرام الدین قاسمی صاحب ،مولانا عبدالجبار قاسمی صاحب ضلع لاتیہار کے لالٹین گنج کے مختلف دیہی و شہری آبادیوں میں مستقل ایس آئی آر کی اہمیت سے لوگوں کو واقف کرا رہے ہیں اور باہمی مشورہ سے ٹیمیں بھی تشکیل دے رہے ہیں ۔مولانا مختار احمد قاسمی اور مولانا احمد حسین قاسمی نے سمڈیگا سے رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ اس علاقہ میں 90/فیصد کام مکمل ہو گیا ہے ،شہر کے مختلف محلوں میں عوامی رہنمائی ،فارموں کی جانچ اور اصلاح کا کام اطمینان بخش طریقہ سے انجام پا رہا ہے ۔امارت شرعیہ کی تحریک اور یہاں کے علماء کی جدوجہد سے جھارکھنڈ میں عوامی بیداری مہم کامیابی کے ساتھ انجام پا رہا ہے ۔ان شاء اللہ مستقبل میں اس کے مفید اثرات ظاہر ہوں گے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network