Connect with us

uttar pradesh

اردو کے فروغ میں دہلی کالج کی انفرادی خصوصیات کو نہیں کیا جاسکتا نظر انداز:پروفیسر اے آر فتیحی

Published

on

میرٹھ:وہ مدرسہ جو مغلوں کے دور میں قائم ہوا اور آہستہ آہستہ مدرسہ سے کالج میں تبدیل ہوگیا۔ دہلی کالج نے ایسا ذخیرہ اکٹھا کیا جس سے اردو کو فروغ ملا۔ مولوی ذکا ء اللہ نے ترجمہ کے حوالے سے ایک بڑا کام کیا۔1857ء کے ہنگامے کے بعد بہت سی چیزیں ادھر اُدھر ہوگئیں اور یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ دہلی کالج کی ادبی خدمات سے ہمارے اسکالرز نے بڑی تعداد میں استفادہ حاصل کیا۔یہ الفاظ تھے معروف ماہر لسانیات پرو فیسر اے۔ آر فتیحی کے جو شعبہئ اردو اور ایو ساکے زیر اہتمام منعقد ”دہلی کالج کی ادبی خدمات“ موضوع پر مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو کے فروغ میں دہلی کالج کی انفرادی خصوصیات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سرپرستی بین الاقوامی شہرت یافتہ ناقدڈاکٹر تقی عابدی]کناڈا[ اور معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض سابق صدر شعبہئ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔ مہمانان خصوصی کے بطور معروف ماہر لسانیات اے آر فتیحی]شعبہئ لسانیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی[ اورجہان ِاردو، دربھنگہ کے مدیر پروفیسر مشتاق احمد نے آن لائن شر کت فرمائی۔مہمانِ اعزازی کے بطور معروف ناقد پروفیسر سر ور ساجد]علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی[ شریک ہو ئے۔پروگرام میں ایوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین موجود رہیں۔ مقالہ نگار کے بطور ریسرچ اسکالر اطہر خان نے شر کت کی۔استقبالیہ ڈاکٹر ارشاسیانوی اورنظامت کے فرائض لکھنؤ یونیورسٹی کی شاذیہ خان نے بحسن و خوبی انجام دیے اور شکریے کی رسم محمد عابد نے ادا کی۔
صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ دہلی کالج میں غالبؔ بھی پڑھانے کے لیے گئے تھے مگر جس طرح سے دہلی کالج میں غالبؔ کا استقبال ہونا چاہئے تھا اس طرح نہیں ہوا۔ اس لیے غالبؔ وہاں سے واپس آ گئے۔ ماسٹر رام چندر، مولوی ذکا ء اللہ، امام بخش صہبائی، پیارے لال آ شوب وغیرہ نے اردو کو عربی و فارسی کے دائرے سے نکالنے کا کام کیا۔ اردو ادب کی خدمات میں ان کو فرا موش نہیں کیا جاسکتا۔
پروفیسر ریشما پروین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً تمام کالجز اور یونیورسٹیز کے نصاب میں دہلی کالج کی ادبی خدمات کو شامل کیا گیا ہے۔
آج کے موضوع سے یقینا ہمارے اسکالرز کو کافی فائدہ ہوگا اور ہمارے طلبا بھی اس سے کافی فیض اٹھائیں گے۔
پروفیسر مشتاق احمد نے کہا کہ ہم اردو والوں کے اعتبار سے اس کالج کی بڑی اہمیت ہے۔ مغلیہ عہد میں اس ادارے کا قیام عمل میں آ یا تھا۔یہ کالج صرف ادب کے لیے نہیں تھا۔ اس وقت یورپ میں انقلاب کے بعد جو جدید تعلیم کا آ غاز ہوا اس وقت یورپ تک مغربی ادبیات کو دہلی کالج نے عام کیا اگر دہلی میں کالج کا قیام عمل میں نہ آ تا تو سرسید علی گڑھ میں یونیورسٹی کی بنیاد نہیں ڈال پا تے۔ دہلی کالج کی طرز پر انہوں نے یو نیورسٹی بنائی۔ آج نئی نسل کے لیے یہ ادارہ ایک مثال ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈا کٹر تقی عابدی]کناڈا[ نے کہا کہ ادب نما کے پروگرام میں بہت سے مضامین پر بات ہوتی ہے۔ اسلم صاحب نئے نئے موضو عات کا انتخاب کرتے ہیں اور ڈاکٹر ارشاد صاحب تو سدا بہار ہیں الگ الگ موضو عات پر خوب بات کرتے ہیں۔ رام چندر نے ریاضی کو ترجموں کے ذریعے پیش کیا۔ اس حوالے سے انہیں ادب کا پلر یا ستون کہہ سکتے ہیں۔ ہماری قوم کی ترقی تعلیم سے جڑی ہوئی ہے۔ دہلی کالج علوم سائنس کے ساتھ ورنا کلر کی مدد سے سائنس، اردو اور ریاضی کی تعلیم کو فروغ دینے میں آگے رہا۔یہ کالج کچھ سال بند ہوجانے کے بعد سے کسی شکل میں چلا لیکن ہمارے ادیبوں نے اس کے چلانے میں جو اہم خدمات انجام دیں ان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دہلی کالج نے دلوں اور دماغوں پر حکومت کی ہے۔

uttar pradesh

مدارس و مساجد کے خلاف کارروائی تشویشناک

Published

on

دیوبند:جمعیۃ علماء راجستھان کے ناظم مولانا مفتی حبیب اللہ قاسمی اور راجستھان لیبر بورڈ کے سابق چیئرمین غفور احمد نے راجستھان کے سرحدی علاقہ میں حالیہ میں دنوں میں مساجد،مدارس اور درگاہوں کے خلاف جاری انہدامی کارروائی اور نوٹسوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے یکطرفہ اور منظم کارروائی قرار دیا اور ہائی کورٹ سے معاملہ خارج ہونے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی بات کہی ہے۔
آج یہاں دارالعلوم چوک پرواقع میڈیا سینٹر میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی حبیب اللہ قاسمی اور غفور احمد نے کہاکہ راجستھان کے جیسلمیر، باڑمیر، بیکانیر اور دیگر سرحدی اضلاع میں سرحد سے پچاس کلو میٹر تک کے دائرہ میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد مساجد، مدارس اور درگاہوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں، درجن بھر سے زائد مساجد و مدارس اور مذہبی مقامات کو منہدم کیا جا چکا ہے جبکہ سیکڑوں عبادت گاہوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں کے مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔یہ کارروائی نیشنل سکیوریٹی کا حوالہ دے کر صرف مساجد، مدارس اور درگاہوں کے خلاف کی جارہی ہے۔
غفور احمد نے بتایا کہ اس معاملے پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے اور ہم نے قانونی محاذ پر پوری قوت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غفور احمد نے الزام عائد کیا کہ مرکزی وزارت داخلہ کے2021 کے نوٹیفکیشن کا سہارا لے کر سرحدی علاقوں میں صرف مسلم مذہبی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اسی دائرے میں واقع دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے خلاف ایسی کارروائیاں نہیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی قومی سلامتی کا کوئی مسئلہ ہے تو قانون کا اطلاق بلا امتیاز تمام متعلقہ مقامات پر ہونا چاہیے، صرف ایک طبقے کو نشانہ بنانا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ مفتی حبیب اللہ نعمانی نے کہا کہ مدارس اور مساجد کی صدیوں پر محیط روشن تاریخ ہے اور آج تک ان اداروں سے قومی سلامتی کو کسی قسم کا خطرہ ثابت نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت قومی سلامتی کا حوالہ دے رہی ہے تو اسے واضح کرنا چاہیے کہ ان مذہبی اداروں سے کس نوعیت کا خطرہ لاحق ہے۔ غفور احمد نے تجویز پیش کی کہ اگر اراضی یا تعمیر سے متعلق کسی قانونی ضابطے کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے تو متاثرین کو جرمانہ یا دیگر قانونی تقاضے پورے کرنے کا موقع دیا جائے، نہ کہ براہ راست انہدامی کارروائی کی جائے۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی ہیں بلکہ اس سے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی یہ یک طرفہ کارروائی مسلمانوں کو معاشی، سماجی اور مذہبی طور پر کمزور کرنے کی منظم کوشش معلوم ہوتی ہے اور اس کے خلاف اب سپریم کورٹ سے رجوع کرینگے۔

Continue Reading

uttar pradesh

اے ایم یو کی استاذکو برونیل یونیورسٹی لندن سے ماسٹر آف پبلک ہیلتھ کی ڈگری تفویض

Published

on

علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ احمد کو برطانیہ کی برونیل یونیورسٹی لندن کی جانب سے 14 جولائی کو منعقدہ جلسہ تقسیمِ اسناد میں ماسٹر آف پبلک ہیلتھ (ایم پی ایچ) کی ڈگری سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر ثمینہ احمد نے اے ایم یو میں اپنی تدریسی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بین الاقوامی شہرت یافتہ ایم پی ایچ پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔
اس پروگرام کے تحت انہیں وبائیات، حیاتیاتی شماریات، صحت کے فروغ، صحت عامہ کی پالیسی، تحقیقی طریقہ کار اور عالمی صحتِ عامہ جیسے موضوعات میں اعلیٰ تربیت حاصل ہوئی، جس سے صحتِ عامہ کی تعلیم، تحقیق اور کمیونٹی ہیلتھ کے شعبوں میں ان کی مہارت مزید مستحکم ہوئی۔
اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی چیئرپرسن پروفیسر عظمیٰ ارم نے کہا کہ یہ کامیابی ڈاکٹر ثمینہ احمد کے تعلیمی امتیاز اور مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کے عزم کی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس پروگرام سے حاصل ہونے والا علم اور بین الاقوامی تجربہ شعبے کی تدریسی، تحقیقی اور سماجی خدمات کو مزید تقویت بخشے گا۔
ڈاکٹر ثمینہ احمد نے اپنی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر عظمیٰ ارم کا مسلسل حوصلہ افزائی، رہنمائی اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے اساتذہ، رہنماؤں، ساتھیوں، دوستوں اور اہلِ خانہ کے تعاون کو بھی سراہا، جن کی مدد سے وہ یہ ڈگری کامیابی سے مکمل کر سکیں۔
ڈاکٹر ثمینہ احمد نے ایم بی بی ایس اور ایم ڈی (کمیونٹی میڈیسن) کی ڈگریاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی ہیں اور وہ اس وقت جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ تدریس، تحقیق اور کمیونٹی ہیلتھ پروگراموں میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔

Continue Reading

uttar pradesh

عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجوانان کے موقع پر3 روزہ کروشیا ورکشاپ اور ہنر نمائش کا انعقاد

Published

on

علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹر فار اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ کیریئر پلاننگ (سی ایس ڈی اینڈ سی پی) کے زیر اہتمام عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجواناں 2026 کے موقع پر 13 تا 15 جولائی ”ہک، یارن اینڈ کری ایٹوٹی: لرن کروشیا فرام اسکریچ“ کے عنوان سے تین روزہ عملی تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی، جس کے اختتام پر شرکاء کی تیار کردہ مصنوعات کی ایک ہنر نمائش بھی سجائی گئی۔
نمائش میں گارمنٹ میکنگ، فیشن السٹریشن اینڈ اسکیچنگ، ٹیکسٹائل ڈیزائننگ اور مرکز کی جانب سے گزشتہ چند ماہ کے دوران منعقد کیے گئے دیگر ہنر مندی پروگراموں میں شریک طلبہ کے تیار کردہ منصوبے اور تخلیقی نمونے پیش کیے گئے۔ اس موقع پر سینٹر آف کنٹی نیواِنگ اینڈ ایڈلٹ ایجوکیشن اینڈ ایکسٹینشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمیم اختر، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے پروفیسر سلمان خلیل اور شعبہ تعلیم کے ڈاکٹر محمد شاکر بھی موجود تھے۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر شمیم اختر نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور زندگی بھر سیکھنے کے رجحان کو مستحکم کرنے میں ہنر پر مبنی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجواناں کے جذبے کے مطابق پیشہ ورانہ مہارتوں اور پائیدار دستکاری کو فروغ دینے کے لیے مرکز کی کوششوں کو سراہا۔
پروفیسر سلمان خلیل نے شرکاء کی تخلیقی صلاحیتوں اور کاروباری امکانات کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ترغیب دی کہ وہ اپنے حاصل کردہ ہنر کو خود روزگار اور آمدنی کے مواقع میں تبدیل کریں۔
ڈاکٹر محمد شاکر نے طلبہ کے جوش و جذبے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام شخصیت سازی، روزگار کے امکانات میں اضافے اور نوجوانوں میں ہنر پر مبنی تعلیم کے بڑھتے ہوئے رجحان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نمائش کی نگرانی سینٹر کی اسٹوڈنٹ کاؤنسلر ڈاکٹر ثمرین حسن خان نے ٹرینرز ادیبہ سلیم، صنوبر اور زینت بانو کے تعاون سے کی۔ ڈاکٹر ثمرین حسن خان نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں طلبہ میں عملی مہارت، تخلیقی صلاحیت، خود انحصاری اور چھوٹے پیمانے پر کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔
کروشیا کی تربیتی نشستیں کری ایٹو کروشیا کی سربراہ محترمہ زینت بانو نے منعقد کیں، جنہوں نے عملی مشقوں اور تعاملی مظاہروں کے ذریعے شرکاء کو کروشیا کے بنیادی اصول، مختلف ٹانکے، دھاگے کے استعمال، ڈیزائن سازی، تکمیلی تکنیکوں اور آرائشی و استعمالی اشیا کی تیاری کی تربیت دی۔
ورکشاپ میں تقریباً 50 طلبہ نے شرکت کی، جبکہ عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجواناں 2026 کے موضوع ”اسکِلس فار اے شیئرڈ فیوچر“ پر منعقدہ نعرہ نویسی مقابلے میں بھی 20 سے زائد طلبہ نے پُرجوش انداز میں حصہ لیا۔
پروگرام کے اختتام پر ورکشاپ، مقابلوں، اورینٹیشن سیشنز اور مرکز کی جانب سے منعقدہ دیگر ہنر مندی سرگرمیوں میں شریک طلبہ کو اسناد تقسیم کی گئیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network