Connect with us

uttar pradesh

محرم الحرام خوشیوں، سعادت اور حق پر استقامت کا مہینہ: مفتی ابوالکلام حلیمی

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:آل انڈیا سنی موومنٹ کے زیرِ اہتمام جاری عظیم الشان دینی و اصلاحی ’جلسہ شہدائے اسلام ‘بَرف خانہ، مصاحب گنج، ٹھاکر گنج، لکھنؤ میں عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوا۔ جلسے کی صدارت صدر آل انڈیا سنی موومنٹ سید بلال نورانی نے کی، جبکہ نظامت جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محمد متین خان نے انجام دی۔
جلسے کا آغاز حافظ محمد احمد صاحب کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ شعرائے کرام محمد اسامہ، حافظ محمد سعد اور محمد عمران نے بارگاہِ رسالت میں نعت و منقبت کا نذرانہ پیش کیا۔ اس موقع پر علماء کرام، ائمہ مساجد، دانشوران اور عوام الناس کی بڑی تعداد موجود رہی۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالمِ دین مولانا مفتی ابوالکلام حلیمی نے فرمایا کہ محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے، جو اپنے دامن میں بے شمار عظیم شہادتوں کی سعادت اور عزت سمیٹے ہوئے ہے۔ اگرچہ حضرت حسین کی شہادت اس مہینے کا عظیم ترین واقعہ ہے، لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا صرف حضرت حسین ہی کی شہادت ماہِ محرم میں ہوئی؟ اور کیا شہادت کا مفہوم رنج و الم اور آنسو بہانا ہے؟
انہوں نے کہا کہ اسلامی تاریخ اس کا واضح جواب دیتی ہے۔ حضرت عمر فاروق کی شہادت بھی ماہِ محرم میں ہوئی، جبکہ حضرت عثمان غنی، سید الشہداء حضرت حمزہ اور دیگر بے شمار جلیل القدر صحابہ کرام نے بھی راہِ خدا میں جامِ شہادت نوش کیا۔ اس لیے محرم کی عظمت صرف ایک تاریخی شہادت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ابتدا ہی سے حرمت والا مہینہ قرار دیا ہے۔مفتی حلیمی نے کہا کہ اسلام میں شہادت غم نہیں بلکہ عزت، سعادت اور دائمی کامیابی کی علامت ہے۔ حضرت حسین کی قربانی امت کو صبر، استقامت، حق پر ڈٹے رہنے اور ظلم کے سامنے نہ جھکنے کا درس دیتی ہے۔ کربلا کا پیغام مایوسی نہیں بلکہ عزم، حوصلہ، قربانی اور دین پر ثابت قدمی کا پیغام ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے حضرت عمر فاروقؓ کی دعا کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ رسول اکرم ؐ سے جنت کی بشارت پانے کے باوجود آپؐ کی سب سے بڑی آرزو شہادت تھی۔ آپ دعا فرمایا کرتے تھے۔یعنی: اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا فرما اور میری موت اپنے رسول کے شہر مدینہ میں مقدر فرما۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شانِ کریمی سے حضرت عمر فاروق کی دونوں دعائیں قبول فرمائیں اور انہیں مدینہ منورہ میں شہادت کی عظیم سعادت عطا فرمائی۔ یہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اخلاص کے ساتھ مانگی گئی دعا کو اللہ تعالیٰ ایسے انداز سے قبول فرماتا ہے جس کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔آخر میں انہوں نے کہا کہ حضرت عمر فاروق کی شہادت اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ شہادت اہلِ ایمان کی آرزو، انبیاء و صالحین کی خواہش اور اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

جرائم پیشہ افراد پر قابو پانا پولیس کی اولین ترجیح

Published

on

دیوبند:دیوبند میں آنے والے نئے کوتوالی انچارج سندیپ بالیان نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد قانونی نظم ونسق سے متعلق اپنا موقف واضح کیا اور جرائم پیشہ افراد کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ دیوبند میں کسی بھی طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ جرائم پر قابو پانے کے لئے پولیس پوری سنجیدگی کے ساتھ کارروائی کرے گی ۔
کوتوالی انچارج سندیپ بالیان نے کہا کہ دیوبند اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں جوا ،سٹہ ،نشہ خوری اور گئوکشی سمیت تمام مجرمانہ سرگرمیوں پر پولیس کی خصوصی نظر رہے گی ۔انہوں نے واضح کیا کہ قانون سے کھلواڑ کرنے یا جرائم میں اضافہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ پولیس اصل مقصد علاقہ میں امن وامان قائم رکھنا ،حفاظتی انتظامات کو درست رکھنا اور قانون کی بالادستی کو قائم رکھنا ہے ۔
اسی لئے جرائم پیشہ افراد ،غیر سماجی عناصر کی سرگرمیوں پر خاص نظر رکھی جائے گی ۔اور ضرورت کے اعتبار سے کارروائی بھی کی جائے گی ،نیز کسی بھی شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔کوتوالی انچارج سندیپ بالیان نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جرائم پر قابو پانے کے لئے عوامی تعاون بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ،انہوں نے کہا کہ علاقہ میں کسی بھی طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں کی اطلاع فوراً پولیس کو دیں ۔انہوں نے دیوبند کے باشندوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ سنا جائے گا اورقانونی اعتبار سے کارروائی کی جائے گی۔
،انہوں نے کہا عوام اور پولیس کے باہمی تعاون سے علاقہ میں مضبوط قانونی نظم ونسق قائم کیا جاسکتا ہے ،سندیپ بالیان کے اس سخت پیغام کے بعد جرائم پیشہ افراد میں افراتفری پیدا ہوگئی ہے ۔

Continue Reading

uttar pradesh

سہارنپور میں قبر کھود کر بچی کا لیا گیا ڈی این اے نمونہ

Published

on

دیوبند:اتراکھنڈ پولس کی ایک ٹیم منگل کو دوپہر 12 بجے سہارنپور پہنچی تاکہ ایک نابالغ لڑکی کی عصمت دری کی تحقیقات کی جاسکے۔ ڈاکٹروں کے ہمراہ ٹیم سڑک دودھلی کے علاقے میں گیس گودام کے قریب قبرستان پہنچی۔ ٹیسٹ کے لیے چھ ماہ کی بچی کی قبر سے ڈی این اے کے نمونے لیے گئے۔ پولیس اور میڈیکل ٹیم کو دیکھ کر گاؤں والے اور کنبہ کے لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہوگئے۔ سیکورٹی کے لیے پولیس اہلکار بھی تعینات تھے۔
سڑک دودھلی گیس گودام کے قریب رہنے والے انس ولد منورپر الزام ہے کہ اس نے اتراکھنڈ کے منگلور علاقے کی ایک نابالغ لڑکی کو سہارنپور لے جا کر اس کی عصمت دری کی۔ جب لڑکی کے گھر والوں کو اس واقعہ کا علم ہوا تو وہ لڑکی کو واپس اپنے ساتھ لے گئے۔ انس کے اہل خانہ کے مطابق لڑکی کچھ وقت کے بعد انس کے پاس واپس آگئی۔ بتایا گیا ہے کہ لڑکی تقریباً دو سال قبل متعدد بار انس کے ساتھ گئی تھی۔ دونوں نے بعد میں شادی کر لی۔ دسمبر 2025 میں انس نے لڑکی کو طلاق دے دی۔ اس دوران اس جوڑے کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی، جو کچھ دنوں کے بعد فوت ہوگئی۔
لڑکی کے خاندان کی شکایت پر اتراکھنڈ پولیس نے ملزم انس کے خلاف پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفنس (پاکسو) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ تقریباً چار ماہ قبل پولیس نے اسے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تھا۔ پولیس نے اس معاملے میں چارج شیٹ بھی داخل کر دی ہے۔ اب تفتیش کے دوران اضافی شواہد اکٹھے کرنے کے لیے بچی کا ڈی این اے نمونہ لیا گیا ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے راکھی و تھال سجاوٹ مقابلے کا انعقاد

Published

on

لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ ہوم سائنس کی جانب سےوائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی سرپرستی اور پروفیسر تطہیر فاطمہ کی رہنمائی میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو پلیٹ فارم فراہم کرنے اور ہندوستانی فن، ثقافت و روایات کے تئیں ان کی دلچسپی کو فروغ دینے کے مقصد سے ’’راکھی سازی و تھال سجاوٹ مقابلے‘‘ کا انعقادکیا گیا۔
اس مقابلے میں طلبہ نے اپنی تخلیقی سوچ اور فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوبصورت اور دلکش راکھیوں کی تیاری کی۔ اس کے ساتھ ہی پھولوں، رنگوں، آرائشی اشیا اور روایتی سامان کا استعمال کرتے ہوئے خوبصورت اور فنکارانہ تھالیاں بھی سجائیں۔مقابلے کا مقصد طلبہ میں تخلیقی فکر، جمالیاتی ذوق، دستکاری کی مہارت اور ہندوستانی روایتی فنون کے تئیں بیداری و دلچسپی پیدا کرنا تھا۔ اس مقابلے کے ذریعے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کو تخلیقی انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صحت مند مسابقت کے ماحول میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں اور ہنر کو نکھارنے کا موقع ملا۔
اس مقابلے میں شریک طالبات کی حوصلہ افزائی اور ہندوستانی روایت و ثقافت میں راکھی کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ راکھی محض ایک دھاگا نہیں بلکہ یہ بھائی اور بہن کے درمیان محبت، اعتماد، خلوص اور تحفظ کے مقدس رشتے کی علامت ہے۔ ہندوستانی تہذیب و ثقافت میں رکشا بندھن کی روایت کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس طرح کے مقابلوں کے ذریعے طلبہ نہ صرف اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنی شاندار تہذیبی و ثقافتی روایات سے جڑنے کا بھی موقع ملتا ہے۔انھوںنے کہا کہ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس طرح کی غیر نصابی اور ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد بھی ضروری ہے۔
ایسی سرگرمیاں طلبہ میں خود اعتمادی، فنکارانہ ذوق، ہنرمندی اور ٹیم ورک کے جذبے کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے مقابلے میں حصہ لینے والی تمام طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس مقابلے میںبہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شرکاء کو انعامات سے نوازا گیا۔ مقابلے میں طلبہ نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network