Bihar
عوام کوبااختیاربنانے اور ایک مضبوط قوم کی تعمیر کی بنیادہے کھیل،شخصیت سازی، قیادت، نظم و ضبط، ٹیم اسپرٹ اور ذہنی مضبوطی پیدا کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے اسپورٹس : گورنر
(پی این این)
پٹنہ: بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنین (ریٹائرڈ) نے ہفتہ کے روز کہا کہ کھیل تفریح کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط شخصیت، قائدانہ صلاحیت، نظم و ضبط، ٹیم اسپرٹ اور ذہنی مضبوطی پیدا کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
گورنر مسٹر حسنین نے آج یہاں’کڑیا بھارتی‘، بہار کی جانب سے پٹنہ میں منعقدہ صوبائی رابطہ سربراہ اور صوبائی تشہیر سربراہ کے تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستانی فوج میں کھیلوں کی اہمیت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کھیل فوجیوں میں ہمت، خود اعتمادی اور چیلنجوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کھیل صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہیں، بلکہ ایک صحت مند معاشرے، بااختیار شہریوں اور ایک مضبوط قوم کی تعمیر کی بنیاد ہیں۔ گورنر نے کہا کہ’کڑیا بھارتی‘ محض ایک تنظیم نہیں، بلکہ کھیل، صحت، نظم و ضبط اور حب الوطنی کو فروغ دینے والی ایک وسیع عوامی تحریک ہے۔ انہوں نے پروگرام میں حصہ لینے والے بچوں اور نوجوانوں کی جانب سے پیش کردہ کھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں کے شاندار مظاہرے کی تعریف کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی۔
مسٹر حسنین نے انڈین ملٹری اکیڈمی، دہرادون میں اس سال باوقار’سورڈ آف آنر‘ سے نوازے گئے بہار کے موکاما کے رہائشی اکیڈمی کیڈٹ ایڈجوٹنٹ وشال کمار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی ریاست کے نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
گورنر نے کہا کہ کھیل نوجوانوں کو نشے اور دیگر سماجی برائیوں سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے’کڑیا بھارتی‘ کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم اسکولوں، کالجوں اور سماج کے مختلف طبقوں میں کھیلوں کے کلچر کو مضبوط کر رہی ہے۔مسٹر حسنین نے کہا کہ باکسنگ، کشتی، کبڈی، ہاکی اور فٹ بال جیسے کھیل نوجوانوں میں ہمت، جدوجہد اور ذہنی مضبوطی پیدا کرتے ہیں۔ کھیل انسان کو چیلنجوں کا سامنا کرنا، ناکامیوں سے سیکھنا اور مشکل حالات میں بھی آگے بڑھتے رہنا سکھاتے ہیں۔ گورنر نے راجگیر میں زیر تعمیر اسپورٹس یونیورسٹی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بہار میں کھیلوں کی ترقی کو نئی رفتار ملے گی۔ ساتھ ہی، انہوں نے کبڈی، مکھمب سمیت دیگر روایتی ہندوستانی کھیلوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
مسٹر حسنین نے اس موقع پر انڈر-18 ایشین مرد ہاکی ٹورنامنٹ میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے بہار کے کھلاڑی ساون کمار اور ان کے والدین نیز بہار اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر اجے کمار کو اعزاز سے نوازا۔ پروگرام سے ریاست کے وزیر تعلیم مسٹر متھیلیش تیواری اور سابق رکن اسمبلی ’کڑیا بھارتی‘، بہار صوبہ کے ریاستی صدر راجیشور راج نے بھی خطاب کیا۔
Bihar
’دارالقضاء سے باہمی تنازعات کا حل تلاش کرنا ایمانی فریضہ‘،اصلاح معاشرہ کے تحت ضلع سمستی پور کی مختلف مساجد میں علماء امارت شرعیہ کا خطاب
(پی این این)
سمستی پور: حسب ہدایت مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم، امیر شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال، حسب ایماء حضرت مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال، امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کا ایک دعوتی و اصلاحی وفد، حضرت مولانا قمر انیس قاسمی صاحب دامت برکاتہم، معاون ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کی قیادت میں، ضلع سمستی پور کے دورے پر ہے۔
وفد میں مفتی راشد انور قاسمی، معاون قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ، مولانا امان اللہ قاسمی، قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ دھرم پور سمستی پور، مفتی نیرالاسلام قاسمی صاحب، استاذ حدیث دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ، مولانا محمد جمیل اختر رحمانی، مبلغ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اور مولانا رضوان احمد مظاہری، مبلغ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ شریک ہیں۔
چک عبد الغنی کی جامع مسجد میں جمعہ سے قبل عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے قائد وفد مولانا قمر انیس قاسمی ، معاون ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے امارت شرعیہ کے تمام شعبہ جات کا تعارف کراتے ہوئے نظام قضاء پر تفصیل سے روشنی ڈالی، آپ نے فرمایا کہ نظام قضاء اللہ کے نبی جناب محمد رسول اللہؐ وسلم کی سنت ہے، پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام خود قاضی شریعت تھے، دور نبوت میں مسجد نبوی میں بیٹھ کر آپ مقدمات کے فیصلے کیا کرتے تھے، آپؐنے متعدد صحابہ کرام کو مختلف جگہوں کے لیے قاضی مقرر فرمایا، قائد وفد نے فرمایا کہ اللہ کے نبی کے اسی سنت کو زندہ رکھتے ہوئے اکابرین امارت شرعیہ نے بھی بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال میں نظام قضاء قائم فرمایا، آج امارت شرعیہ کے تحت تقریبا سو مقامات پر دارالقضاء کا نظام قائم ہے، جہاں سے ہر سال کم خرچ اور کم وقت میں تقریبا آٹھ ہزار معاملات حل ہوتے ہیں، دارالقضاء کے ذریعہ کے باہمی تنازعات کا حل کرانا مسلمانوں کا ایمانی فریضہ ہے، چنانچہ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی مسلمان اپنے عائلی تنازعات کا حل دارالقضاء کے ذریعہ کرائیں، نیز قائد وفد نے موجودہ حالات کے تناظر میں لوگوں سے اپیل کی کہ آپ اپنا معاشرہ صالح اور پاکیزہ بنائیں، اتحاد و اجتماعیت کے ساتھ زندگی گزاریں، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں۔
مفتی راشد انور قاسمی معاون قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے جمعہ سے قبل بی بی فاطمہ بی ایڈ کالج بکرم پور باندے کی جامع مسجد میں خطابکرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں کی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہ گزرے جس میں اس کا کوئی امیر نہ ہو، انہوں نے فرمایا کہ ایک امیر کی ماتحتی میں رہ کر اجتماعیت کے ساتھ زندگی گزارنا ہر حال میں مسلمانوں پر لازم ہے۔
، امیر شریعت کی اطاعت ایمان کا حصہ ہے، نیز انہوں نئی نسل کی بہترین تربیت پر زور دیتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ آپ اپنے بچوں کے دلوں میں ایمان اتنا مظبوط کر دیں کہ یہ بچے آپ کی گود سے نکل کر دنیا کے جسں کونے میں جائیں اور چاہے جس طرح کے حالات کا انہیں سامنا کرنا پڑے کسی بھی صورت میں ان کا قدم لغزش نہ کھائے، یہ اپنے ایمان اور عقیدے پر ثابت قدم رہ سکیں۔
مفتی امان اللہ قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ سمستی پور نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ معاشرہ میں پھیلی ہوئی برائیوں کے سد باب کے لیے نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا، تلک، جہیز، بارات پر روک لگانا ہوگا، سموہ لون جیسے خطرناک سازشوں سے اپنی بہن اور بیٹیوں کو بچانا ہوگا۔
مفتی نیر الاسلام قاسمی صاحب استاذ حدیث دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے مسلمانوں سے اپیل کہ کہ ہرکام میں نیت کو خالص اللہ کے لیے رکھیں، انہوں نے فرمایا کہ اچھا اور خالص عمل اللہ کو مطلوب ہے، اس لیے جتنا بھی عمل کریں، خلوص و للہیت کے ساتھ کریں، نام و نمود اور شہرت سے بچیں۔
مولانا جمیل اختر رحمانی صاحب مبلغ امارت شرعیہ اور مولانا رضوان صاحب مظاہری مبلغ امارت شرعیہ وفد کے اس دورے کو کامیاب بنانے میں مسلسل جد و جہد کر رہیں، محی الدین پور وارث نگر کے جناب سلیمان صاحب، ماسٹر یاسین صاحب، اور مولانا آفتاب صاحب امام جامع مسجد محی الدین پور، چک عبد الغنی کے جناب اقبال زاہد صاحب، بی بی فاطمہ بی ایڈ کالج بکرم پور باندے کے ڈائرکٹر جناب پروفیسر انجم اصغر صاحب، شکرام پور باندے کی جامع مسجد کے نام جناب مولانا مطیع الرحمان صاحب، ڈیہ بکرم پور باندے کے جناب مصطفیٰ صاحب، مصطفی پور کے جناب مکھیا رحمت اللہ صاحب، موہن پور کے جناب ماسٹر حیدر امام غزالی اور جناب پرویز صاحب اور بھمرو پور کے جناب حافظ عبد الجبار صاحب، جناب ابرار صاحب، اور جناب مولانا معصوم صاحب، ان تمام حضرات نے وفد کا والہانہ استقبال کیا۔ واضح رہے کا وفد کا یہ دورہ مؤرخہ 10/ جون 2026 سے 17/ جون 2026 تک جاری رہے گا۔
Bihar
ضلع مجسٹریٹ کی امتحان کو شفاف، بدعنوانی سے پاک اور پرامن ماحول میں منعقدکرانے کی ہدایت
(پی این این)
ارریہ:سنٹرل سلیکشن بورڈ (کانسٹیبل رکروائرٹمنٹ) کے ذریعہ اشتہار نمبر-03/2025، 01/2026، 02/2026 کے تحت منعقد ہونے والے تحریری امتحان-2026 کے کامیاب، منصفانہ، بد عنوانی اور بدانتظامی سے پاک ماحول میں انعقاد کے لئے، پیروڈیئم کے زیر اہتمام ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن اور پولس سپرنٹنڈنٹ ارریہ مسٹر جتیندر کمار کی مشترکہ صدارت میں ایک بریفنگ میٹنگ کا انعقاد ہوا جس میں تمام سینٹر سپرنٹنڈنٹس، اسٹیٹک مجسٹریٹس، زونل مجسٹریٹ، فلائنگ اسکواڈ ٹیم، پولس افسران، سینئر ٹریژری افسران، ضلع تعلیمی افسران، سب ڈویژنل افسر ارریہ، سب ڈویژنل پولس افسران اور تمام امتحانی افسران سے متعلقہ افسران موجود تھے۔
میٹنگ میں بتایا گیا کہ سنٹرل سلیکشن بورڈ (کانسٹیبل بھرتی) امتناعی، ایکسائز اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، جیل خانہ جات اور اصلاحی خدمات انسپکٹوریٹ، محکمہ داخلہ (جیل خانہ) اور محکمہ ٹرانسپورٹ میں مختلف آسامیوں کے لیے 14 جون اور 17 جون، 2026 کو دو نشستوں میں ضلع بھر کے امتحانی مراکز میں تحریری امتحانات کا انعقاد کرے گا۔
میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے ہدایت دی کہ تمام تعینات افسران ایک دوسرے کے ساتھ تال میل بنائے رکھیں گے، تاکہ امتحان کو مکمل طور پر شفاف، بدعنوانی سے پاک اور پرامن ماحول میں منعقد کیا جائے۔ ضلع مجسٹریٹ نے ہدایت دی کہ کسی بھی امیدوار کو درست اڈمٹ کارڈ اور اصلی تصویری شناخت کے بغیر کسی بھی حالت میں امتحانی مرکز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امتحانی مرکز کے مرکزی دروازے کو غیر ضروری ہجوم سے دور رکھا جائے گا اور تمام امیدواروں کو سخت چیکنگ اور شناختی کارڈ کی جانچ کے بعد ہی قطار بند میں داخلہ دیا جائے گا۔ اورجنل تصویری شناختی کارڈ کے بغیر امیدواروں کو امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ میٹنگ میں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ کسی بھی صورت میں امتحانی ہال یا کمرے میں موبائل فون یا کوئی اور الیکٹرانک ڈیوائس لے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اگر کسی امیدوار کے ساتھ سرپرست نہیں ہے اور اس کے پاس موبائل فون یا دیگر الیکٹرانک ڈیوائس ہے تو اسے امتحانی مرکز کے باہر محفوظ طریقے سے سوئچ آف موڈ میں رکھنے کے انتظامات کئے جائیں گے۔ اگر کوئی امیدوار کمرۂ امتحان میں موبائل فون یا الیکٹرانک ڈیوائس کے ساتھ پایا گیا تو اسے تحریری امتحان سے فوری طور پر نااہل قرار دے دیا جائے گا اور اسے بدعنوان تصور کیا جائے گا۔ سنٹر کے سپرنٹنڈنٹ اور انویجیلیٹر کے پاس امتحان شروع ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے سے لے کر امتحان کے اختتام تک موبائل فون یا الیکٹرانک ڈیوائسز بھی نہیں ہوں گی۔ کونسل نے سوالیہ کتابچوں کے ساتھ ایک مہر بند خانے میں OMR شیٹس پر لکھنے اور نشان لگانے کے لئے مطلوبہ تعداد میں قلم بھی فراہم کئے ہیں۔ یہ تمام موجود امیدواروں میں تقسیم کئے جائیں گے۔ امیدواروں کو امتحانی مراکز میں اپنا قلم لانے کی اجازت نہیں ہوگی اور انہیں فراہم کردہ قلم کا استعمال کرتے ہوئے اپنے جوابات پر نشان لگانا ہوگا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ارریہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ تمام سینٹر سپرنٹنڈنٹس کے ساتھ تال میل بنائے رکھیں گے اور پینے کے پانی، بجلی، مناسب روشنی، بیت الخلا، بینچ اور ڈیسک، مرکزی دروازے سے امیدواروں کے بروقت داخلے، امتحانی مراکز میں ویڈیو گرافی، جنریٹرز، لاؤڈ اسپیکر اور دیگر ضروری سہولیات کے مناسب انتظامات کو یقینی بنائیں۔ متعین اسٹیٹک مجسٹریٹس کم مبصرین اور پولس افسران اپنے متعلقہ امتحانی مراکز پر صاف، پرامن اور بدانتظامی سے پاک امتحانات کے انعقاد کے ذمہ دار ہوں گے۔ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ صرف امیدواروں کو ان کے اڈمٹ کارڈ اور شناختی کارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد امتحانی مرکز میں داخل کیا جائے اور کسی بھی غیر مجاز شخص کا داخلہ سختی سے ممنوع ہے۔ تمام اسٹیٹک مجسٹریٹس کم آبزرور، پولس افسران اور سنٹر سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ امتحانی مرکز میں داخل ہونے سے پہلے ہر امیدوار کو اچھی طرح سے چیک کرلیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی حالت میں موبائل فون یا دیگر الیکٹرانک آلات امتحانی ہال میں نہ پہنچیں۔ خواتین امیدواروں کو فکس کرنے کے لئے خواتین پولس افسران اور خواتین فورس کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولس (ریزرو) ارریہ تعینات کرے گا۔ اس کے علاوہ، متعلقہ سینٹر سپرنٹنڈنٹ خواتین امیدواروں کی جانچ کے لئے ہر امتحانی مرکز میں ایک الگ کمرے یا ایک گھیرے والے علاقے کے انتظام کو یقینی بنائے گا۔کونسل نے ہر امتحانی مرکز پر ڈیجیٹل میڈیم کے ذریعے فوٹو گرافی، ویڈیو گرافی اور بائیو میٹرک تصدیق کا بھی انتظام کیا ہے، تاکہ امتحان کی شفافیت اور ساکھ برقرار رہے۔
Bihar
نقباء وذمہ داران تنظیم امارت ملی مسائل کے حل اورمعاشرتی اصلاح کے لیے آگے آئیں:حضرت امیر شریعت،شہر بتیا میں منعقد نقباء و ذمہ داران تنظیم امارت شرعیہ کے خصوصی اجلاس سے اکابر علماء کا خطاب
(پی این این)
پٹنہ:اس وقت ایک طرف اگر روز بروز ملی مسائل ومشکلات میں اضافہ ہورہاہے تو دوسری طرف سماجی اعتبار سے بھی خیر امت کالقب پانے والی ملت معاشرتی خرابیوں میں ڈوبتی چلی جارہی ہے ، گویا تباہی کے دوطرفہ حالات نے اس ملت کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے ، ایسے وقت میں ملت کے باشعور افراد بااثر سماجی ذمہ داران، علماء وائمہ کرام ،امارت شرعیہ کے نقباء ونائبین ،اورتنظیم امارت شرعیہ کے نمائندگان کی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ دل دردمند اورفکر ارجمند کے ساتھ ملی مسائل کے حل اور معاشرتی اصلاح کے لیے مؤثرعملی اقدام کریں ، اگر آپ حضرات نے اس ذمہ داری کا احساس نہیں کیا اور اپنے عملی اقدامات سے ملت کو فائدہ نہیں پہونچایا تو نہ صرف ملت نقصا ن سے دوچار ہوگی؛بلکہ آپ بھی اللہ کی عدالت میں جواب دہی سے نہیں بچ سکیں گے ۔ امارت شرعیہ کا یہ خصوصی اجلاس دراصل آپ جیسے ذمہ دار ، باشعور اورفکر مند احباب کے اندر کچھ اسی طرح کا احساس جگانے اور فکر مندی پیداکرنے کے لیے منعقد ہواہے ،ان خیالات کا اظہار بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے مورخہ ۱۳؍جون کو شہر بتیا کے وسیع وبارونق سواگتم میرج ہال میں منعقد ضلع مغربی چمپارن کے نقباء ونائبین وذمہ داران تنظیم امارت شرعیہ کے خصوصی تربیتی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر آپ نے دستوری نقطۂ نظر سے وندے ماترم کی لازمیت اور اس گیت میں موجو د فکر کی سنگینی اورشرکیہ کلمات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی لازمیت کسی طرح بھی آئینی اوردستوری نہیں ہے ؛بلکہ اس گیت کا بعض حصہ تو وہ ہے جو فکری اعتبار سے انصاف پسند برادران وطن کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا ،اسی طرح دینی مدارس جو ملت کے لیے دین کے پاور ہاؤس کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں مختلف طرح کی جانچ کے گھیرے میں ڈال دیا گیا ہے جو یقینا باعث تشویش ہے ، مدارس انسان سازی کا سب سے عمدہ کارخانہ ہیں ، یہاں دَل نہیں بلکہ انسانوں کے دِل بنائے جاتے ہیں اور ملک وملت کی خدمت کے لیے اچھے افراد تیار ہوتے ہیں ، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مدارس کو اسی نگاہ سے دیکھے اور اس کے وجود وتحفظ کو ہرگز نقصان نہ پہونچنے دے۔ آپ نے ارباب مدارس کو بھی متوجہ کیا کہ وہ وقت اورحالات کو سامنے رکھتے ہوئے قانونی نقطۂ نظر سے اپنے پورے نظام کو صاف وشفاف رکھنے پر پوری توجہ دیں ، ہمت وحوصلہ سے کام لیں اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں ، حضرت امیر شریعت مدظلہ نے تربیتی اعتبار سے بھی حاضرین تک اپنا پیغام پہونچایا ، سوالات جوابات کا سلسلہ چلا ،شرکاء کو اظہا رخیال کا موقع دیا گیا اور تحریروبیان کے ذریعہ بھی قوت عمل اور جذبۂ خدمت کو بڑھانے ونکھارنے کی کوشش کی گئی ،اجلاس میں بڑی تعداد میں نقباء ونائبین اور ضلع وبلاک کی سطح پر قائم تنظیم امارت شرعیہ کے ذمہ داران وارکان نے شرکت کی ، اس اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے ناظم امارت شرعیہ وصدر مفتی جناب مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کی شرعی وتاریخی حیثیت ،وحدت واجتماعیت کے استحکام کے لیے بیعت امیر کی ضرورت ،امارت شرعیہ کے امراء شریعت کی علمی وعملی عظمت اور امارت شرعیہ کی ہمہ جہت خدمات پر مؤثرانداز میں روشنی ڈالی ، آپ نے کہا کہ امارت شرعیہ اس فکر اسلامی اور نطام شرعی کی عملی تصویر ہے جس کی بنیاد کائنات کے آخری پیغمبر جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی ، ہندوستان جیسے ملک میں امارت شرعیہ کا وجود ایک عظیم مذہبی نعمت اورایک ناگزیر ملی ضرورت ہے ، امارت شرعیہ نے اپنی صدسالہ تاریخ میں مختلف جہتوں سے ملت کو زندہ وبیدار رکھنے کا جومثالی کارنامہ انجام دیا ہے ، اس کی نظیر اگر نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے ، ضرورت ہے کہ آپ نقباء اورتنظیم امارت شرعیہ کے ذمہ داران فکر امارت کی عظمت سے ہر مسلمان کو واقف کرائیں اور شرعی ضرورت کی حیثیت سے ہر مردمسلماں کو اس سے وابستہ رکھنے کی فکرکریں ،امارت شرعیہ کے صدر قاضی جناب مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی صاحب نظام قضاء امارت شرعیہ کے موضوع پرایک جامع پریزینٹیشن پیش کیا اور نظام قضاء کے قیام ،اس کی افادیت ،اس کے فیصلوں کے اثرات ، دارالقضاء میں پیش ہونے والے مقدمات اورفیصلوں کے لیے درکار مدت کار جیسے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اگر ہم سب اپنے ایمان کی سلامتی ،وقت ومال کا تحفظ اورعزت وآبرو کی عافیت چاہتے ہیں تو ہمیں سول معاملات ہرحال میں دارالقضاء کے اندر پیش کرنا چاہیے ،آپ سب سے گزارش ہے کہ اس آواز کو گاؤں دیہات تک پہونچائیں اورتحریکی انداز میں اس مہم کو آگے بڑھائیں ۔ امارت شرعیہ کے نائب ناظم جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب انچارج شعبۂ تبلیغ وتنظیم نے شعبۂ تبلیغ وتنظیم کی اہمیت ،لفظ نقیب کی بلند نسبت اور بہ حیثیت نقیب منتخب ہونے کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے نقباء وذمہ داران تنظیم کو ان کی ذمہ داریاں بتائیں اور کہا کہ اللہ نے اس عہدہ کے ذریعہ آپ کو جو مقام بخشا ہے اورجس بڑے ادارہ کی نسبت سے جوڑ ا ہے اس کا حق یہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کے تئیں ہمیشہ فکر مند رہیں ، اللہ کی طرف سے جب تک خدمت کا یہ دروازہ کھلا ہے اسے اپنے لیے باعث سعادت سمجھیں ۔ اجلاس کا آغاز جناب مولانانسیم انظر ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ،مولانا عبداللہ نورالدین رحیمی نے نعت پاک پیش کیا اور استقبالیہ کلمات مولانا نیاز احمد قاسمی نائب صدر تنظیم امارت شرعیہ ضلع مغربی چمپارن نے کہے اور نظامت کی ذمہ داری نائب ناطم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے نبھائی ،جبکہ امارت شرعیہ کے رکن شوریٰ وعاملہ ، امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے چیئرمین اور تنظیم امارت شرعیہ ضلع مغربی چمپارن کے سکریٹری جناب ایڈوکیٹ ذاکر بلیغ صاحب نے حضرت امیر شریعت مدظلہ کی خدمت میں شال ،منظوم سپاس نامہ پیش کیے اور حاضرین کا شکریہ اداکیا ۔تنظیم کے دیگر ذمہ داروں نے امارت شرعیہ کے دیگر موجودذمہ داران کو شال پیش کرکے ان کا استقبال کیا ۔اس اجلاس کو مثالی طورپر کامیاب بنانے میںسکریٹری تنظیم جناب ایڈوکیٹ ذاکر بلیغ صاحب ، صدر تنظیم جنا ب مولانا محبوب عالم نعمانی صاحب ،نائب صدر مولانا نیاز احمد قاسمی صاحب ،نائب صدر جناب الحاج نیاز احمد صاحب مالک سواگتم میرج ہال ،جناب الحاج ڈاکٹر اکرام ،جناب سہراب صاحب ،جناب ارشاد اختر ،جناب سید امتیاز احمد،جناب مولانا نفیس ذوالقرنین قاسمی صاحب ،اور مبلغ امارت شرعیہ مولانا اسعداللہ نیموی ومولانا حشرالدین ندوی نیاہم رول اداکیا ۔اجلاس میں جناب حافظ احتشام رحمانی ، مولانا عبدالاحد رحمانی ازہری اور مولانا محمد منہاج عالم ندوی کی خصوصی شرکت رہی ۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
