Connect with us

Bihar

مساجد کو دینی تحریکات اور اصلاحِ معاشرہ کا مرکز بنائیںائمہ کرام ، امارتِ شرعیہ کی جانب سے ہزاری باغ کے جبرا اور نوادہ میں عظیم الشان اجلاس عام منعقد

Published

on

(پی این این)
ہزاری باغ:حضرت امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی اور ناظم امارتِ شرعیہ حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی کی ہدایت پر امارتِ شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کی طرف سے ضلع ہزاری باغ کی معروف آبادی نوادہ اورجبرا میں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد ہوئے، اس موقع پر عوام میں دینی بیداری، اصلاحِ معاشرہ اور ملی شعور اجاگر کرنے کے لیے اہم خطابات کیے گئے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امارتِ شرعیہ کے معاون ناظم اور وفد کے قائد مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے کہا کہ موجودہ حالات امتِ مسلمہ سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنی نئی نسل کی دینی، تعلیمی اور فکری تربیت پر خصوصی توجہ دے، خواتین میں دینی و تعلیمی بیداری پیدا کرے اور استقامت و عزیمت کے ساتھ اپنے فرائض کو خاموشی سے انجام دے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ زندہ قومیں مشکلات اور آزمائشوں کے دور میں نئی راہیں تلاش کرتی ہیں اور اپنے آپ کو فکری و عملی طور پر مزید پختہ بنا لیتی ہیں۔ ہمارے اسلاف نے بھی ہر دور میں ایمان، صبر اور استقامت کی روشن مثالیں قائم کی ہیں،جن سے ہمیں درس عبرت حاصل کرنا چاہیے۔ مولانا مدنی نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنی اولاد کو دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم سے بھی آراستہ کریں تاکہ وہ مستقبل میں ملت کی مؤثر قیادت کر سکیں۔ مسلم آبادیوں کو حالات کے پیش نظر منظم بنانے اوردینی طور پر مکمل طور پر تیار کرنے کی غرض سے نوادہ کے عظیم الشان اجلاس میں انہوں نے ائمہ کرام سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مساجد کو صرف عبادت تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں دینی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور دعوتی سرگرمیوں کا فعال مرکز بنایا جائے۔
امارتِ شرعیہ مرکزی دارالقضاء کے معاون قاضیِ شریعت اور دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ کے استاد فقہ و تفسیر مفتی عبداللہ انس قاسمی نے اپنے خطاب میں خاندانی نظام اور اصلاحِ معاشرہ کے موضوع پر روشنی ڈالی انہوں نے بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت میں ان کا شرعی حق دینے، خاندانی اتحاد کو فروغ دینے اور جہیز، تلک اور بارات جیسی غیر شرعی رسموں سے اجتناب کی تلقین کی اور حضرات صحابہ کے اسوہ کو اپنانے پر زور دیا۔
امارتِ شرعیہ کے مبلغ مفتی مجاہد اللہ قاسمی نے امارتِ شرعیہ کی تاریخ، خدمات اور مختلف شعبہ جات کا تفصیلی تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ امارتِ شرعیہ نے ہر دور میں ملت کی دینی، سماجی اور شرعی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے اور آج بھی ملت کو صحیح سمت فراہم کرنے میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔
اسی طرح مفتی عبداللہ جاوید ثاقبی نے نوجوان نسل کی دینی تربیت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی نسل کو ایمان کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے گھر کے ماحول کو دینی بنائیں اور ہماری مائیں اپنے بچوں کے معصوم دلوں پر اسلامی کلمات نقش کریں۔پروگرام کا آغاز امام مسجد کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض ان پروگراموں میں امارتِ شرعیہ کے قدیم مبلغ حافظ شہاب الدین صاحب نے انجام دیے۔
دریں اثنا، ضلع ہزاری باغ کی معروف آبادی نوادہ میں وہاں کے مقامی علماء کرام نے امارت شرعیہ کے دینی کاموں کو ضلع ہزاری باغ میں انجام دینے کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مفید مشوروں سے نوازا، علماء نے کہا کہ موجودہ وقت میں ضرورت ہے کہ اس طرح کے دورہ وفد کا سلسلہ مزید بڑھایا جائے۔ان اجتماعات میں مسلمانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس اصلاحی و دعوتی دورہ وفد سے ان میں خوشی کی لہر پائی گئی جس کے مثبت اثرات پورے حلقے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ناظم امارتِ شرعیہ حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی اور شعبۂ تنظیم کے انچارج و نائب ناظم جناب مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی دورے کے دوران مسلسل وفد سے رابطے میں ہیں۔نوادہ کا اجلاس عام حضرت مولانا عبدالجلیل قاسمی صاحب نقیب امارت شرعیہ کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

بہار کونہیں بننے دیا جائے گا پولیس کی حکمرانی والی ریاست ،تیجسوی یادو کریں گے مارچ، طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں طلبہ تحریک کے دوران طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کے معاملے میں اب تک کارروائی نہ ہونے پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ آر جے ڈی 19 اگست کو ویرچند پٹیل پتھ واقع پارٹی دفتر سے لوک بھون تک مارچ کرے گی۔ قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے کل نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ مارچ میں پارٹی کے تمام ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی، ارکانِ قانون ساز کونسل اور پارٹی کارکنان شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کو پولیس کی حکمرانی والی ریاست نہیں بننے دیا جائے گا۔
بہار کے قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ اس مارچ کے سلسلے میں اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔ انہیں بھی بہار میں طلبہ کو انصاف دلانے کے لیے اس مارچ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک یہ جاننا چاہتا ہے کہ طلبہ پر فائرنگ کس کے حکم پر کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے آواز اٹھائے جانے کے بعد ایک سپاہی کو معطل کر دیا گیا، لیکن اب تک ایس پی کو معطل کیوں نہیں کیا گیا؟ انہوں نے پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اٹھانے پر راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کا شکریہ بھی ادا کیا۔
تیجسوی یادو نے اس کے ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر داخلہ نے اس معاملے پر آج تک ایک لفظ تک نہیں کہا۔ وزیر اعلیٰ یا کسی نائب وزیر اعلیٰ نے زخمی طلبہ سے ملاقات کرنے تک کی زحمت نہیں کی۔ اگر ان معصوم طلبہ کی جان چلی جاتی تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟ پریس کانفرنس میں رکنِ پارلیمنٹ میسا بھارتی، ابھے کشواہا اور سریندر یادو بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے اس سے قبل اگست ہی میں بہار کے پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) ونے کمار سے ملاقات کی تھی اور 25 جولائی کو طلبہ کے احتجاج کے دوران اے کے-47 رائفل کے مبینہ استعمال کے معاملے میں سیوان کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور دیگر سینئر افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو کی قیادت میں وفد نے کہا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ طلبہ کے خلاف اس طرح کی رائفل استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا تھا۔ آر جے ڈی لیڈر نے صحافیوں سے کہا تھا کہ مظاہرین کے خلاف اے کے-47 کا استعمال صرف وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری یا مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حکم پر ہی کیا جا سکتا تھا۔ اس معاملے پر دونوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور کچھ بھی نہیں کہہ رہے ہیں۔ متعلقہ پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) اور دیگر سینئر افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

Continue Reading

Bihar

بہار کو ایک بار پھر شراب کی لعنت میں دھکیلنے کی ہورہی ہے سازش،ریاست میں شراب بندی ختم کرنے کی سفارش پر سیاسی جنگ، جنتادل یونائیٹڈ این سی اے ای آر کوبھیجے گی قانونی نوٹس

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں شراب بندی قانون پر نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (این سی اے ای آر) کی مطالعاتی رپورٹ کے بعد سیاسی ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ کونسل نے اپنی مطالعاتی رپورٹ میں شراب بندی قانون کو دس سال بعد بھی ناکام قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔
اس پر جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) نے این سی اے ای آر کو قانونی نوٹس بھیج کر قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ پارٹی کے چیف ترجمان نیرج کمار نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ’’ہم انہیں چھوڑیں گے نہیں۔‘‘جے ڈی یو کے قانون ساز کونسلر و چیف ریاستی ترجمان نیرج کمار اور ریاستی ترجمان پوجا پیٹرک نے بہار میں شراب بندی کے حوالے سے نجی ادارے این سی اے ای آر کی جانب سے کرائے گئے سروے پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کمپنی کے اعلیٰ عہدوں پر فائز عہدیداروں کے مفادات اور کردار پر سنگین سوالات اٹھائے۔ دونوں رہنما جمعرات کو جے ڈی یو دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی نجی ادارے کے عہدیداروں یا ارکان کے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایسے مالیاتی اداروں سے تعلقات ہوں، جو شراب کے کاروبار سے وابستہ کمپنیوں کو بینکاری سہولیات فراہم کرتے ہوں، تو ایسے ادارے کی جانب سے بہار میں شراب بندی کے حوالے سے کیے گئے سروے کی غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سروے کرانے والے نجی ادارے این سی اے ای آر کی گورننگ باڈی میں ایچ ڈی ایف سی بینک کے چیئرمین دیپک ایس پاریخ شامل ہیں، جن کے بارے میں جے ڈی یو رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ ان کی سرمایہ کاری شراب بنانے والی کمپنی میں ہے۔ وہیں سگریٹ بنانے والی کمپنی آئی ٹی سی کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر سنجیو پوری بھی اس ادارے کے بورڈ ممبر ہیں۔جے ڈی یو رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ یہ تحقیق شراب کمپنیوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے اور بہار کو ایک بار پھر شراب کی لعنت میں دھکیلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شراب بندی ختم کرکے بہار کی خواتین کو دوبارہ پریشان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن جے ڈی یو خاموش نہیں بیٹھے گا۔ نیرج کمار نے کہا کہ نتیش کمار نے خواتین کے مطالبے پر بہار کی اصلاح اور سماجی بہتری کے لیے شراب بندی کا قانون نافذ کیا تھا۔

Continue Reading

Bihar

اردو اسکولوں اور مدارس کیلئے جمعرات کونصف دن کی چھٹی کی دی جائے منظوری:مفتی سعید الرحمٰن قاسمی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈو مغربی بنگال کے ناظم جناب مولانا مفتی محمد سعیدالرحمٰن قاسمی صاحب نے اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ محکمۂ تعلیم بہار نے سرکاری اسکولوں کے لئے سنیچر کے نصف دن کی چھٹی کی منظوری کانوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس سے اسکولوں کے اساتذہ کو راحت ملی ہے اور قدیم روایت کی پاسداری بھی ہوئی ہے۔
تاہم اردو اسکولس اور مدارس جہاں ہمیشہ سے جمعہ کو مکمل دن کی سرکاری چھٹی کا معمول جاری ہے ایسے اسکولوں اور مدارس کے لئے نوٹیفیکیشن میں جمعرات کے آدھے دن کی چھٹی کی کوئی صراحت نہیں ہے ،جس کی وجہ سے اردو اسکولوں اور مدارس کے اساتذہ میں بے حد بے چینی پائی جارہی ہے ،یہ بات اصولی ہے کہ اگر اتوار کی رعایت کرتے ہوئے سنیچر کو نصف دن کی چھٹی کا منظوری نامہ جاری ہوا ہے تو جمعہ کی چھٹی کی رعایت کرتے ہوئے جمعرات کو بھی نصف دن کی چھٹی منظور کی جائے اور اس کے لئے واضح منظوری نامہ جاری ہو،ایسا نہیں کرنے کی صورت میں اردو اسکولوں اور مدارس کے اساتذہ کواس رعایت کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا اور خواہ مخواہ سنیچر کو آدھے دن چھٹی کرنے کی وجہ سے تعلیمی نظام میں خلل بھی واقع ہوگا۔
اس لئے جناب ناظم صاحب نے اپنے اس پریس ریلیز کے ذریعہ محترم وزیر تعلیم حکومت بہار اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ ذمہ داران سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرف توجہ دیں اورجلد از جلد متعلقہ محکمہ کی طرف سے اردو اسکولوں اور مدارس کے لئے جمعرات کے نصف دن کی چھٹی کا واضح منظوری نامہ جاری کیا جائے ؛تاکہ سابقہ روایت کی پاسداری بھی ہواور ان اداروں کے اساتذہ کو مساوی فائدہ بھی حاصل ہو سکے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network