(پی این این)
لکھنؤ:اتر پردیش ایم ایل سی انتخابات کے نتائج پر سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی پانچ سیٹوںپر نہیں بلکہ 50 اضلاع میں ہاری ہے۔ عوام کے درمیان یہ بات پھیل چکی ہے کہ بی جے پی کے لوگ بے ایمان ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے امیدوار عوام کی طاقت کے بل پر جیتے ہیں، جبکہ بی جے پی نے چھ نشستیں دھوکے سے جیتی ہیں۔ اگر اس نے دھاندلی نہ کی ہوتی تو شاید وہ اتنی نشستیں بھی نہیں جیت پاتی۔
واضح رہے کہ ایم ایل سی انتخابات میں بی جے پی نے چھ اور سماجوادی پارٹی نے پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ وہیں گورکھپور-فیض آباد ٹیچر حلقے میں بی جے پی کے امیدوار دھروو ترپاٹھی نے سخت مقابلے میں 307 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ آزاد امیدوار راجیو یادو دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ سماجوادی پارٹی کے سنجے ترپاٹھی تیسرے مقام پر رہے۔
سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو ریکارڈ کامیابی حاصل ہونے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس سیاسی جماعت کا گراف اوپر جاتا ہے، وہ نیچے نہیں آتا۔ ایوانِ بالا میں سماجوادی پارٹی کی تعداد اتنی ہوگی، جس کا بی جے پی تصور بھی نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں خاتون اساتذہ نے صد فیصد بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ یہ عوامی فیصلہ بتاتا ہے کہ اساتذہ اور گریجویٹ طبقہ بی جے پی کے خلاف ہے۔
اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے انتخابات میں دھاندلی کرائی اور فریب کے ذریعے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ پانچ نشستوں پر شکست کے باوجود بی جے پی کو 50 اضلاع میں سیاسی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹروں کو رات بھر جگائے رکھنے سے عوام میں بی جے پی کی بے ایمانی کا پیغام گیا ہے۔
سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی میں بھگدڑ مچنے والی ہے اور پارٹی کا ٹکٹ لینے والوں کی کھڑکی خالی نظر آئے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تاجر، برہمن، ویشیہ اور کائستھ برادری سماجوادی پارٹی کے ساتھ ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کا حساب کتاب بگڑ چکا ہے اور وارانسی میں عوام نے ڈبل انجن والی حکومت کو صفر نمبر دیا ہے۔
انہوں نے بی جے پی حکومت پر 26 ہزار پرائمری اسکول بند کرنے، 20 سے زائد امتحانی پرچوں کے افشا ہونے اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرو زمرے کی 11 ہزار سے زیادہ آسامیوں میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے 151 مجسمے توڑے جانے اور شراب کی 27 ہزار دکانیں کھلوائے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ اس کامیابی کے بعد سماجوادی پارٹی پی ڈی اے (پسماندہ، دلت اور اقلیتی طبقات) کو مزید مضبوط کرے گی اور سماجی انصاف کے فروغ اور جمہوریت کو مستحکم بنانے کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے قانون ساز کونسل کے انتخابات میں ووٹروں، پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
