(پی این این)
گیا جی:ٹاؤن بلاک کے اردو پرائمری اسکول چاترگھاٹ میں ایکو کلب کی سرگرمی کے تحت کچرا انتظام اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بیداری مہم چلائی گئی۔ ہیڈ ٹیچر ابو فیصل کی قیادت میں طلبہ و طالبات نے اسکول احاطے میں صفائی کی اور آس پاس کے گھروں میں جاکر لوگوں کو چار مختلف رنگوں کے ڈسٹ بن میں الگ الگ قسم کا کچرا جمع کرنے کی اہمیت بتائی۔ اس مہم کا مقصد بچوں میں صفائی کی عادت پیدا کرنے کے ساتھ لوگوں کو کچرے کی مناسب درجہ بندی اور الیکٹرانک کچرے کے محفوظ نپٹارے کے تئیں بیدار کرنا تھا۔
ہیڈ ٹیچر ابو فیصل نے طلبہ کو بتایا کہ کچرے کو الگ الگ زمروں میں تقسیم کرکے مقررہ ڈسٹ بن میں ڈالنا چاہیے۔ سبز ڈسٹ بن میں کھانے کے بچے ہوئے اجزاء، پھل اور سبزیوں کے چھلکے اور پتوں جیسے گیلا و نامیاتی کچرا جمع کیا جاتا ہے۔ نیلے ڈسٹ بن میں کاغذ، گتہ، پلاسٹک، شیشہ اور دھات جیسی خشک اور قابلِ ری سائیکل اشیاء رکھی جاتی ہیں۔ وہیں لال ڈسٹ بن کا استعمال سینیٹری اور دیگر مخصوص کچرے کے لیے، جبکہ کالے ڈسٹ بن میں مقامی ہدایات کے مطابق باقی یا خصوصی احتیاط کے ساتھ ٹھکانے لگائے جانے والے کچرے کے لیے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ڈسٹ بن کے رنگوں کے مطابق کچرے کی درجہ بندی کی اہمیت سمجھائی۔
ہیڈ ٹیچر نے کہا کہ پرانے موبائل، کمپیوٹر، چارجر، تار اور بیٹری جیسے الیکٹرانک کچرے کو کھلے میں پھینکنا یا گھریلو کچرے میں ملانا ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان اشیاء میں موجود مضر مادے مٹی اور پانی کو آلودہ کرسکتے ہیں۔ اس لیے الیکٹرانک کچرے کو الگ جمع کرکے مجاز کلیکشن سینٹر یا مقررہ نظام کے تحت محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانا ضروری ہے۔ طلبہ کو گھروں سے نکلنے والے الیکٹرانک کچرے کو اسکول کے ای ویسٹ کلیکشن باکس میں جمع کرنے کے لیے بھی ترغیب دی گئی۔
اس مہم میں بال سنسد کی وزیر اعظم علیشہ پروین، صفائی کے وزیر وسیم، سرور، آیت سمیت دیگر طلبہ و طالبات نے سرگرمی سے حصہ لیا۔ بچوں نے مقامی لوگوں کو بتایا کہ کچرے کو الگ الگ رکھنے سے صفائی کا نظام بہتر ہوتا ہے اور ری سائیکلنگ کو فروغ ملتا ہے۔ اس موقع پر اساتذہ محمد صلاح الدین انصاری، ثانیہ پروین، نازیہ گلشن، ہینا فردوس، وکاش رنجن کمار اور دلیپ کمار نے بھی طلبہ کو کچرے کے مضر اثرات اور اس کے مناسب نپٹارے کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔
ہیڈ ٹیچر ابو فیصل نے کہا کہ بچوں کے ذریعے صفائی اور ماحولیاتی تحفظ کا پیغام ہر گھر تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ کچرے کو الگ الگ رکھنا، الیکٹرانک کچرے کو محفوظ طریقے سے جمع کرنا اور اس کا مناسب نپٹارا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے لوگوں سے صفائی کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے اور ماحولیاتی تحفظ میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔
چار رنگوں کے ’ڈسٹ بِن‘ سے بچوں نے سکھایا کچرا انتظام، گھر گھر پہنچایا صفائی کا پیغام، اردو پرائمری اسکول چاترگھاٹ میں ایکو کلب کے تحت بیداری مہم کا اہتمام
