تازہ ترین
بہارمیں کئی بڑے ہوٹلوںاور مٹھائی کی دکانوں پر چھاپے، ریاست کے مختلف اضلاع میں کھانے پینے کی اشیا میں پائی گئیں بے ضابطگیاں،دیوالی سے قبل محکمہ تحفظ خوارک کی ٹیم کی بڑی کارروائیایک بار پھر احسان الحق رضا کے ہاتھ میں طلبہ جے ڈی یو کی کمان،چار رنگوں کے ’ڈسٹ بِن‘ سے بچوں نے سکھایا کچرا انتظام، گھر گھر پہنچایا صفائی کا پیغام، اردو پرائمری اسکول چاترگھاٹ میں ایکو کلب کے تحت بیداری مہم کا اہتمام5 سیٹیں نہیں، 50 اضلاع میں ہوئی بی جے پی کی شکست, اترپردیش میں ایم ایل سی انتخابات کے نتائج پر اکھلیش یادو کا شدید حملہاے ایم یوطلبہ یونین کے سابق صدرڈاکٹر اعظم بیگ پہنچے علی گڑھ، طلبہ یونین انتخابات کے امیدواروں اور دیگرطلبہ سے کی ملاقاتدیوبند کوتوالی انچارج نے عوامی دربارمیں سنے عوام کے مسائل، دیر رات تک سڑکوں پر بلاوجہ گھومنے اور شرپسند واسٹنٹ کرنے والوں کے خلاف کی جائے گی سخت کارروائی: سندیپ بالیاندنیا کیلئے3 منٹ، آخرت کیلئے ہمیشہ کی کریں تیاری : خطیب محمد اقبال، آگرہ کی مسجد نہر والی میں خطبۂ جمعہ کے دوران دنیا کی عارضی زندگی اور آخرت کی دائمی زندگی پر خطابمالیگاؤں میں ابوبکر علی حسن چودھری کا شاندار عوامی استقبال، دیولالی اسمبلی حلقے کی اہم ذمہ داری ملنے پر رابطہ آفس میں جشن کا سماں
اتر پردیش

اے ایم یوطلبہ یونین کے سابق صدرڈاکٹر اعظم بیگ پہنچے علی گڑھ، طلبہ یونین انتخابات کے امیدواروں اور دیگرطلبہ سے کی ملاقات

(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) طلبہ یونین کے سابق صدر ڈاکٹر اعظم بیگ نے جمعہ کے روز نمازِ جمعہ کے بعد یونیورسٹی کی جامع مسجد کے باہر طلبہ یونین انتخابات میں مجاز امیدواروں اور طلبہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ملک، معاشرے اور یونیورسٹی سے وابستہ مختلف اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پر طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر بیگ نے اے ایم یو طلبہ یونین کی شاندار تاریخ اور اس کے تاریخی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو طلبہ یونین محض ایک انتخابی ادارہ نہیں، بلکہ سر سید احمد خان کے تعلیمی مشن اور نظریات کو آگے بڑھانے والی ایک تاریخی تحریک ہے۔
ڈاکٹر بیگ نے طلبہ یونین کو ملک کی قدیم ترین طلبہ تنظیموں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو اور اس کی طلبہ یونین کی تاریخ ایک دوسرے سے گہرائی کے ساتھ وابستہ ہے۔ 1875 میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کے قیام کے بعد 1884 میں ہی طلبہ یونین کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ 1920 میں یونیورسٹی کے قیام کے ساتھ ہی اسے یونیورسٹی ایکٹ میں بھی جگہ دی گئی۔ انہوں نے خصوصی طور پر اس بات کا ذکر کیا کہ اکتوبر 1920 میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کو اے ایم یو کے دورے کے دوران طلبہ یونین کا پہلا تاحیات رکن بنایا گیا تھا۔ یہ یونیورسٹی اور طلبہ یونین دونوں کے لیے باعثِ فخر ہے۔
ڈاکٹر اعظم بیگ نے اپنے خطاب میں کہا:”یہ انتخابات کسی ایک فرد کی جیت یا ہار کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ طلبہ کی جیت ہے۔ آپ کی منظم قوت سے آٹھ سال سے جمی برف پگھلنے لگی ہے اور بند دروازے کھلنے شروع ہو گئے ہیں۔ یونین کی آواز کو زندہ رکھنا ہر علیگ کی ذمہ داری ہے۔ میں تمام امیدواروں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ جو بھی کامیاب ہو، وہ طلبہ کی امیدوں پر پورا اترے۔”
ڈاکٹر بیگ نے راجستھان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن (AMUOBA) کے ذریعے یونیورسٹی اور علیگ برادری سے اپنے تعلق کو برقرار رکھنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے جے پور میں گزشتہ 31 برسوں سے منعقد ہونے والی تقریباتِ یومِ سر سید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا عزم اپنے تعلیمی اداروں کے ذریعے سر سید کے خوابوں، وژن اور مشن کو آگے بڑھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ چمنستانِ سر سید سے ہر سال ایسے باصلاحیت نوجوانوں کی کھیپ تیار ہو کر نکلے جو اپنے پیارے وطن میں علم و عمل کی شمع روشن کریں، نفرت کی ہر راکھ کو مٹا کر محبت اور بھائی چارے کا پیغام عام کریں۔اسی جذبے کی ترجمانی کرتے ہوئے انہوں نے یہ مشہور شعر بھی پیش کیا:”چشمِ سر سید نگران ہے کہ پھر اٹھے شاید،کوئی دیوانہ علی گڑھ کے بیابانوں سے۔”اس موقع پر یونیورسٹی کے متعدد طلبہ و طالبات نے ڈاکٹر اعظم بیگ کا پُرتپاک استقبال کیا اور ان کے تجربات و خیالات سے رہنمائی حاصل کی۔

 

 

متعلقہ خبریں