(پی این این)
دیوبند:اردو بیداری فورم مظفرنگرکے زیرِ اہتمام اردو مسابَقہ 2026 اور یومِ ہندی کے موقع پر منعقدہ خط نویسی و ترجمہ نگاری کے کامیاب طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اردو بیداری فورم، مظفرنگر کے زیرِ اہتمام منعقدہ اردو مسابَقہ 2026 میں ضلع کے 28 اسکولوں کے تقریباً 1220 طلبہ و طالبات نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ اس مسابقے کا ضلعی امتحان 20 ستمبر 2026 کو اسلامیہ انٹر کالج، مظفرنگر میں منعقد ہوا۔
اس مقابلے کا بنیادی مقصد طلبہ و طالبات میں اردو زبان و ادب سے دلچسپی پیدا کرنا اور ان کی تعلیمی معیار کو بلند کرنا، تعلیمی و ادبی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔امتحان کے بعد تشکیل دی گئی ممتحنین کی منظم کمیٹی نے جوابی کاپیوں کی جانچ کے بعد ضلعی سطح کا نتیجہ تیار کیا۔ نتیجے کے مطابق گروپ A، B، C اور D میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کا انتخاب کیا گیا۔ اس کے علاوہ طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے کمیٹی نے ہر گروپ میں بہتر کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو بھی تحنیتی انعامات دینے کا بھی فیصلہ کیا۔
ضلع سطح کے نتائج کے ساتھ اسکول سطح پر بھی 200 طلبہ و طالبات کا انتخاب کیا گیا ہے، جنہیں طے شدہ پروگرام کے مطابق انعامات سے نوازا جائے گا۔ٹاپر طلبہ و طالبات: گروپ اے سی عافیہ تعمیر ملت جونیئر ہائی سکول، گروپ بی سہانا سیفی ڈی ایس پبلک اسکول بلاز پور، گروپ سی لبنا نسیم گاڈ گریس پبلک انٹر کالج مظفر نگر، گروپ ڈی عبدالمنان اسلامی انٹر کالج مظفر نگر۔یوم ہندی کے ٹاپر بچے زینب،فاروق ماڈرن جونیئر اسکول اور فوی زینبیہ گرلزکالج مظفر نگر، کاشف درسگاہ اسلامی مظفر نگر،مائرہ نیو ایگلو جونیر ہائی اسکول کھالہ پار۔ اسی سلسلے میں اردو بیداری فورم نے 14 ستمبر 2026 کو یومِ ہندی کے موقع پرہندستانی تہذیب کی مشترکہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے خطوط نویسی اور ترجمہ نگاری کا مقابلہ بھی منعقد کیا تھا۔ اس مقابلے میں186 طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔
اس پروگرام کا مقصد ہندی اور اردو زبانوں کے درمیان ہم آہنگی، باہمی احترام، ادبی ذوق اور مشترکہ ہندی تہذیبی اقدار کو فروغ دینا تھا۔فورم کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ 11 نومبر 2026، قومی یومِ تعلیم کے موقع پر منعقد ہونے والی تقریب میں اردو مسابَقہ 2026 کے ضلعی سطح کے کامیاب طلبہ و طالبات، تسلیاتی انعام حاصل کرنے والے شرکاء اور یومِ ہندی کے موقع پر منعقدہ خط نویسی و ترجمہ نگاری کے منتخب طلبہ و طالبات کو انعامات سے نوازا جائے گا۔
تقریب میں طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے ملک کے معروف ماہرین تعلیم اور ماہرین زبان شرکت کریں گے۔اردو بیداری فورم کا ماننا ہے کہ اس طرح کے تعلیمی اور ادبی مقابلے طلبہ و طالبات میں مطالعے کا شوق، تخلیقی صلاحیت، لسانی مہارت اور صحت مند مسابقت کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندی اور اردو زبانوں کے ذریعے باہمی محبت، قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
فورم نے اس کامیاب تعلیمی و ادبی سرگرمی میں تعاون کرنے والے تمام اسکولوں کے سربراہان، اساتذہ، والدین اور طلبہ و طالبات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کی صلاحیتوں کو پہچاننا، انہیں مناسب مواقع فراہم کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہی ان مقابلوں کا بنیادی مقصد ہے۔اردو بیداری فورم کمیٹی کے صدر شہزاد علی،جنرل سیکرٹری اوصاف احمد،مسابقہ انچارج محمد شاویز نے سبھی بچوں، والدین، ان کی اساتذہ اور اسکولوں کو مبارک پیش کرتے ہوئے کہا کہ سبھی بچوں کو اپنے تعلیمی معیار کو بلند سے بلند تر کر آگے بڑھنا چاہیے اور تمام مسابقاتی امتحانات کی تیاری اپنے کیریئر بنانے میں،ملک و ملت کی خدمت کے لیے تیار ہونا ضروری ہے تاکہ وہ اگے جا کر ملک کا مستقبل اور اپنے والدین کا نام روشن کریں گے۔اس موقع پر ڈاکٹر ریاض علی حاجی عابدنی سلفی محمد آصف، محمد سرفراز، ارشاد احمد، ڈاکٹر ابو الحسن، محمد ظفر، محمد مصطفی،محمد اویس، وکیل احمدمفتی عبدالستاروغیرہ لوگ حاضر رہے۔
11 نومبر کو ’’ تعلیمی کانفرنس‘‘ و تقریب تقسیم انعامات,
