تازہ ترین
جمہوری نظام میں پُرامن احتجاج عوام کااختیار،چراغ پاسوان نے اپنے ہی اتحاد کے وزیر جیتن رام مانجھی کے بیان پرکیا جوابی حملہگیا جی:کلال اور عراقی کو ایک ہی ذات قرار دینے کا مطالبہبروقت مسئلہ حل نہ ہوا تو ہم دوبارہ احتجاج کرنے پرہوں گے مجبور:سنگھرش سمیتی،ایس ڈی ایم ارریہ کی یقین دہانی پر شہر کے بنیادی مسائل کو لے کر 6 روزہ احتجاجی مظاہرہ ملتوینئی نسل کی اخلاقی و تعلیمی تربیت اساتذہ کی اولین ذمہ داری: قاری ذاکر حسین قاسمی،جمعیت علماء شہر و ضلع مظفر نگر کے تحت تنظیم ائمہ و علمائے مساجدکے زیرِ انتظام اجلاس کا انعقاد11 نومبر کو ’’ تعلیمی کانفرنس‘‘ و تقریب تقسیم انعامات,این سی آر میں نمو بھارت ٹرین پروجیکٹ کو منظوری ملنے کا امکاناحتجاج کے درمیان پولیس کی سخت کارروائی،20پر ایف آئی درجنریندر مودی نے ہٹلر کو بھی چھوڑ دیاہے پیچھے:کجریوال
uttar pradesh

نئی نسل کی اخلاقی و تعلیمی تربیت اساتذہ کی اولین ذمہ داری: قاری ذاکر حسین قاسمی،جمعیت علماء شہر و ضلع مظفر نگر کے تحت تنظیم ائمہ و علمائے مساجدکے زیرِ انتظام اجلاس کا انعقاد

(پی این این)
دیوبند:جمعیت علماء شہر و ضلع مظفر نگر کے تحت تنظیم ائمہ و علمائے مساجدکے زیرِ انتظام نیاز پورہ کی تاریخی مسجد قاسمیان میں معمارانِ قوم (اساتذہ و دانشوران) کا ایک میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں شہر و ضلع کے مختلف اسکولوں، کالجوں اور مدارس سے وابستہ معزز اساتذہ، مصلحین اور علمائے کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور مسلم معاشرے اور نئی نسل کی تعلیمی و اخلاقی اصلاح پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
مہمانِ خصوصی قاری ذاکر حسین قاسمی (جنرل سکریٹری، جمعیت علماء ضلع مظفر نگر) نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا”عزیز معمارانِ قوم اساتذہ صرف کتابوں کے الفاظ منتقل کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ حقیقی معنوں میں انسانیت کے اور قوم کے سچے معمار ہیں۔ موجودہ دور میں ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج نئی نسل کو نشے کی ہولناک لت، موبائل اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے ذریعے پھیلنے والی اخلاقی بے راہ روی سے بچانا ہے۔ آج انٹرنیٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈوں کے ذریعے ہمارے معصوم بچوں کے پاکیزہ عقائد (ایمان) کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے طلبہ کے ایمان، عقیدے اور اعلیٰ اخلاقیات کی حفاظت نہ کی، تو آنے والی نسلیں فکری انتشار کا شکار ہو کر تباہ ہو جائیں گی۔ اساتذہ کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ سیرتِ پاک محمد رسول اللہﷺ کے سانچے میں بچوں کے کردار کو ڈھالنا ہوگا۔ میں آپ تمام اساتذہ سے اپیل کرتا ہوں کہ جمعیت علماء ہند کے اس ‘تربیتی نظام’ کا حصہ بنیں، تاکہ ہم سب مل کر ایک ایسا باشعور معاشرہ تیار کر سکیں جو سماجی مفاد (سماج ہت) اور ملکی مفاد (دیش ہت) میں ایک بہترین اور تعمیری اثاثہ ثابت ہو سکے۔
مہمانِ ذی وقار مولانا صداقت (استاد، دارالعلوم دیوبند) نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں وہی قومیں سربلند ہوتی ہیں جن کی نوجوان نسل باکردار ہو۔ ہمارے اساتذہ کو چاہیے کہ وہ جدید علوم کے ساتھ ساتھ طلبہ میں اسلامی و انسانی اقدار (اخلاقیات) کو اس طرح راسخ کریں کہ وہ ملک و قوم کی ترقی میں اپنا مثبت اور بہترین کردار ادا کر سکیں۔
مفتی صدام نے کہا کہ مدارس اور اسکولوں کو مل کر بچوں کی بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے ایمان اور عقیدے کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ آج کے دور میں بچوں کو فکری انتشار اور ذہنی بھٹکاؤ سے بچانا ہی سب سے بڑی جدید تعلیم ہے۔ ماسٹر محمد اخلاق نے کہا کہ ہمیں طلبہ کے بدلتے ہوئے رویوں پر گہری نظر رکھنی ہوگی اور انہیں تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ہوگا۔اجلاس میں شریک معزز اساتذہ و ذمہ داران میں بطور خاص,مفتی محمد زاہد ناظم تنظیم جمعیتہ علماء ضلع مظفر نگر، مفتی محمد عادل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع مظفرنگر، مفتی عبدالقیوم صدر جمعیتہ علماء حلقہ نیازوپورہ، مفتی محمد عارف قاری عبدالجبار، مولانا سمیع اللہ، مولانا افتخار، قاری حفظ الرحمن، مفتی عبدالواجد مفتی شاہ عظیم، قاری فیروز، قاری ثاقب ،قاری عبد المالک نیشنل پبلک اسکول، ماسٹر محمد طاہر، ماسٹر جمیل الرحمن۔ و دیگر علماء کرام نے شرکت کی میٹنگ کااختتام ملک و ملت کی سلامتی اور امن و امان کی خصوصی دعاؤں پر ہوا۔

 

متعلقہ خبریں