لکھنؤ:(پی این این)اتر پردیش میں ڈی جی پی راجیو کرشن نے عوامی شکایات کے ازالے میں لاپروائی برتنے پر 9 اضلاع کے 10 تھانہ انچارجوں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ ڈی جی پی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تمام زونل اے ڈی جی، پولیس کمشنروں، ڈی آئی جی، ایس ایس پی اور ایس پی سے رپورٹ طلب کی ہے۔ اس کے علاوہ تھانہ اور چوکی کی سطح پر زیرِ التوا شکایات کے سلسلے میں تین دن کے اندر وجوہات سمیت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
ڈی جی پی نے عوامی شکایات کے ازالے میں لاپروائی برتنے پر 9 اضلاع کے 10 تھانہ انچارجوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ ڈی جی پی کے جائزے میں انکشاف ہوا کہ اگست کے مقابلے ستمبر میں متعلقہ اضلاع میں شکایات کے ازالے کے معاملے میں لاپروائی برتی گئی۔انہوں نے لکھیم پور کھیری کے میلا نی اور فر دھان، اناؤ کے سوہرامؤ، ایٹہ کے جسرت پور، آگرہ کے لوہامنڈی، پرتاپ گڑھ کے مہیش گنج، بدایوں کے اساوا، بجنور کے چاندپور، متھرا کے جیت اور لکھنؤ کے بی بی ڈی تھانوں کے انچارجوں کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیا ہے۔
ڈی جی پی نے ہدایت دی کہ ایسا نظام وضع کیا جائے جس کے تحت تھانے کی سطح پر ہی شکایات کا ازالہ ہوجائے اور کسی بھی فریادی کو ضلع یا پولیس ہیڈکوارٹر کا رخ نہ کرنا پڑے۔ اجلاس میں تھانوں اور چوکیوں پر شکایات کی سماعت کو بہتر بنانے، زمین اور دیگر مقامی تنازعات کے سلسلے میں محکموں کے درمیان تال میل قائم کرنے اور حساس معاملات میں امن و قانون کی صورتِ حال برقرار رکھنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
انہوں نے ہدایت دی کہ آئی جی آر ایس، عوامی سماعت، وزیر اعلیٰ کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات، پی جی پورٹل اور دیگر ذرائع سے ملنے والی شکایات کی ترجیحی بنیادوں پر سماعت کی جائے اور ان کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جائے۔ شکایات کے زیرِ التوا رہنے کی وجوہات درج کی جائیں اور شکایت کنندہ کو بھی اس سے آگاہ کیا جائے۔ شکایات کی تعداد اور نوعیت کا تجزیہ کرکے ان کے اسباب کی نشاندہی کی جائے، جبکہ شکایات کے اندراج اور ازالے سے متعلق اعداد و شمار میں پوری دیانت داری برتی جائے۔اس کے علاوہ ایس پی اور ایس ایس پی کے دفاتر میں مرکزی نگرانی ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت دی گئی۔ یہ ڈیسک روزانہ موصول ہونے والی، نمٹائی گئی اور زیرِ التوا شکایات کی تفصیلات مرتب کرے گا، نیز تھانوں اور چوکیوں میں زیرِ التوا معاملات کی پیش رفت پر بھی نظر رکھے گا۔
ڈی جی پی نے کہا کہ تھانے یا چوکی پر آنے والے ہر فریادی کی بات صبر و تحمل اور احترام کے ساتھ سنی جائے۔ بدسلوکی، نظرانداز کرنے، بلاوجہ ٹال مٹول، جانب داری یا بدعنوانی کی شکایت ملنے پر تحقیقات کرکے ذمہ داری طے کی جائے گی۔ لاپروائی یا بے ضابطگی ثابت ہونے پر کارروائی بھی کی جائے گی۔انہوں نے ہدایت دی کہ زمین سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے اے سی پی اور سی او متعلقہ ایس ڈی ایم کے ساتھ تال میل قائم کرکے معاملات کو نمٹائیں۔ ہر تھانے کی سطح پر زمین سے متعلق 10 تنازعات کی فہرست تیار کی جائے۔ اس کے علاوہ ہر تھانے میں سب سے اہم 10 زیرِ بحث تنازعات کی فہرست بھی بنائی جائے۔
ان معاملات کے حل کے لیے تھانہ، سرکل اور ضلع کی سطح پر ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔
جہاں کسی تنازعے میں امن و امان میں خلل پڑنے کا خدشہ ہو، وہاں متعلقہ افراد کو مجاز ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرکے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 126 کے تحت کارروائی کی جائے۔ دفعہ 135 کے تحت تفتیشی کارروائی آگے بڑھائی جائے۔ مچلکے کی شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں حقائق اور شواہد کے ساتھ متعلقہ افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے، تاکہ بی این ایس کی دفعہ 141 کے تحت کارروائی کی جاسکے۔
