(پی این این)
دیوبند:سہارنپور ایڈوکیٹس ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) نے ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے اتر پردیش کے گورنر کو ایک میمورنڈم بھیجا، جس میں مغربی اتر پردیش میں ہائی کورٹ بنچ کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے الہ آباد ہائی کورٹ میں وکلاء کے ساتھ کئے گئے ہتک آمیز سلوک کی بھی سخت مذمت کی۔ ایسوسی ایشن کے صدر راہل تیاگی اور جنرل سکریٹری پالم رانا نے بتایا کہ مغربی اتر پردیش کے 22 اضلاع کے وکلاء 1981 سے ہائی کورٹ بنچ کے قیام کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں، لیکن ان کا مطالبہ ابھی تک پورا نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ سہارنپور سے پریاگ راج میں الہ آباد ہائی کورٹ کا فاصلہ تقریباً 750 کلومیٹر ہے۔ انصاف کے حصول کے لیے عوام اور وکلاء دونوں کو طویل مسافت طے کرنے، وقت اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جہاں ملک کی بہت سی ریاستوں میں ہائی کورٹ کے دو سے تین بنچ ہیں، وہیں اتر پردیش میں لکھنؤ میں الہ آباد ہائی کورٹ کی صرف ایک بنچ ہے، جو 12 اضلاع میں کام کرتی ہے۔ میمورنڈم پیش کرنے والوں میں سہارنپور بار ایسوسی ایشن سے وابستہ ایڈوکیٹ پالم رانا جنرل سکریٹری ،روبی مینو چاولہ ،ونود کمار ایڈوکیٹ، ہنس راج ایڈوکیٹ، یوگیش کمار ایڈوکیٹ ،سورو کمار ایڈوکیٹ، پنکج دیشوال ایڈوکیٹ، سندر پال ایڈوکیٹ، اشوک کمار کالرا ریکھا رانی، راجپوت راجہ۔ ایشان، چودھری رندھیر، سندیپ پوار، ایشان صدیقی رومن لامبا وغیرہ سنجے کمار سپن کمار منڈل قادر رانا، گرمیت پوار، سونو، محمد عرفان ،رمن سنگھ ایڈوکیٹ ،امیت چودھری ایڈوکیٹ وغیرہ موجود تھے۔
