(پی این این)
سہارنپور: اترپردیش اسمبلی انتخابات سے عین قبل سیاسی رہنماؤں کی اپنی سہولت کے مطابق سیاسی ٹھکانہ بدلنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اسی سلسلے میں پسماندہ طبقے کے اہم رہنما اور سابق کابینی وزیر صاحب سنگھ سینی تقریباً 3 سال تک بی جے پی میں رہنے کے بعد دوبارہ سماج وادی پارٹی میں واپس لوٹ رہے ہیں۔انہوں نے آج نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کی سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے ساتھ خصوصی ملاقات ہوئی ہے، جس میں اکھلیش یادو نے انہیں عزت و احترام کے ساتھ دوبارہ پارٹی میں شامل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مسٹر سینی نے کہا کہ وہ سہارنپور کی نکڑ اسمبلی نشست سے سماج وادی پارٹی اور کانگریس اتحاد کے امیدوار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے اس نشست سے، جب اس کا نام سرساوا اسمبلی حلقہ تھا، 1996 میں پہلی مرتبہ کانگریس کے امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا تھا اور اس وقت بی جے پی کے امیدوار نربھے پال شرما سے محض 90 ووٹوں کے فرق سے ہار گئے تھے۔
اب وہ 2027 میں اسی نشست سے دوبارہ انتخابی میدان میں اتر سکتے ہیں۔صاحب سنگھ سینی جولائی 2023 میں سماج وادی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے، لیکن تقریباً 3 سال کے دوران انہیں یہاں کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی۔
نکڑ نشست سے گزشتہ اسمبلی انتخابات یعنی 2022 میں بی جے پی چھوڑ کر سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر 4 بار کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی نے انتخاب لڑا تھا، لیکن وہ تقریباً 300 ووٹوں کے فرق سے بی جے پی کے نئے امیدوار مکیش چودھری سے ہار گئے تھے۔ مکیش چودھری کبھی عمران مسعود کے قریبی ساتھی رہے تھے۔
گزشتہ ماہ اکھلیش یادو نے سہارنپور کے دورے کے موقع پر ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی کی تعریف کی تھی اور یہ امکان بھی ظاہر کیا تھا کہ وہ دوبارہ سماج وادی پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی کو 2 دن قبل ہی ریاستی بی جے پی صدر پنکج چودھری نے ریاستی عاملہ کا رکن نامزد کیا ہے۔ اب ڈاکٹر سینی کی کوشش ہوگی کہ وہ بی جے پی میں رہتے ہوئے ہی نکڑ نشست سے امیدوار بنیں۔ اس صورت حال کو اپنے لیے سازگار سمجھتے ہوئے صاحب سنگھ سینی، جو اکھلیش یادو حکومت میں کابینی وزیر کے درجے پر فائز رہے ہیں، سماج وادی پارٹی میں واپس لوٹ رہے ہیں۔
صاحب سنگھ سینی اس سے قبل اسمبلی کے 2 انتخابات بھی لڑ چکے ہیں۔ انہوں نے 1998 میں جنتا دل کے ٹکٹ پر روڑکی سے اور 2002 میں کانگریس کے ٹکٹ پر لال ڈھانگ، ہریدوار سے انتخاب لڑا تھا۔ سال 2014 میں اکھلیش یادو نے انہیں پہلے وزیر کے درجے پر فائز کیا، پھر قانون ساز کونسل کا رکن بنایا اور اس کے بعد کابینی وزیر مقرر کیا تھا۔ 72 سالہ صاحب سنگھ سینی نے اپنے سیاسی کریر کا آغاز سہارنپور کے قدآور گوجر رہنما چودھری یشپال سنگھ کے وزیر رہنے کے دوران ان کے تعلقات عامہ کے افسر کی حیثیت سے کیا تھا۔مسٹر سینی ایک پندرہ روز کے دوران بی جے پی چھوڑ کر سماج وادی پارٹی میں شامل ہونے والے سینی برادری کے دوسرے بڑے رہنما ہیں۔ اس سے قبل اسی منڈل کے مظفر نگر کے سابق وزیر اور سابق رکن پارلیمنٹ راج پال سینی سماج وادی پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔
بی جے پی لیڈر صاحب سنگھ سینی تھامیں گے اکھلیش کا دامن
