(پی این این)
گیا جی: ٹاؤن بلاک کے اردو پرائمری اسکول چاتَرگھاٹ میں ہفتہ کے روز ’صفائی ہماری ثقافت‘ کے موضوع پر والدین و اساتذہ کی سنگوشٹھی منعقد کی گئی۔ اس کی صدارت اسکول کے ہیڈ ٹیچر ابو فیصل نے کی۔ سنگوشٹھی میں طلبہ و طالبات کے بڑی تعداد میں والدین نے شرکت کی۔ اس دوران صفائی، صحت، غذائیت، آبی تحفظ، کچرے کے انتظام اور ماحولیاتی تحفظ جیسے اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ساتھ ہی بچوں کی تعلیمی ترقی اور ان کی ہمہ جہت نشوونما میں والدین کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
ہیڈ ٹیچر ابو فیصل نے کہا کہ صفائی محض اسکول یا گھر تک محدود معاملہ نہیں ہے، بلکہ اسے زندگی کے معمولات اور تربیت کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ بچوں میں بچپن ہی سے صفائی، ماحول کے تحفظ اور ذمہ دار شہری بننے کا جذبہ پیدا کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے اسکول کے ساتھ والدین اور سماج کی فعال شرکت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو ذاتی صفائی کا خیال رکھنے، اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف رکھنے، پانی بچانے اور کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کی عادت ڈالیں۔
انہوں نے کہا کہ صفائی صرف صاف ستھرا رہنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہماری تربیت اور طرزِ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ بچوں میں کم عمری سے ہی صفائی، صحت، ماحول کے تحفظ اور پانی بچانے کی عادت پیدا کرنا ضروری ہے۔ اس میں اسکول کے ساتھ والدین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ جب اساتذہ اور والدین مل کر کوشش کریں گے، تبھی بچوں کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
سنگوشٹھی کے دوران اساتذہ اور والدین نے بچوں کی پڑھائی، اسکول میں باقاعدہ حاضری، ہوم ورک اور تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اساتذہ نے کہا کہ بچوں کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اسکول اور گھر کے درمیان بہتر تال میل ضروری ہے۔ والدین کو بچوں کی پڑھائی میں دلچسپی لینے، ان کے روزمرہ معمولات پر توجہ دینے اور گھر میں تعلیم کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی تلقین کی گئی۔ اسکول کے اوقات کے بعد گھر پر باقاعدگی سے مطالعہ کرنے کے لیے ایک مخصوص گوشۂ مطالعہ (اسٹڈی کارنر) تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں الیکٹرانک کچرے (ای ویسٹ) کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور اس کے مناسب تصفیے پر بھی گفتگو ہوئی۔ ہیڈ ٹیچر ابو فیصل نے بتایا کہ الیکٹرانک آلات سے نکلنے والے کچرے کو عام کچرے کے ساتھ نہیں ملانا چاہیے۔ اس کچرے کو محفوظ طریقے سے جمع کرنے اور مقررہ نظام کے تحت ٹھکانے لگانے کے سلسلے میں بچوں کو بھی بیدار کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ پانی کے تحفظ، صاف پینے کے پانی، پودوں کی دیکھ بھال اور آس پاس کے ماحول کو صاف رکھنے جیسے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سنگوشٹھی میں موجود والدین نے اپنے مشورے پیش کیے اور بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے رویے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے اسکول کے ساتھ تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ پروگرام کا مقصد اسکول اور سماج کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے کے ساتھ بچوں میں صفائی، صحت، ماحولیاتی تحفظ اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا تھا۔اس موقع پر محمد صلاح الدین انصاری، سانیہ خاتون، نازیہ گلشن، ہینا فردوس، وکاس رنجن کمار اور دلیپ کمار سمیت دیگر اساتذہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروگرام میں اسکول کی باورچن نوشابہ خاتون، شہناز خاتون اور سریتا دیوی بھی موجود تھیں۔
