(پی این این)
بھاگلپور: طویل فاصلے کی ٹرینوں میں مسافروں کے سامان کی حفاظت کے سلسلے میں ریلوے کے دعووں پر ایک بار پھر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
بھاگلپور سے سیوان جا رہے مجاہد پور حسین آباد کے رہائشی سینئر صحافی سید تنویر حسین کے دو ٹرالی بیگ امر ناتھ ایکسپریس سے پراسرار حالات میں غائب ہو گئے۔ بیگ میں ایس بی آئی کا اے ٹی ایم کارڈ، 10 سے 15 ہزار روپے نقد، چاندی کے کچھ زیورات، کپڑے سمیت کئی ضروری سامان موجود تھے۔ اس واقعے کے بعد ریل مسافروں کی حفاظت اور چلتی ٹرینوں میں نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
متاثرہ شخص کی تحریری درخواست کے مطابق، وہ 29 اکتوبر کی رات تقریباً 11:55 بجے ٹرین نمبر 15097 امر ناتھ ایکسپریس کے بی-3 کوچ میں سیٹ نمبر 1، 2 اور 4 پر اپنے اہل خانہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ بھائی کی اہلیہ اور بھتیجا بھی موجود تھے۔ ٹرین کے سمستی پور اسٹیشن پہنچنے پر دونوں ٹرالی بیگ غائب پائے گئے۔ کافی تلاش کے باوجود سامان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔واقعے سے پریشان سید تنویر حسین نے 30 اکتوبر کو ریل تھانہ مظفرپور میں تحریری شکایت دے کر چوری شدہ سامان کی برآمدگی اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ایک ہی مسافر کے دو ٹرالی بیگ کا چلتی ٹرین میں غائب ہو جانا ریل حفاظتی نظام کے لیے باعث تشویش ہے۔
سوال یہ ہے کہ بی-3 جیسے ریزرو کوچ میں مسافروں کے سامان کی نگرانی کا کیا انتظام ہے؟ کیا ٹرین میں حفاظتی اہلکار باقاعدگی سے گشت کر رہے تھے؟ اگر گشت ہو رہا تھا تو اتنی بڑی چوری کیسے ہو گئی؟ریلوے اسٹیشنوں اور ٹرینوں میں سی سی ٹی وی، آر پی ایف اور جی آر پی کی موجودگی کے باوجود مسافروں کا سامان محفوظ نہ رہنا انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔فی الحال متاثرہ مسافر کو اپنے سامان کی برآمدگی کا انتظار ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ریل پولیس شکایت کی بنیاد پر تحقیقات کو کتنی سنجیدگی سے آگے بڑھاتی ہے اور مسافروں کے سامان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔
