(پی این این)
دیوبند؛مسلم فنڈ ٹرسٹ دیوبند کے خادم استاذ شاعر اور ادبی محفلوں کی رونق شمس الدین خان کا طویل علالت کے بعد اپنی رہائشگاہ محلہ قلہ پر انتقال ہو گیا ھے۔اُن کے انتقال کی خبر سن کر ادبی حلقوں اور عزیز و اقارب کے یہاں ماحول سوگوار ہو گیا۔عزیز و اقارب و رشتہِ داروں متعلقین اور ادبی شخصیات نے اُن کی رہائشگاہ پہنچ کر سانحہ وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے تعزیت پیش کی۔
مسلم فنڈ ٹرسٹ دیوبند کے منیجر ،نائب منیجر سید محمد آصف حسین انعام قریشی مسعود خان رانا جاوید عثمانی قاضی دانش اور دیگر کارکنان نے شمس الدین خان کے انتقال پر صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے اظہار تعزیت کیا اور پسماندگان کو صبر جمیل کی تلقین کی۔مسلم فنڈ ٹرسٹ دیوبند اور اس کے ذیلی اداروں کے کارکنان سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔شاعر ذکی انجم صدیقی نے اپنے بیان کہا کہ شمس دیوبند ی میرے بہت قدیم دوست، کرم فرما، رہنما، ہمدرد، غم گسار سب کچھ رہے ہیں ۔مشاعروں کی دنیا میں خاکسار حوصلہ افزائی کرنے والے پہلے شخص وہی تھے۔انہو ں نے کہا کہ پہلی نشست میں نے انہی کے دولت خانے پر پڑھی اور شاعری کی ابتدا میں انہوں نے مجھے مفید مشورے بھی دیے۔ان کا ایک شعر آج بھی حافظے کی گہرائی میں محفوظ ہے۔قریب آتیری آنکھوں میں دیکھ لوں خود کو۔ بہت دنوں سے کوئی ائینہ نہیں دیکھا۔
انہوںنے کہا کہ شمس الدین خاں کے انتقال پر ہم سب غمگین اوررنجیدہ ہیں ۔ اردو محل دیوبند کی جانب سے آج ہی ایک نشست کا انعقاد ہونا تھا لیکن شمس الدین خاں کے انتقال کے غم اور افسوس میں نشست کو ملتوی کردیا گیا ۔سید وجات شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ یکم جولائی 1964ء کو دیوبند کی نامور شخصیت مرحوم شوکت بھٹے کے یہاں پیدا ہونے والے شمس دیوبندی ایک طویل عرصے سے مسلم فنڈ دیوبند میں ملازم تھے۔
شمس دیوبندی کو بچپن ہی سے اردو سے دلی لگاؤ تھا۔ 1981ء میں شمس نے ’’انجمن بزمِ سخن دیوبند‘‘ کی بنیاد رکھی۔ ان کا شعری سفر 1981ء سے 2026ء تک، یعنی 45 سال جاری رہا۔
انہوں نے ایک طویل عرصے تک اپنے کلام پر نامور شاعر و نغمہ نگار مرحوم تاجدار تاج (ممبئی) سے اصلاح لی۔ سنہ 2010ء میں ان کے مجموع کلام ’’تیری رہگزر سے آگے‘‘ کی اشاعت میں بھی مرحوم تاجدار تاج نے تعاون کیا تھا۔ 3 نومبر 2010ء کو جامعہ طبیہ دیوبند میں اس مجموع کلام کی رونمائی ہوئی تھی۔
وجاہت شاہ نے کہا کہ شمس دیوبندی نے بڑی تعداد میں مشاعروں میں دیوبند اور دیوبندی ادب کی بھرپور نمائندگی کی۔ انہیں کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ انہوں نے بہت سے نئے شعراء کے لیے اردو ادب اور شاعری کے دروازے کھولے۔شمس الدین خاں کے انتقال پر ڈاکٹر کاشف، ولی وقاص محمدنوید قاسمی، حاجی کمال اصغر، فہیم اختر صدیقی وغیرہ نے تعزیت مسنونہ پیش کی۔
