(پی این این)
گیا جی: بہار اور جھارکھنڈ کی مسلم کلال/عراقی برادری کو ہندو بنیا ذات سے الگ کرکے مستقل ذات کوڈ مختص کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بہار مسلم کلور کلال/عراقی ملت کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور سپریم کورٹ کے وکیل حریش احمد منہاج نے ہندوستان کے رجسٹرار جنرل و مردم شماری کمشنر کو میمورنڈم سونپ کر آئندہ قومی ذات پر مبنی مردم شماری میں برادری کی الگ گنتی کرانے اور ذات سرٹیفکیٹ سے متعلق خامیوں کو دور کرنے کی اپیل کی ہے۔
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ مسلم کلال/عراقی برادری بہار میں پسماندہ طبقہ-2 میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی پسماندہ طبقہ کمیشن کی فہرست میں بھی اس کا اندراج سلسلہ نمبر 124 (ب) پر ہے۔ اس کے باوجود بہار اور جھارکھنڈ کی ذات فہرستوں میں اسے ہندو بنیا ذات کے ساتھ رکھے جانے پر کمیٹی نے اعتراض کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق اس درجہ بندی سے برادری کی مذہبی اور سماجی شناخت متاثر ہو رہی ہے۔
میمورنڈم میں بہار حکومت کی جانب سے کلال اور عراقی کو الگ الگ ذیلی ذاتوں کے طور پر درجہ بند کیے جانے پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ منہاج کا کہنا ہے کہ کلال اور عراقی ایک ہی ذات کے دو رائج نام ہیں۔ انہوں نے کنجڑا/رائیں، بھٹیارا/فاروقی، دھونیا/منصوری، درزی/ادریسی، جولاہا/انصاری اور قصائی/قریشی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسی طرز پر کلال اور عراقی کو بھی ایک ہی ذات کی شناخت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس درجہ بندی سے قبل کلال برادری کے نمائندوں سے مناسب مشورہ نہیں کیا گیا۔ کمیٹی کے مطابق ذات کی غلط شناخت سے برادری کی حقیقی آبادی، تعلیمی حالت اور سماجی و معاشی پسماندگی سے متعلق اعداد و شمار متاثر ہوسکتے ہیں، جس کا اثر اہل افراد کو ریزرویشن اور سرکاری فلاحی اسکیموں کا فائدہ ملنے پر بھی پڑ سکتا ہے۔
حریش احمد منہاج نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ قومی ذات پر مبنی مردم شماری میں مسلم کلال/عراقی برادری کو ہندو بنیا ذات سے الگ رکھتے ہوئے مستقل ذات کوڈ مختص کیا جائے۔ اس کے ساتھ بہار اور جھارکھنڈ کی ذات فہرستوں میں ضروری ترمیم اور این آئی سی پورٹل پر ذات سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے نظام کو درست کیا جائے۔کمیٹی نے متعلقہ حکام سے اس معاملے میں ضروری ہدایات جاری کرنے کی اپیل کی ہے، تاکہ برادری کی الگ مذہبی و سماجی شناخت برقرار رہے اور اس کی حقیقی آبادی اور پسماندگی کا درست اندازہ سرکاری اعداد و شمار میں درج ہوسکے۔
