(پی این این)
گیا جی: رات کا سناٹا، گہری نیند میں پوری فیملی اور اسی کمرے میں چوروں کی خاموش کارروائی! نہ کسی کی نیند ٹوٹی اور نہ ہی کوئی آہٹ سنائی دی۔ مبینہ طور پر بے ہوشی کا اسپرے مار کر چوروں نے فیملی کو بے سدھ کر دیا اور گھر سے تقریباً 12 لاکھ روپے کی جائیداد سمیٹ کر فرار ہو گئے۔ صبح آنکھ کھلی تو کمرے کا سامان بکھرا پڑا تھا اور نقدی و زیورات غائب تھے۔ یہ سنسنی خیز واردات کوتوالی تھانہ علاقے کے بیراگی میں جمعرات کی رات تقریباً ڈیڑھ سے تین بجے کے درمیان ہوئی۔ مکان میں رہنے والے اے ایس آئی ونود سنگھ جھارکھنڈ پولیس میں تعینات ہیں۔
اے ایس آئی کی فیملی کرائے کے مکان میں رہتی ہے۔ واردات کی رات ان کی اہلیہ، دو بیٹے اور بیٹی ایک ہی کمرے میں سو رہے تھے۔ چوروں نے اسی کمرے میں پلاسٹک میں بند اِڈلی بنانے کے برتن سے تقریباً دو لاکھ روپے نقد نکال لیے۔ اس کے بعد الماری اور گھر کی دوسری جگہوں کی تلاشی لے کر سونے کی چین، انگوٹھیاں، کنگن اور چاندی کے سکے سمیت تقریباً 10 لاکھ روپے کے زیورات چوری کر لیے۔ فیملی کے مطابق، مجموعی نقصان تقریباً 12 لاکھ روپے کا ہے۔
متاثرہ پون کمار نے بتایا کہ صبح تقریباً پانچ سے چھ بجے نیند کھلی تو کمرے میں سامان بکھرا ہوا تھا۔ فیملی کے ارکان کو سر درد، چکر اور جسم بھاری ہونے کی شکایت تھی۔ انہیں شبہ ہے کہ چوروں نے بے ہوش کرنے کے لیے کسی اسپرے کا استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد سبھی گول پتھر واقع اسپتال پہنچے، جہاں علاج کرایا گیا۔
تاہم، اسپرے کے استعمال کی تصدیق جانچ کے بعد ہی ہو سکے گی۔متاثرہ فیملی کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے دشمنی یا تنازع نہیں ہے اور فی الحال کسی پر شبہ بھی نہیں ہے۔ فیملی کا اپنا مکان زیر تعمیر ہے، اسی لیے وہ کرائے کے گھر میں رہ رہی ہے۔ واردات کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگالنی شروع کر دی ہے۔ پولیس چوروں کی شناخت میں مصروف ہے۔
کوتوالی انسپکٹر دھننجے سنگھ نے بتایا کہ پولیس ٹیم جائے واردات پر گئی تھی اور معاملے کی جانچ کی گئی ہے۔ اب تک متاثرہ فریق کی جانب سے درخواست نہیں ملی ہے۔ درخواست ملنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ایک ہی کمرے میں سو رہی پوری فیملی کو واردات کی بھنک تک کیوں نہیں لگی اور چوروں نے اتنی صفائی سے اس واردات کو کیسے انجام دیا؟ ان سوالات کے جواب اب پولیس کی جانچ اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں تلاش کیے جا رہے ہیں۔
