تازہ ترین
سیتامڑھی کےنانپور میں شراب مافیا پر پولیس کا بڑا وار، وِنود ٹریڈرس کے گودام سے 4,447.8 لیٹر غیر ملکی شراب ضبط،8 شاطرگرفتارارریہ:اسکولوں میں ’’محفوظ بچپن مہم‘‘ کے تحت بیداری پروگرام منعقدگیاجی: ایس آئی کے گھر سے 2 لاکھ نقد اور 12 لاکھ کے زیورات کی چوریتعلیمی بیداری اور معیار سے ہی ترقی کرے گامعاشرہ : منوری بیگم، دیوبند یونانی میڈیکل کالج میں ہونہار طلباکے اعزاز ی پروگرام کا انعقادمدارس کی خدمات کو منظر عام پر لانے کی ضرورت: پروفیسر خواجہ اکرام الدین, شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں ادب نما کے تحت ”اردو کے فروغ میں مدارس کا کردار“ پرآن لائن پروگرام کا انعقادمنوج تیواری نے جمنا میںلگائی ڈبکی ،کیجریوال کو بھی دعوتمرحوم نارنگ ساقی کی یاد میں آل انڈیا مشاعرہتیجسوی یادو نے مرحوم حاجی شفیق خاں کو پیش کیا خراجِ عقیدت، مہسول قبرستان میں قبر پر چادر چڑھائی، مدنی مسافر خانہ میں تصویر پر گل پوشی کے بعد سوگوار اہل خانہ سے کی ملاقات
Bihar

ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤریلی کے تحت یکم نومبر کوچلیں دہلی ، بلند کریںجمہوریت کی آواز : تابش پٹیل

(پی این این)
گیا جی : آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے شعبۂ اقلیت کے نیشنل کوآرڈینیٹر تابش پٹیل نے ملک کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والی ’’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘‘ مہاریلی میں بڑی تعداد میں شرکت کریں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مہاریلی محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ جمہوریت، آئین، شہری حقوق اور ملک کے مستقبل سے وابستہ ایک اہم پیغام ہے۔ انہوں نے عوام سے جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے متحد ہوکر اپنی آواز بلند کرنے کی اپیل کی۔تابش پٹیل نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت آئین، مساوات، آزادی، انصاف اور شہریوں کے حقِ رائے دہی پر مبنی ہے۔ ووٹ دینے کا حق صرف حکومت منتخب کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ عوام کو ملک کی سمت طے کرنے میں حصہ لینے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اس لیے انتخابی عمل میں شفافیت، ووٹر لسٹ کی درستگی اور ہر اہل شہری کو ووٹ دینے کا موقع ملنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی بیداری اور حکومتوں کی جواب دہی جمہوریت کو مضبوط بناتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی آئین ہر شہری کو مساوی حقوق، عزت اور انصاف کی ضمانت دیتا ہے۔ ملک کی گنگا جمنی تہذیب، تنوع میں اتحاد اور سماجی ہم آہنگی ہماری بنیادی شناخت ہیں۔ ان اقدار کا تحفظ تمام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوگی جب عام لوگوں کی آواز سنی جائے گی اور کمزور و محروم طبقات کو انصاف اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ عوام کو اپنے مطالبات پُرامن اور آئینی طریقے سے پیش کرنے چاہئیں۔
تابش پٹیل نے نوجوانوں، کسانوں، مزدوروں، طلبہ، خواتین، چھوٹے کاروباریوں، ملازمین اور سماج کے تمام طبقات سے مہاریلی میں شرکت کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں، کسان غذائی تحفظ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور مزدور اپنی محنت سے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خواتین اور طلبہ بھی سماجی ترقی میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ اس لیے تمام طبقات کے مسائل، حقوق اور توقعات کو جمہوری عمل میں مناسب اہمیت ملنی چاہیے۔
آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے شعبۂ اقلیت کے نیشنل کوآرڈینیٹر نے اقلیتی طبقے سمیت تمام برادریوں سے آئین میں درج مساوات، مذہبی آزادی، انصاف اور بھائی چارے کی اقدار کو مضبوط بنانے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی خوبصورتی اس کی کثیر الثقافتی شناخت اور مختلف مذاہب، زبانوں اور روایات کے باہمی اشتراک میں مضمر ہے۔ کسی بھی شہری کے ساتھ مذہبی شناخت، زبان، علاقے یا سماجی پس منظر کی بنیاد پر امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ ہر ہندوستانی کو عزت، تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
تابش پٹیل نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے نعرہ دیا، ’’چلو دہلی، ریلی میں چلو؛ ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یکم نومبر کی مہاریلی میں عوام کی شرکت جمہوری حقوق اور آئینی اقدار کے تعلق سے بیداری کا پیغام وسیع پیمانے پر پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ انہوں نے لوگوں سے اپنے اہل خانہ، دوستوں اور واقف کاروں کے درمیان حقِ رائے دہی کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور ریلی میں پُرامن و منظم انداز میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ ’’تبدیلی کی راہ اب عوام کے ساتھ‘‘ کا پیغام اسی وقت بامعنی ہوگا، جب شہری بیداری، اتحاد اور جمہوری شرکت کو ترجیح دیں گے۔ آئین کی عظمت، مساوات، انصاف اور بھائی چارے کی اقدار کو برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے جمہوری حقوق کے ساتھ فرائض کو بھی سمجھیں اور ملک کی یکجہتی و سالمیت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

متعلقہ خبریں