تازہ ترین
این ڈی اے کی میٹنگ میں نہیں پہنچے آر ایل ایم کے3 ارکانِ اسمبلی، وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کی رہائش گاہ پرمنعقدہ اجلاس سے بنائی دوری،پارٹی سربراہ اوپیندر کشواہا کی مشکلوں میں اضافہووٹ چوری کے خلاف کانگریس کا احتجاج، لیڈران ہاؤس اریسٹآسنانند پور شیعہ ٹولی میں تجاوزات پر میونسپل کارپوریشن سخت، ہٹانے کی مہلتسر سید قومی ایوارڈ 2026ء کا اعلان،ڈاکٹر ذکی طارق اور اِسمِتا شر ما کو سر سید قومی ایوارڈنا ممکنات میں سے ہیںادب اور شاعری کے مشینی ترجمے: پروفیسر مشرف علینعتیہ مقابلے میں سینٹ روز نے جیتے 5 انعامجنتر منتر احتجاج کی وجہ سے دہلی کے اسکولوں کے لیے بڑا حکم جاریدہلی اسمبلی میں گونجی ننھے ماحولیاتی نمائندوں کی آواز
Bihar

نا ممکنات میں سے ہیںادب اور شاعری کے مشینی ترجمے: پروفیسر مشرف علی

(پی این این)
پٹنہ: ’آگ کا دریا‘ قرۃ العین حیدر نے پاکستان ہجرت کے بعد ۱۹۵۹ء میں شائع کرایا جسے آنے والے وقت میں اردو کا عظیم ناول قرار دیا گیا۔ چار دہائیوں کے بعد قرۃ العین حیدر نے اپنے اِس مشہور ناول کا انگریزی زبان میں River of Fire نام سے ترجمہ کیا جسے ایک بڑے حلقے میں پڑھا جانے لگا۔ اِس سے پہلے ہندی اور چند دیگر زبانوں میں بھی اِس ناول کے تراجم سامنے آ چکے تھے مگر قرۃ العین حیدر نے اپنی تصنیف کا ترجمہ کرتے ہوئے مختلف انداز کی تبدیلیاں کیں۔ یہاں زبان کی منتقلی ایک معمولی بات ہے، اُنھوں نے کرداروں کی صورت تبدیل کی، واقعات بڑھائے اور گھٹائے اور چالیس برس کے عرصے میں ہند و پاک کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی رشتوں میں جو فرق پیدا ہوا تھا، اُسے بھی ناول کے متن میں قصّے میں تبدلیوں کے بہانے شامل کیا جس کی وجہ سے ’آگ کا دریا‘ کے انگریزی متن کو ایک الگ ناول کے طور پر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔
کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ کے شعبۂ اردو کے زیرِ اہتمام منعقدہ پانچ روزہ ورک شاپ کے چوتھے دن احمد آباد، گجرات کی سپٹ یونی ورسٹی کی انگریزی زبان کی استاد ڈاکٹر شبیہہ راحت نے قرۃ العین حیدر کے اصل متن اور اُس کے انگریزی ترجمے کے مسائل پر تفصیل سے بحث کرتے ہوئے مذکورہ گفتگو کی۔ اُنھوں نے مصنف کے ذریعے دوسری زبان میں ترجمے کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے ربندر ناتھ ٹیگور، نوبوکوف، میلان کندیرا جیسے افراد کا تذکرہ کیا اور اُن کے اصل متن اور تراجم کے سلسلے سے عالمی سطح پر جو گفتگو ہوئی ہے، اُس کا جائزہ لیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ قرۃ العین حیدر نے ’آگ کا دریا‘ کی اشاعت کے بعد کے دَور میں پاکستان میں ایک خاص حلقے کی جانب سے اُن کی جو حوصلہ شکنی ہوئی، اُس سے وہ کبیدہ خاطر ہوئیں اور اُنھوں نے بالآخر ۱۹۶۱ء میں ہندستان واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ قرۃ العین حیدر کے انٹرویو کے متن سے اُنھوں نے اِن ٹوٹے ہوئے تاروں کو جوڑنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر شبیہہ راحت نے انگریزی اردو متن کے موازنے کے مرحلے میں متعدد مثالیں دیں اور کہا کہ ابو المنصور کمال الدین کے کردار کو انگریزی میں محدود جگہ دی گئی، رام دہیا کے لیے تفصیل اور کم ہو گئی ہے۔ لوک گانو کے انگریزی ترجمے میں براے نام جگہ ہے۔
ڈاکٹر شبیہہ راحت نے دونوں متون کے افتراق پر بحث کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حقائق کی تبدیلی کے باوجود قرۃ العین حیدر کا ثقافتی اسٹینڈ بتدریج موجود ہے کہ کسی بھی ملک سے بڑھ کر اُس کی تہذیبی وراثت ہوتی ہے۔ یہ بات آگ کا دریا کے اردو متن سے لے کر انگریزی متن تک ہر جگہ جاری و ساری ہے۔مشہور شاعر سنجَے کمار کندن نے صحافت میں ترجمے کی اہمیت کو موضوع بنایا اور اِس مرحلے میں صحافت کی تاریخ پر خصوصی توجّہ دی۔ اُنھوں نے مصر، یورپ ارو چین میں صحافت کی جو تاریخ رہی ہے، اُس کے مختلف مراحل واضح کرتے ہوئے اُنھوں نے اٹھارھویں صدی کے اواخر میں ہندستان کی صحافت کے آغاز و ارتقا کے احوال واضح کیے۔ اُنھوں نے بتایا کہ کس طرح پتھروں پر اطلاعات کندہ کرانے سے لے کر کاغذ تک کے سفر مکمل ہوا۔ اُنھوںنے ’جامِ جہاں نما‘ جیسے اخبار کی مثال دیتے ہوئے اردو کی تہذیبی اور ثقافتی وسیع المشربی پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ طویل سفر کے باوجود اِس زبان کی صحافت مشترکہ تہذیب و ثقافت کی ترجمانی میں آج بھی مشغول ہے۔ اُنھوں نے کسی خبر یا مضمون کے ترجمے میں موضوع کے مزاج کو سمجھنے کی ہدایت کی۔بنارس ہندو یونی ورسٹی کے استاد پروفیسر مشرف علی نے ترجمہ اور انسانی وسائل کے موضوع پر اپنے خطاب میں واضح لفظوں میں کہا کہ ادب اور شاعری کے مشینی تراجم ہمارے لیے اب تک نا ممکنات میں ہیں۔ سائنس اور علم الحساب جیسے مضامین کے ترجمے میں مشینوں کا استعمال آسان ہے اور اِس کے خاطر خواہ نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں مگر جب جب کسی شعری متن کا ترجمہ مشین کی مدد سے کرنے کی کوشش کی گئی، اِس میں ناکامی ہی ہاتھ آئی۔
اُنھوں نے بتایا کہ شاعری اور دیگر تخلیقی ادب کی تہذیبی اور علمی اصطلاحیں کثیر المعنی ہوتی ہیں اور اُن کی جہتیں بھی مختلف ہوتی ہیں، اِس لیے اُن کے مشینی ترجمے میں مترجمین بار بار ناکام ہوتے ہیں۔
پروفیسر مشرف علی نے فنِ ترجمہ کی ضرورت اور افادیت واضح کرتے ہوئے یہ بتایا کہ انسانی علوم کے فروغ میں ترجمہ بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اُنھوںنے بتایا کہ ترجمے کی مدد سے ہم تہذیب و ثقافت کے متعدد نئے وسائل تک پہنچ سکتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ترجمہ افہام و تفہیم کے دروازے کھولتا ہے۔ اردو زبان کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ ہماری زبان کی ابتدائی تاریخ فارسی کے تراجم پر ہی منحصر ہے۔ یہ بھی واضح کیا کہ اردو آبادی اکثر کثیر لسانی طبیعت کی حامل رہی ہے۔ اِس لیے اُس کا تہذیبی و ثقافتی شعور وسیع اور ہمہ گیر ہوتا ہے۔ پروفیسر مشرف علی نے ترجمے کے اقسام پر بحث کرتے ہوئے لفظی اور معنوی تراجم سے الگ کیفیت کی ترجمانی کو بھی ترجمے کی ایک شکل بتایا اور کہا کہ مترجمین نے Transcreation کے عمل سے گزرتے ہوئے ایک سے ایک بڑے شہکار پیش کیے۔
مقررین کا تعارف شعبۂ اردو کالج آف کامرس کے استاد اور مقامی کوآرڈنیٹر پروفیسر صفدر امام قادری نے پیش کیے۔ ڈاکٹر شبیہہ راحت نے آن لائن موڈ میں اپنا خطاب انگریزی زبان میں پیش کیا۔ قومی ترجمہ مشن سے تشریف فرما کورآڈنٹر ڈاکٹر محمد نوشاد عالم نے تمام ماہرین اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ ہندستانی زبانوں کے تراجم کے سلسلے سے منعقدہ اِس ورک شاپ کے آخری دن مورخہ ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو پہلا خطاب ڈاکٹر محمد ذاکر حسین، خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ کا ہوگا جو عربی اور فارسی متون کے اردو، ہندی اور انگریزی تراجم یا اِس کے بر عکس صورتِ حال پر اپنا خطاب پیش کریں گے۔ ترجمہ کے بنیادی تصوّرات عنوان سے ڈاکٹر محمد نوشاد عالم کا خطاب ہوگا اور تیسرا خطاب ہندی اردو تراجم کے مسائل کے حوالے سے شعبۂ اردو، پٹنہ یونی ورسٹی کی استاد ڈاکٹر افشاں بانو پیش کریں گی۔ اختتامی اجلاس میں اردو اور انگریزی زبان کے ریسرچ اسکالرس اور سینئر طلبہ ورک شاپ سے متعلق اپنے تاثرات پیش کریں گے۔ واضح ہو کہ قومی ترجمہ مشن اور شعبۂ اردو کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ کے مشترکہ انتظام میں پانچ روزہ ورک شاپ کا کل اختتام ہوگا۔ اِس ورک شاپ میں تقریباً۸۰؍ امید وار شریک ہیں اور ملک کے مشہور ۱۴؍ ماہرین اور اساتذۂ کرام نے اِس دوران ریسرچ اسکالرس کی ترجمے کے حوالے سے تربیت کی۔

متعلقہ خبریں