تازہ ترین
بہار کےبرطرف امینوں نے حکومت کیخلاف کھولا مورچہ، ملازمت سے ہٹائے جانے پر امین مشتعل، احتجاج میں شدت لانے کی دھمکی، ہڑتالی امینوں کو ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کرنے اور ای-ماپی پورٹل پر ان کی شناختی آئی ڈی غیر فعال کرنے کے آمرانہ حکم پر نہیں رہیں گے خاموش: یونینانسانیت اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آج سے شروع ہوگا3 روزہ تبلیغی اجتماع، ملک بھر کے نامور علمائے دین کریں گے شرکت،ڈی ایم اور ایس ایس پی نے تیاریوں کا لیا جائزہپولیس پر لگے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق سخت کارروائی ضروری، مدھوبنی گولی باری معاملے پر جن سوراج کا شدید ردعمل،ریاستی سطح کی ٹیم نے گاؤں پہنچ کر متاثرہ خاندانوں سے کی ملاقات، یتیم بچوں کے مستقبل اور خاندان کی کفالت کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضہ اور سرکاری ملازمت کا مطالبہ11 نومبر کو منعقد ہونے والے ’’مدارس اسلامیہ کنونشن‘‘ کی تیاریوں کے جائزہ کے بعد اطمینان کا اظہاراتر پردیش انتخابات کے پیش نظر پرینکا گاندھی سرگرم، سیٹوں کی تقسیم کے معاملے میں کانگریس کی قیادت بھی انہی کے حوالےدیوبند: مولانا اعجاز اور کارڈرائیور کی سڑک حادثہ میں دردناک موتجامعہ عائشہ للبنات چھٹمل پور میں’’ایک شام اولیاء اللہ کے ساتھ‘کے عنوان سے پروقار اور روحانی مجلس کا انعقاد’نفرت کے بڑے سے بڑے اندھیروں کو مٹا سکتا ہےمحبت کا ایک چھوٹا سا چراغ ‘، میرٹھ میںچودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں جشن دیوالی اور رنگو لی کا شاندار انعقاد
بہار

ملی قیادتوں کی مشترکہ پریس کانفرنس ،’’وقف بچاؤ ، دستور بچاؤ‘‘کانفرنس کو کامیاب بنانے کا عزم

(پی این این)
پٹنہ : 29 جون کو گاندھی میدان پٹنہ میں منعقد ہونے والی “وقف بچاؤ، دستور بچاؤ کانفرنس” کی تیاریاں بڑی تیزی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے زیر اہتمام ہونے والی اس تاریخی کانفرنس کی مجلس استقبالیہ کی جانب سے پٹنہ میں امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی صدارت میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد کی گئی ،جس میں ملی تنظیموں کے ذمہ داران خانقاہوں کے سجادگان، ائمہ کرام، استقبالیہ کمیٹی کے اہم ذمہ داران اور متعدد مسالک و مکاتب فکر کے قائدین نے شرکت کی اور متفقہ طور پر “وقف بچاؤ دستور بچاؤ” کانفرنس کوہرطرح کامیاب بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس اجلاس کی کامیابی کے لیے ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ساتھ ہی پٹنہ سمیت مختلف شہروں اور قصبوں میں کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں ائمہ کمیٹی، خواص کمیٹی، مجلس استقبالیہ کمیٹی، میڈیا کمیٹی، نشر و اشاعت کمیٹی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان تمام کمیٹیوں نے یک زبان ہو کر یہ پیغام دیا ہے کہ “پٹنہ کی سرزمین وقف بچاؤ تحریک کی امین بنے گی”۔ ماضی میں دین بچاؤ دیش بچاؤ تحریک کے دوران جس طرح پٹنہ نے خدمت، ضیافت اور نظم و ضبط اور اہتمام کی مثال پیش کی تھی، اس بار بھی وہی نقش دہرانے کا اعلان کیا گیا۔
اس موقع پر شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ وقف ترمیمی قانون نہ صرف آئینی خلاف ورزی ہے بلکہ وقف املاک پر منظم قبضے اور لوٹ کھسوٹ کی راہ ہموار کرتا ہے۔اس قانون کے نفاذ کے بعد وقف کا بنیادی اسلامی تصورِ اور اس کی اصل اسلامی تعریفات ختم کر دی جائیں گی۔ وقف بورڈ کو ایک حکومتی ایجنسی میں تبدیل کرنے، لوگوں کے وقف کرنے کے اختیارات کو محدود تر کر دیا جائےگا۔ ہمارے خیر کی 1400 سالہ تاریخ کو مٹا دیا جائے گا اور ہمارے مدارس، مساجد، مقابر و قبرستان سب کو برباد کر دیا جائے گا۔
یہ تمام تبدیلیاں دراصل ایک منصوبہ بند سازش ہیں جس کے ذریعے مسلمانوں کے مذہبی، تعلیمی، سماجی و تاریخی ورثے کو مٹانے کی راہ بنائی جا رہی ہے۔ کانفرنس کا مقصد ان تمام سازشوں کو ناکام بنانا اور ایک متحد آواز میں حکومت ہند کو یہ پیغام دینا ہے کہ “ہم دستور کے ساتھ ہیں، اور اپنے وقفی اداروں پر کسی قسم کی سیاسی یا قانونی شب خون کو برداشت نہیں کریں گے۔”پریس کانفرنس کے اختتام پر تمام جماعتوں کے قائدین اور امارت شرعیہ کے نمائندگان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 29 جون کو اپنے گھروں سے نکلیں، اور گاندھی میدان کو تاریخ کے سب سے بڑے پرامن، باوقار اور دستور پرست اجتماع میں بدل دیں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔