تازہ ترین
تہواروں کے موقع پر بہار کے عوام کیلئے ریلوے کاتحفہ،پٹنہ-مظفرپور اور آرا کے راستے چلیں گی 12 خصوصی ٹرینیں، تمام تیاریاں مکمل،مسافروں کو ملے گی بڑی راحتبہار کی سیاست کے لیے جے ڈی یو کا ساتھ ضروری، نتیش کمار کے کام کو 100 سال تک رکھا جائے گا یاد: سنجے جھافرضی آدھار کارڈ ریکیٹ کاپولیس نے کیا انکشاف، 17 ریاستوں میں پھیلاہوا ہے نیٹ ورک، 200 شاطر افرادملوثووٹ بچاؤ-دیش بچاؤ مارچ میں عوامی سیلاب،ارریہ چاندنی چوک پر پتلا نذرآتش، انڈیا اتحاد نے کی جمہوریت و آئین کے تحفظ کی آواز بلند’لفظ اور معنی کے ما بین پوشیدہ مقاصدکو باریکی سے سمجھے بغیر مترجم نہیں ہو سکتاکامیاب ‘کسی تخلیق کے صنفی مزاج کو سمجھ کر ترجمے کا کیا جانا چاہیے عمل:پروفیسر احمد بدرویشالی میں مہاگٹھ بندھن کا احتجاج، الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بازیہائی کورٹ نے یوپی پولیس کولگائی پھٹکارا،ریاست میں مسلسل ہورہی غیر قانونی گرفتاریوں پرکیا سخت برہمی کا اظہار، کہا- آپ کو شرم آنی چاہیےووٹ چوری اور الیکشن کمشنر کیخلاف احتجاج کرنے والے اپوزیشن لیڈروں کو پولیس نے کیا گھروں میں نظر بند
Bihar

فرضی آدھار کارڈ ریکیٹ کاپولیس نے کیا انکشاف، 17 ریاستوں میں پھیلاہوا ہے نیٹ ورک، 200 شاطر افرادملوث

(پی این این)
پٹنہ:فرضی دستاویزات کے ذریعے آدھار کارڈ تیار بنانے والے ماسٹر مائنڈ اعجاز نے پولیس کی پوچھ گچھ میں بڑا انکشاف کیا ہے۔ پنجاب کے موہالی کے رہنے والے اعجاز قمر کے سنڈیکیٹ میں 200 سے زائد شاطر افراد شامل تھے، جنہیں مختلف ریاستوں میں بینکوں کے آدھار مراکز پر ساز باز کے ذریعے تعینات کیا گیا تھا۔ اس کا نیٹ ورک 17 ریاستوں تک پھیلا ہوا ہے۔ آپریٹروں کے ذریعے وہ آدھار میں من چاہی تبدیلی کرکے فرضی آدھار کارڈ تیار کروا لیتا تھا۔
اعجاز کا گروہ ملک کی 17 ریاستوں کے مختلف بینکوں میں قائم آدھار مراکز سے وی ای ای ٹیکنالوجی کمپنی کے ذریعے منسلک تھا۔ کمپنی کی جانب سے اسے یو آئی ڈی اے آئی آپریٹر فراہم کرنے تھے۔ تاہم، اس نے ان مراکز پر اپنے سنڈیکیٹ سے وابستہ 200 سے زائد نوجوانوں کو آپریٹر کے طور پر تعینات کر رکھا تھا، جن کے ذریعے وہ جعل سازی کرکے آدھار کارڈ تیار کرتا تھا۔جعل سازی کا معاملہ سامنے آنے پر اگر کمپنی اس کے کسی آپریٹر کو ڈیفالٹر قرار دے دیتی تھی تو وہ اس کی جگہ کسی دوسرے شخص کو آپریٹر کے طور پر تعینات کروا دیتا تھا۔
سٹی ایس پی محیب اللہ انصاری نے بتایا کہ اعجاز قمر اس سنڈیکیٹ کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ اعجاز نے پولیس کو بتایا کہ پنجاب کے موہالی کے زیرکپور بٹالانا کے وکی پانڈے، مدھو اور گورو اس کے سنڈیکیٹ کے کام کاج میں اس کے معاون ہیں۔ ان میں وکی ٹیکنیشن ہے اور وہ کمپیوٹر سسٹم میں آنے والی خرابی کو دور کرتا تھا۔
اعجاز قمر کی نظر ان نوجوانوں پر رہتی تھی جو بھارتی مخصوص شناختی اتھارٹی (یو آئی ڈی اے آئی) کے آپریٹر کا امتحان پاس کرچکے ہوتے تھے۔ پولیس کے سامنے اپنے اعترافی بیان میں ایک ملزم سجیت کمار نے بتایا کہ اس نے 2016 میں آپریٹر کا امتحان پاس کیا تھا۔ اس کے بعد اس نے سپروائزر کا امتحان بھی پاس کرلیا۔ اس کے دوست کشن کمار نے اس کی ملاقات پٹنہ میں اعجاز قمر سے کرائی تھی۔امتحان پاس کرنے کی وجہ سے ہی اعجاز نے اسے پٹنہ کے بورنگ کینال روڈ واقع یونین بینک کی شاخ کے آدھار مرکز میں آپریٹر کے طور پر تعینات کرایا تھا۔ اس دوران اس سے بڑے پیمانے پر جعل سازی کرائی گئی۔ اس کے نتیجے میں یو آئی ڈی اے آئی کمپنی نے اسے ڈیفالٹر قرار دے کر آپریٹر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
موہالی میں اعجاز قمر کا خاندان بااثر سمجھا جاتا ہے۔ اس کی اہلیہ لندن کے ایک بینک میں ملازمت کرتی ہے۔ ابتدا میں وہ موہالی اور چندی گڑھ کے آس پاس اپنا کاروبار چلاتا تھا۔ وی ای ای ٹیکنالوجی سے وابستہ ہونے کے بعد وہ آپریٹر فراہم کرنے والے وینڈر کے طور پر کام کرنے لگا۔ اسی سلسلے میں اس کا سنڈیکیٹ 17 ریاستوں کے بینکوں تک پھیل گیا۔حالیہ دنوں میں اس نے پٹنہ کو اپنا ٹھکانہ بنا رکھا تھا۔ مظفرپور میں چھاپہ ماری کے بعد وہ پٹنہ چھوڑنے ہی والا تھا کہ موبائل لوکیشن کی بنیاد پر پولیس نے 4 اکتوبر کو اسے پٹنہ ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کر لیا۔

 

 

متعلقہ خبریں