(پی این این)
بریلی: ممنوعہ غیر ملکی ایپ کے ذریعے یو ایس ڈی ٹی کی مائننگ اور حوالہ کاری کے ذریعہ کروڑوں روپے کی کالی کمائی ٹھکانے لگائی گئی۔ اس معاملے میں بریلی میں ایس او جی اور بھوتا پولیس کی مشترکہ ٹیم نے کھٹیلی گاؤں میں چھاپہ مار کر تقریباً 15 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے مشتبہ افراد کو ایک خفیہ مقام پر رکھ کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
گاؤں کے باشندوں کے مطابق، گزشتہ دنوں ایک دوسری ریاست کی پولیس نے غیر ملکی ایپس ’بات‘ اور ’ٹانکا‘ کے ذریعے یو ایس ڈی ٹی کوائن خریدنے والے گروہ سے وابستہ ایک سرغنہ کو گرفتار کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان ایپس کا تعلق بیرون ملک مقیم افراد سے ہے، جن کے ذریعے حوالہ کی رقم کو سفید دھن میں تبدیل کرنے کا کاروبار بھی کیا جاتا ہے۔پہلی کارروائی کے بعد پولیس کی نظر بھوتا کے کھٹیلی گاؤں پر پڑی۔
تحقیقات میں معلوم ہوا کہ اس گاؤں کے لوگ بھی ’بات‘ اور ’ٹانکا‘ ایپس سے وابستہ ہیں۔ محض ڈیڑھ سو کی آبادی والے اس چھوٹے سے گاؤں میں گزشتہ دو سال کے دوران چند افراد کے بینک کھاتوں میں تقریباً 25 کروڑ روپے کے لین دین کا انکشاف ہوا۔اس کے بعد پیر کی رات ایس او جی اور بھوتا پولیس کی مشترکہ ٹیم نے کھٹیلی گاؤں میں چھاپہ مارا۔ پولیس ٹیم نے پورے گاؤں کا محاصرہ کرکے 15 افراد کو سوتے ہوئے ہی ان کے گھروں سے حراست میں لے لیا۔ پولیس نے ان کے موبائل فون بھی ضبط کر لیے۔ اس کارروائی سے گاؤں میں افراتفری مچ گئی، جبکہ اس کاروبار سے وابستہ کئی افراد موقع سے فرار ہو گئے۔اس معاملے میں بھوتا کے انسپکٹر رویندر کمار نے بتایا کہ ایس او جی کی ٹیم نے کچھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
بھوتا کے کھٹیلی گاؤں میں آزادی کے بعد سے اب تک قتل کی 60 وارداتیں ہو چکی ہیں۔ ان واقعات نے پورے گاؤں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔ گاؤں کے بیشتر مکانات کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ کئی خواتین بیوگی کی زندگی گزار رہی ہیں، جبکہ کچھ افراد عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔تاہم، گزشتہ تقریباً دو برسوں سے گاؤں کے بعض گھروں میں اچانک غیر معمولی خوشحالی دیکھنے میں آنے لگی۔ گاؤں میں بڑی بڑی عمارتیں تعمیر ہو گئیں اور ایک ایک گھر میں چار سے پانچ اے سی تک لگائے گئے ہیں۔
پولیس نے حراست میں لیے گئے افراد کو ایک نامعلوم مقام پر رکھا ہے۔ تاہم، پوچھ گچھ کے بعد کچھ لوگوں کو رہا کر دیا گیا، جبکہ بعض کو ان کے اہل خانہ کی تحویل میں دے کر دوبارہ پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ اس کارروائی سے پورے گاؤں میں ہلچل مچ گئی ہے۔گاؤں والوں نے بتایا کہ کوائن کی خرید و فروخت کے کاروبار میں کئی خواتین بھی ملوث ہیں۔
گھروں میں آمدنی کے دو ذرائع ہونے کی وجہ سے گاؤں میں زمین کی قیمتیں بھی آسمان چھونے لگی ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ پولیس کی تحقیقات میں اب تک بعض بینک کھاتوں میں تقریباً 25 کروڑ روپے کے لین دین کے شواہد مل چکے ہیں۔ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ رقم مزید بڑھ سکتی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس معاملے کا تعلق حوالہ کاری کے علاوہ سائبر ٹھگی سے بھی ہو سکتا ہے۔فی الحال پولیس کچھ افراد کے بینک کھاتوں اور موبائل فونز کی جانچ کروا رہی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ایک سے دو دن میں پورے معاملے کا انکشاف کر دیا جائے گا۔
