تازہ ترین
محکمے سڑک کے سپرنٹنڈنگ انجینئر کے گھر پرچھاپے، پٹنہ سمیت 4 مقامات پر تلاشی، 10 لاکھ روپے نقد برآمدپٹنہ: ڈاک بنگلہ سے رُکن پورا تک چوڑی کی جائے گی سڑک ،توسیع کاری میں گرائی جائیں گی موریہ لوک اور کوتوالی تھانے کی دیواریںٹرین میں پیسے نہ دینے پر خواجہ سراؤں نے مسافرکو پیٹاجامعہ رحمانی کی علمی و دینی ساکھ کی حفاظت سب کی ذمہ داری، حضرت مولانا قاری سید حبیب احمد باندوی کی خانقاہ رحمانی، مونگیر حاضری، طلبہ و اساتذہ سے خصوصی خطابسہرسہ کے میونسپل کمشنر پربھات جھا معطل، بغیرکسی ٹینڈر کے کرا دیئے 8 کروڑ روپے کے کامیوپی کے مذہبی اقدار کو کچلنے کی ہورہی ہے سازش، مذہبی توہین کرنے والوں کا اتر پردیش کی سرزمین پرکوئی جگہ نہیں، باگیشور دھام کے بہانے اکھلیش یادو کاریاستی حکومت پر حملہرابطہ مدارس کے اجلاس میں منظور قرار دادیں مدارس کے لئے انتہائی اہمغیر ملکی ایپ کے ذریعے حوالہ کاری کا کاروبار، ٹھکانے لگائی گئی کروڑوں روپے کی کالی کمائی ، 15 افراد پولیس کی گرفت میں
اتر پردیش

طالبات کے حق رائے دہی سے متعلق اے ایم یو کی وضاحت

(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) طلبہ یونین اور یونیورسٹی کورٹ کے انتخابات کے چیف الیکشن آفیسر پروفیسر جاوید طالب نے کہا ہے کہ طالبات کے حق رائے دہی سے متعلق ایک اخبار میں شائع ہونے والی خبر سراسر گمراہ کن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر اہل طالبہ کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے اور کسی بھی طالبہ کو اس حق سے محروم نہیں کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے انتخابی صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ویمنس کالج کی اپنی طلبہ یونین ہے، جسے ویمنس کالج اسٹوڈنٹس یونین (ڈبلیو سی ایس یو) کہا جاتا ہے۔ بی اے، بی ایس سی اور بی کام کی طالبات ویمنس کالج میں زیر تعلیم ہیں اور ویمنس کالج اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرتی ہیں۔ یونیورسٹی کیمپس کے دیگر تمام طلبہ و طالبات، خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں، اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین (اے ایم یو ایس یو) کے انتخابات میں ووٹ دیتے ہیں۔
مین کیمپس میں چلنے والے تمام پیشہ ورانہ کورسز اور غیر پیشہ ورانہ پوسٹ گریجویٹ کورسز مشترکہ تعلیمی نظام کے تحت چلائے جاتے ہیں، جہاں لڑکے اور لڑکیاں دونوں زیر تعلیم ہیں۔ ان تمام کورسز کے طلبہ و طالبات جنس کی تفریق کے بغیر اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں ووٹ دینے کے اہل ہیں۔
پروفیسر طالب نے بتایا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت انڈرگریجویٹ پروگراموں کے چوتھے سال کی طالبات اب اپنی متعلقہ فیکلٹیز اور شعبہ جات میں تدریسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ویمنس کالج میں اس سطح پر تمام مضامین کی تدریس کے لیے مطلوبہ بنیادی ڈھانچہ اور تدریسی عملہ دستیاب نہیں ہے، جبکہ متعلقہ شعبہ جات میں مضمون کے ماہر اساتذہ اور ضروری تعلیمی سہولیات موجود ہیں۔
تاہم ان طالبات کا اندراج بدستور ویمنس کالج میں ہی ہے، اس لیے وہ ویمنس کالج اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات اور ویمنس کالج کے ذریعے اے ایم یو کورٹ کے انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ دونوں انتخابات میں ان کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون اور ضروری سہولیات فراہم کرے گی۔
پروفیسر جاوید طالب نے کہا کہ ”اے ایم یو کورٹ کے انتخابات میں تقریباً 4,080 طالبات اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گی۔ کسی بھی طالبہ کو ووٹ دینے کے حق سے محروم نہیں کیا جا رہا ہے۔ ویمنس کالج کی چیف الیکشن آفیسر اور میں نے باہمی تال میل کے ساتھ کام کیا ہے تاکہ ہر اہل طالبہ کو اپنا ووٹ ڈالنے کا مکمل موقع مل سکے۔“

 

متعلقہ خبریں