نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران ایک مسجد میں توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کے الزام میں پانچ افراد کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پولیس کے گواہ ناقابل اعتبار ہیں اور استغاثہ کی جانب سے پیش کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج کو بطور ثبوت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس دوران ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے سوربھ شرما، راہول کمار، روہت، سچن اور انکت کے خلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے انہیں بری کردیا۔ ان پانچوں پر فسادات، غیر قانونی اجتماع، املاک کو نقصان پہنچانے اور آتش زنی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
31 اکتوبر کے اپنے حکم میں، جج پروین سنگھ نے کہا، “میں ان گواہوں کو ناقابل اعتبار محسوس کرتا ہوں، ان پراللہ والی مسجد میں فسادات، توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے معاملے میں ملزم کو مجرم قرار دینے کے لیے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ان پانچوں افراد کو شہید بھگت سنگھ کالونی میں تشدد سے متعلق ایک معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فروری 2020 میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران، ایک ہجوم نے وہاں کی ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ واقعے کے دن علاقے میں ان کی سرگرمیوں کے حوالے سے پولیس افسران کے بیانات میں تضاد تھا، جس میں فسادات سے متاثرہ دیگر علاقوں میں ان کی موجودگی کے دعوے بھی شامل تھے۔
عدالت نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ 25 فروری 2020 کو کراول نگر میں واقع ’اللہ والی مسجد‘ میں کوئی آتش زنی یا توڑ پھوڑ نہیں ہوئی، جیسا کہ استغاثہ نے دعویٰ کیا ہے۔ مزید برآں، واقعے کے حوالے سے پولیس افسران کی گواہی پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔عدالت کو دو پولیس افسران اور مسجد کے سامنے رہنے والے ایک آزاد گواہ کے بیانات میں نمایاں تضاد پایا گیا۔
پولیس اہلکاروں نے 25 فروری کو صبح 11 بجے کے قریب مسجد میں توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات کے گواہ ہونے کا دعویٰ کیا، جبکہ آزاد گواہ کا بیان مختلف تھا۔
آزاد گواہ نے گواہی دی کہ مسجد میں توڑ پھوڑ اور آتش زنی صرف ایک بار ہوئی، تقریباً 8 بجکر 15 منٹ پر۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس واقعے کے بعد چار دن تک اپنے گھر سے باہر نہیں نکل سکا۔عدالت نے استغاثہ کی جانب سے پیش کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج کو بھی مسترد کردیا۔ عدالت نے کہا کہ ان ریکارڈنگز پر مشتمل ڈی وی ڈی اور ہارڈ ڈسک کو بطور ثبوت تسلیم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ انڈین ایویڈنس ایکٹ کے سیکشن 65 بی کے تحت تقاضے پورے نہیں کیے گئے تھے۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ ہارڈ ڈسک کے ساتھ موجود سرٹیفکیٹ میں ڈیٹا کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے کمپیوٹر سسٹم کی کوئی تفصیلات نہیں تھیں اور یہ کہ اسے جاری کرنے والے شخص کا فراہم کردہ ڈیٹا پر کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے انکت، سوربھ، روہت، راہول اور سچن کو تمام الزامات سے بری کردیا۔
