تازہ ترین
محکمے سڑک کے سپرنٹنڈنگ انجینئر کے گھر پرچھاپے، پٹنہ سمیت 4 مقامات پر تلاشی، 10 لاکھ روپے نقد برآمدپٹنہ: ڈاک بنگلہ سے رُکن پورا تک چوڑی کی جائے گی سڑک ،توسیع کاری میں گرائی جائیں گی موریہ لوک اور کوتوالی تھانے کی دیواریںٹرین میں پیسے نہ دینے پر خواجہ سراؤں نے مسافرکو پیٹاجامعہ رحمانی کی علمی و دینی ساکھ کی حفاظت سب کی ذمہ داری، حضرت مولانا قاری سید حبیب احمد باندوی کی خانقاہ رحمانی، مونگیر حاضری، طلبہ و اساتذہ سے خصوصی خطابسہرسہ کے میونسپل کمشنر پربھات جھا معطل، بغیرکسی ٹینڈر کے کرا دیئے 8 کروڑ روپے کے کامیوپی کے مذہبی اقدار کو کچلنے کی ہورہی ہے سازش، مذہبی توہین کرنے والوں کا اتر پردیش کی سرزمین پرکوئی جگہ نہیں، باگیشور دھام کے بہانے اکھلیش یادو کاریاستی حکومت پر حملہرابطہ مدارس کے اجلاس میں منظور قرار دادیں مدارس کے لئے انتہائی اہمغیر ملکی ایپ کے ذریعے حوالہ کاری کا کاروبار، ٹھکانے لگائی گئی کروڑوں روپے کی کالی کمائی ، 15 افراد پولیس کی گرفت میں
دیش

سپریم کورٹ مارچ پر راہل گاندھی کو سمن،ہمیں کوئی دھمکا نہیں سکتا،ہم جانتے ہیں کہ عدالت کے اندر اور باہر کون کیا کہہ رہا ہے،چیف جسٹس کا تبصرہ

نئی دہلی: 12اکتوبر کو سپریم کورٹ مارچ کے اپوزیشن کے مسئلے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی ، اس دوران سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ کوئی بھی کورٹ کو ڈرا دھمکا کر دبائو میں نہیں لے سکتا۔ ایسی کوششیں بے کار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ کورٹ کے باہر کیا کہا جارہا ہے اور کورٹ کے اندر کیا کہا جارہا ہے۔ سی جے آئی نے راہل کا نام لیے بغیر یہ بھی کہا کہ عرضی دہندگان میں سے ایک کے کردار پر سوال کریں گے اور انھیں صفائی دینی ہوگی۔ 12اکتوبر کو اپوزیشن کے مارچ معاملے میں سپریم کورٹ نے راہل گاندھی ، اکھلیش یادو اور دیگر 14 لیڈروں کو سمن جاری کیا ہے۔
دریں اثنا سپریم کورٹ نے کانگریس رہنما راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن لیڈروں کی اس درخواست پر الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے، جس میں بڑے پیمانے پر ووٹر لسٹ سے ووٹرز کے نام ہٹانے اور ایس آئی آر (SIR) میں مبینہ بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔
چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوئمالیا باگچی کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران بعض وکلاء نے ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کانگریس لیڈروں کے سپریم کورٹ تک کیے گئے حالیہ مارچ کا تذکرہ کیا۔اپوزیشن رہنماؤں کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوئمالیا باگچی کی بنچ نے الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو باقاعدہ نوٹس جاری کیے۔ بنچ نے مزید کہا: “ہم نوٹس جاری کر رہے ہیں اور اسے پہلے سے زیرِ التوا کیس کے ساتھ منسلک کر رہے ہیں۔ لیکن ہم ایک درخواست گزار سے ان کے اس طرزِ عمل کے بارے میں ضرور پوچھنا چاہیں گے”۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے اسد الدین اویسی جیسے دیگر رہنماؤں کی طرف سے الیکشن کمیشن سے متعلق دائر کی گئی الگ الگ درخواستوں پر مرکزی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین کو بھی نوٹس جاری کیے۔ ساتھ ہی، سپریم کورٹ جنتر منتر کو احتجاجی مقامات (پروٹیسٹ سائٹس) کی فہرست سے ہٹانے کے حکم کو چیلنج کرنے والی ایک اور درخواست کا جائزہ لینے پر بھی رضامند ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے پیر کے روز ایس آئی آر سے متعلق درخواست دائر کرنے کے لیے سپریم کورٹ تک مارچ کیا تھا۔ ایس آئی آر میں مبینہ دھاندلیوں کو لے کر چیف الیکشن کمشنر (CEC) کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ دہلی میں مسلسل کئی احتجاجی مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں