تازہ ترین
بہارمیں کئی بڑے ہوٹلوںاور مٹھائی کی دکانوں پر چھاپے، ریاست کے مختلف اضلاع میں کھانے پینے کی اشیا میں پائی گئیں بے ضابطگیاں،دیوالی سے قبل محکمہ تحفظ خوارک کی ٹیم کی بڑی کارروائیایک بار پھر احسان الحق رضا کے ہاتھ میں طلبہ جے ڈی یو کی کمان،چار رنگوں کے ’ڈسٹ بِن‘ سے بچوں نے سکھایا کچرا انتظام، گھر گھر پہنچایا صفائی کا پیغام، اردو پرائمری اسکول چاترگھاٹ میں ایکو کلب کے تحت بیداری مہم کا اہتمام5 سیٹیں نہیں، 50 اضلاع میں ہوئی بی جے پی کی شکست, اترپردیش میں ایم ایل سی انتخابات کے نتائج پر اکھلیش یادو کا شدید حملہاے ایم یوطلبہ یونین کے سابق صدرڈاکٹر اعظم بیگ پہنچے علی گڑھ، طلبہ یونین انتخابات کے امیدواروں اور دیگرطلبہ سے کی ملاقاتدیوبند کوتوالی انچارج نے عوامی دربارمیں سنے عوام کے مسائل، دیر رات تک سڑکوں پر بلاوجہ گھومنے اور شرپسند واسٹنٹ کرنے والوں کے خلاف کی جائے گی سخت کارروائی: سندیپ بالیاندنیا کیلئے3 منٹ، آخرت کیلئے ہمیشہ کی کریں تیاری : خطیب محمد اقبال، آگرہ کی مسجد نہر والی میں خطبۂ جمعہ کے دوران دنیا کی عارضی زندگی اور آخرت کی دائمی زندگی پر خطابمالیگاؤں میں ابوبکر علی حسن چودھری کا شاندار عوامی استقبال، دیولالی اسمبلی حلقے کی اہم ذمہ داری ملنے پر رابطہ آفس میں جشن کا سماں
uttar pradesh

دنیا کیلئے3 منٹ، آخرت کیلئے ہمیشہ کی کریں تیاری : خطیب محمد اقبال، آگرہ کی مسجد نہر والی میں خطبۂ جمعہ کے دوران دنیا کی عارضی زندگی اور آخرت کی دائمی زندگی پر خطاب

آگرہ: (پی این این)مسجد نہر والی کے خطیب محمد اقبال نے خطبۂ جمعہ کے دوران نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان دنیاوی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بہت زیادہ منصوبہ بندی اور جدوجہد کرتا ہے، لیکن اسے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ دنیا میں اس کا قیام کتنا مختصر ہے اور آخرت کی دائمی زندگی کے لیے وہ کتنی تیاری کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص دنیا میں سو سال تک زندہ رہتا ہے تو قیامت کے پچاس ہزار سال کے مقابلے میں اس کی دنیاوی زندگی تقریباً دو منٹ ترپن سیکنڈ بنتی ہے۔ یہ مثال ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ چند لمحوں کی دنیا کے لیے ہم کتنی محنت کرتے ہیں، جبکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔
خطیب محمد اقبال نے کہا کہ اسلام دنیاوی ضروریات کے لیے منصوبہ بندی کرنے سے منع نہیں کرتا، بلکہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ زندگی کے فیصلے آخرت کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔ دنیا کی ترقی، روزگار، کاروبار اور اہل خانہ کی ضروریات اہم ہیں، لیکن ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا، نیک اعمال اور تقویٰ کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔انہوں نے سورۂ نساء کی آیت 77 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا سامان محدود ہے اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے آخرت بہتر ہے۔ اسی طرح سورۂ تکاثر میں مال و دولت کی کثرت کی طلب میں غفلت کا ذکر کیا گیا ہے، جو انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں حاصل ہونے والی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ آخرت کی تیاری بھی ضروری ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہمارا وقت کہاں خرچ ہو رہا ہے اور ہم نیک اعمال کے لیے کتنا وقت نکال رہے ہیں۔خطیب محمد اقبال نے حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے دنیا میں اجنبی یا مسافر کی طرح رہنے کی تعلیم دی ہے۔ اس کا مقصد انسان کو دنیا کی حقیقت یاد دلانا اور آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرنا ہے۔انہوں نے نمازیوں سے اپیل کی کہ دنیاوی ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ نماز، نیک اعمال، حقوق العباد اور تقویٰ پر بھی توجہ دیں۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمجھ، نیک عمل کی توفیق اور آخرت کی تیاری کرنے کی ہدایت عطا فرمائے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں