لکھنؤ: خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ ہوم سائنس میں پائیدار مستقبل کی تشکیل کے موضوع پروائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی صدارت میںایک تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس تربیتی پروگرام میں سائنس دانوں، محققین، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔اس سیمینار اور تربیتی پروگراممیں سائنسی تحقیق، تکنیکی اختراعات اور ماحولیاتی تحفظ کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور اس موضوع کے تعلق سے نئے مباحث اور معنی خیز مکالمے قائم کئے گئے۔ س موقع پر پروفیسر تطہیر فاطمہ نے استقبالیہ خطاب پیش کرتے ہوئے پروگرام کے موضوع کی اہمیت و معنویت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ پائیدار مستقبل کی تشکیل کے لیے سائنسی تحقیق، تکنیکی اختراعات اور ماحولیاتی تحفظ کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ تربیتی پروگرام ماہرین، محققین، اساتذہ اور طلبہ کے درمیان علمی و تحقیقی تبادلے کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی کے حوالے سے نئے امکانات کی نشاندہی اور بامعنی مکالمے کے قیام میں معاون ثابت ہوگا۔ اس کے بعد انہوں نے تمام مہمان مقررین، محققین اور شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروگرام میں ان کی شرکت پر اظہارمسرت کیا۔لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ حیوانیات کے پروفیسر سوچت سوروپ نے ’حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی تسلسل‘ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے اور پائیدار مستقبل کی تشکیل کے لیے حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ناگزیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ مختلف انواعِ حیات، قدرتی وسائل اور ماحولیاتی نظام ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور ان کے درمیان توازن برقرار رکھنا ماحولیاتی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے حیاتیاتی تنوع کو درپیش چیلنجز کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے اس کے تحفظ کے لیے سائنسی تحقیق، ماحولیاتی بیداری اور اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ آئی ٹی کالج کے شعبۂ ہوم سائنس کی پروفیسر رچنا مشرا نے غذائی تحفظ سے وابستہ پوشیدہ خطرات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں اور اس موضوع کے مختلف پہلوؤں سے شرکاء کو واقف کرایا۔
اس پروگرام میں لینگویج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے اپنے صدارتی خطاب میں پائیدار مستقبل کی تشکیل کے لیے سائنسی تحقیق، تکنیکی اختراعات اور علمی سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ عصرِ حاضر میں ماحولیاتی تحفظ، حیاتیاتی تنوع کے بقا، غذائی تحفظ اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے سائنسی نقطۂ نظر اور تحقیقی کاوشوں کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ سائنس اور تحقیق کی افادیت اسی وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے جب ان کے نتائج کو عوامی فلاح و بہبود، سماجی ترقی اور انسانی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بروئے کار لایا جائے۔پروگرام کے اختتام پر آئی ٹی ایل ایس (ITLS) اکیڈمی کے ڈائریکٹر انجینئر اکھلیش کشواہا نے مہمانوں، منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس تربیتی پروگرام کے انعقاد میں کنوینر ڈاکٹر دلیپ کمار، ڈاکٹر شالینی رائے اور ڈاکٹر رتنیس سنگھ کے علاوہ شریک کنوینر ڈاکٹر کملیش کمار سونی ، ڈاکٹر ابھے کرشنا،ڈاکٹر نلنی دھسمانا، ڈاکٹر آصف جعفری، ڈاکٹر اجے کمار یادو، ڈاکٹر شالینی سنگھ، ڈاکٹر فرح دیبا، ڈاکٹر محمد زاہد، ڈاکٹر کلپنا دیوی، ڈاکٹر کیرتیما سچان، ڈاکٹر انجلی سنگھ، ڈاکٹر سمپل کماری اور ڈاکٹر انل کمارنے اہم کردار ادا کیا۔اس تربیتی پروگرام میں اساتذہ کے علاوہ کثیر تعداد میں طلبہ نے بھی شرکت کی ۔
