(پی این این)
لکھنؤ:سابقہ برسوں کی اس برس بھی مظفر کھیڑہ کی سرزمین پر حاجی کبیر احمد نے “سید البشر چریٹیبل ٹرسٹ” کے زیر اہتمام جشن عید میلاد النبی صلعم کی مبارک محفل سجائی۔ آغاز قاری محمد عیان صدیقی نے قرات قرآن حکیم سے کیا۔ وہیں حاجی کبیر احمد نے نہایت والہانہ انداز سے کلام حمد و نعت پیش کیا۔ اس موقع پر علماء کا وعظ، شعراء کا منظوم خراج اور بچوں کا کوئز پروگرام ہوا۔ مختلف علاقوں میں قائم مدارس و مکاتیب کے تقریبا 100 بچوں نے حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ کامیاب طلبا و طالبات کو اہم شخصیات کے دست مبارک سے نوازا گیا۔ سماج کی مقتدر شخصیت کو حسن کارکردگی کی بنیاد پر” مولانا محمد علی جوہرایوارڈ ” سے نواز گیا۔ نیز معزز شخصیات کا ردائے ادب، گلدستے اور مختلف تحائف سے منتظمین نے استقبال کیا۔
مشاعرہ نعت کی صدارت استاد الاساتذہ محمد فاروق جاذب لکھنوی نے کی اور نظامت کی باگ ڈور معروف ادیب رضوان احمد فاروقی نے سنبھالی۔ رحمت لکھنوی، شیدا صدیقی مجیب صدیقی، اختر ہاشمی، سید اختر مغنی، رضوان فاروقی، ساحل عارفی، عرفان لکھنوی جلال لکھنوی، فاروق عادل، وغیرہ نے نعت و منقبت کے اشعار سے محفل میلاد النبی صلعم کو دوآتشہ بنادیا۔
مولانا سہیل جامعی پٹکا پوری نے اپنی پرمغز تقریر میں قرآن و احادیت کے حوالے سے سیرت النبی صلعم کے مختلف گوشوں پر بیان فرمایا۔ انھوں نے سنتوں کی پابندی پر زور دیا۔ امام عیدگاہ مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے تعلیم کے فروغ، دینی بیداری اور کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی پرزور دیتے ہوئے کہا’’ بچوں کی تعلیم و تربیت ترجیحی بنیاد پر کیجئے۔اسلامی تشخص کے ساتھ ہر میدان میں آگے بڑھئے اوراپنے کھوئے ہوئے وقار کو حاصل کیجئے۔ سیرت رسول ل کو عام کیجئے۔ درود شریف کا بالخصوص اہتمام کیجئے۔حجاج کی تربیت میں ہمہ وقت مصروف شارق علوی نے کہا۔ تنگ دستی میں بھی یاد خدا سے نہاں خانئہ دل کو آباد رکھئے۔ ماں باپ کے مرتبے کو سمجھئے، ان کی قدرکیجئے۔ ورنہ ساری عبادات رائیگاں جائیں گی اور کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا۔ ان کی تقریر بیحد نصیحت آمیز تھی۔ حافظ سید وصی نے مدرسہ سید البشر کی مختصر کارکردگی کے ساتھ مدارس عربیہ کی ضرورت اور خدمات پر روشنی ڈالی۔
مخصوصین کے نام اس طرح ہیں: سید محمد شعیب علیگ، نفیس احمد، وسیم حیدر، ارشد اعظمی، عبدالقدوس ہاشمی، محمد قاسم حج ٹرینر، حاجی محمد عدنان، حاجی پرویز، توصیف ایوب صدیقی، محمد معین الدین صدیقی، مصحف الرحمان، کے علاوہ اطراف و اکناف کے لوگ شریک محفل رہے۔محفل مبارک کا اختتام قاری محمد اعظم کے ولولہ انگیز خطاب پر ہوا۔ ہدیہ درود و سلام قاری معین نے پیش کیا اور ملت مسلمہ کے عالمی مسائل کے حل کے لئے اجتماعی دعا کا اہتمام کیاگیا۔
