تازہ ترین
ووٹ چوری کے خلاف کانگریس کاانوکھا احتجاج، بھجن گا کر جمہوری انداز میں کیامظاہرہ، مودی اور گیانیش کمار سے استعفیٰ کا مطالبہجینیس اکیڈمی فار بس گنج میں ندا فاضلی کی ادبی خدمات کا اعتراف ،پرنسپل نوشاد عالم کوملی ان کی شاعری کی شاندار سوغاتمحمد متفق احمد کواپنی شاندار خدمات کا ملا انعام,تفتیش، آپریشن اور سکیورٹی کے میدان میں نمایاں کارکردگی کے عوض آئی پی ایس میں دی گئی ترقیجامعہ ملیہ اسلامیہ میں یو پی ایس سی میلہ کے دوسرے ایڈیشن کا انعقاداولیوودیا گرلز اکیڈمی نیوز لیٹر کا رسم اجرا ء اور پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ کا شاندار انعقاداے ایم یو کی جانب سے کل ہند مضمون نویسی مقابلہ 2026 کے نتائج کا اعلاناے ایم یو کے مختلف شعبوں کےتحت دماغی صحت سے متعلق بیداری پروگرامآیوروید اور ہربل طب کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پرنس محبوب رحمانی کوڈاکٹریٹ کی ڈگری سےکیا گیا سرافراز
Bihar

جینیس اکیڈمی فار بس گنج میں ندا فاضلی کی ادبی خدمات کا اعتراف ،پرنسپل نوشاد عالم کوملی ان کی شاعری کی شاندار سوغات

(پی این این)
فاربس گنج:مشہور شاعر ندا فاضلی کی یومِ پیدائش پر جینیس اکیڈمی، کے پرنسپل نوشاد انصاری کو سماج سیوی ونود کمار تواری نے شاعر حشمت صدیقی کی لکھی اردو شاعری کی کتاب ” انداز ِ گفتگو ” پیش کی ۔ اس موقعے پر ادب ،تعلیم اور سماج سیوا سے جڑے لوگوں نے ندا فاضلی کی ادبی صلاحیتوں کو یادکیا ۔
پرنسپل نوشاد انصاری نے کہا کہ مشہور اردو اور ہندی کے شاعر ندا فاضلی کی پیدائش 12 اکتوبر 1938 کو دلی میں ہوئی تھی۔۔ انکا اصل نام مقتدا حسین تھا۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ عام آدمی کی زندگی کی جنگ۔ سماجی سروکار کو بہترین ڈھنگ سے پیش کیا۔
انہوں نے ندا فاضلی کا مشہور شعر’’ کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ‘‘ سناتے ہوئے کہا کہ یہ لائن زندگی کی سچائیوں اور ادھورے پن کو بے حد سہل اور المناک طریقے سے سامنے رکھتی ہے۔ سماج سیوی ونود کمار تواری نے کہا کہ ندا فاضلی کی شاعری آج بھی لوگوں کو سنگھرش کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی پریرنا دیتی ہے۔ اس موقعے پر اردو ادیب جناب ہرش نارائن داس، اسکول کے ٹیچر سنّی امام ، عنش رضوان ، عمر فاروق اور مولانا مجیب کے علاوہ دگر معلم و معلمات موجود رہیں۔

متعلقہ خبریں