(پی این این)
فاربس گنج:مشہور شاعر ندا فاضلی کی یومِ پیدائش پر جینیس اکیڈمی، کے پرنسپل نوشاد انصاری کو سماج سیوی ونود کمار تواری نے شاعر حشمت صدیقی کی لکھی اردو شاعری کی کتاب ” انداز ِ گفتگو ” پیش کی ۔ اس موقعے پر ادب ،تعلیم اور سماج سیوا سے جڑے لوگوں نے ندا فاضلی کی ادبی صلاحیتوں کو یادکیا ۔
پرنسپل نوشاد انصاری نے کہا کہ مشہور اردو اور ہندی کے شاعر ندا فاضلی کی پیدائش 12 اکتوبر 1938 کو دلی میں ہوئی تھی۔۔ انکا اصل نام مقتدا حسین تھا۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ عام آدمی کی زندگی کی جنگ۔ سماجی سروکار کو بہترین ڈھنگ سے پیش کیا۔
انہوں نے ندا فاضلی کا مشہور شعر’’ کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ‘‘ سناتے ہوئے کہا کہ یہ لائن زندگی کی سچائیوں اور ادھورے پن کو بے حد سہل اور المناک طریقے سے سامنے رکھتی ہے۔ سماج سیوی ونود کمار تواری نے کہا کہ ندا فاضلی کی شاعری آج بھی لوگوں کو سنگھرش کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی پریرنا دیتی ہے۔ اس موقعے پر اردو ادیب جناب ہرش نارائن داس، اسکول کے ٹیچر سنّی امام ، عنش رضوان ، عمر فاروق اور مولانا مجیب کے علاوہ دگر معلم و معلمات موجود رہیں۔
جینیس اکیڈمی فار بس گنج میں ندا فاضلی کی ادبی خدمات کا اعتراف ،پرنسپل نوشاد عالم کوملی ان کی شاعری کی شاندار سوغات
