Connect with us

اتر پردیش

جوش و خروش کے ساتھ منایاگیاسر سید احمد خاں کا 208واں یوم پیدائش

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ: سر سید احمد خاں نے تعلیم کی جو شمع روشن کی تھی اس نے ہمارے ذہنوں کو جلا بخشی اور باور کرایا کہ ایک روشن دماغ شخص ہی لاکھوں کی تقدیر بدل سکتا ہے ان خیالات کے اظہار مہمان خصوصی کے الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس عبدالشاہد نے کیا وہ آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جشن یوم سرسید سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے مادرِ علمی سے اپنی وابستگی کے ایام کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ استقامت، بلند ہمتی اور اخلاقی نصب العین فرد کی ایک طاقت ہوا کرتی ہے جو اسے اپنے خوابوں کی تکمیل تک لے جاتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سر سید کا لازوال پیغام یہ ہے کہ کسی قوم کی ترقی کے لیے سب سے پہلی شرط معاشرے کے مختلف طبقوں کے درمیان بھائی چارہ اور اتحاد ہے اور یہ کہ جہالت غربت اور مفلسی لے کر آتی ہے اور تعلیم ہی اس کا واحد علاج ہے۔ طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے مقاصد کے ساتھ وابستہ رہیں، مسلسل سیکھتے رہیں۔
جسٹس شاہد نے سر سید اور ان کے صاحبزادے جسٹس سید محمود کو بھی خراج تحسین پیش کیا، اور عدلیہ و قوم سازی میں ان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ دیانت، لگن اور ثابت قدمی کے انہی اصولوں کو اپنی زندگی میں اپنائیں۔مہمانِ اعزازی، اسرو کے سابق چیئرمین اور چانکیہ یونیورسٹی، بنگلورو کے چانسلر ڈاکٹر ایس سومناتھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سر سید نے اپنی دور اندیشی سے ایمان کو تعقل کے ساتھ اور جدید سائنس کو اخلاقی اقدار کے ساتھ جوڑ ا۔ انہوں نے کہا کہ سر سید کا خواب ایک سائنسی سوچ رکھنے والے معاشرے کی تعمیر تھا جہاں تعلیم،اخلاقی و قومی احیا کی کلید ہو، اور یہ وژن آج بھی پوری طرح قابل عمل ہے۔انہوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ سائنسی مہارت اور اخلاقی شعور کو یکجا کر کے قوم کی تعمیر میں حصہ لیں۔انہوں نے کہا کہ ایم یو کے طلبہ و اساتذہ پہلے ہی مختلف سائنسی منصوبوں اور تعاون میں حصہ لے چکے ہیں، جو یونیورسٹی کے اس کردار کو اجاگر کرتا ہے کہ وہ مستقبل کے رہنما، سائنسداں اور مؤجد تیار کر رہی ہے۔
مہمان ذی وقار پینگوئن رینڈم ہاؤس کی سینئر نائب صدر مِلی ایشوریہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سر سید کی تعلیمات، خصوصاً جدید علوم کا حصول، سبھی کی شمولیت، اور تعلیم کے ذریعے خود مختاری پر ان کی توجہ، آج بھی اتنی ہی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی، کھلا ذہن، اور تنوع کا احترام آج کے نوجوانوں کے لیے لازمی اقدار ہیں۔انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ اپنی جڑوں سے وابستہ رہیں مگر بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کریں، کیوں کہ صبر، ثابت قدمی اور روزمرہ کی محنت ہی بلندی حاصل کرنے کی کلید ہے۔وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اپنے صدارتی خطاب میں سر سید کے وژن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے خواب دیکھنے والے تھے جو خیالات کے معمار بنے، وہ ایسا یقین رکھنے والے تھے جو معاشرے کے مصلح بنے، اور وہ ایسے استاد تھے جو عوام کے لیے مشعل راہ بنے۔انھوں کہا کہ آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سر سید کے نظریات کا زندہ استعارہ ہے، جہاں ایمان کے ساتھ عقل، تعلیم کے ساتھ برداشت اور علم کے ذریعے سماجی تبدیلی کو فروغ دیا جاتا ہے۔پروفیسر خاتون نے یونیورسٹی کی حالیہ دستیابیوں کا ذکر کیا، جن میں این آئی آر ایف درجہ بندی میں ٹاپ 10 میں جگہ بنانا، ملک کے جیو اسپیشل مشن میں بیسٹ یونیورسٹی ایوارڈ کا حصول، 6.5 میگاواٹ سولر پاور کی پیداوار، اور 5 کروڑ روپے کے ڈی ایس ٹی-ٹی بی آئی گرانٹ سے ”اے ایم یو انّوویشن فاؤنڈیشن“کا قیام شامل ہے جو مصنوعی ذہانت، صحت، اور خلائی ٹکنالوجی میں اسٹارٹ اپس کی مدد کر رہاہے۔
انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مضمون نویسی مقابلے سے لے کرسر سید ایکسیلنس ایوارڈزتک، اے ایم یو کے سبھی اقدامات سرسید کے ورثہ سے ہی تحریک پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایمانداری کے ساتھ تعلیم، ذمہ داری کے ساتھ تحقیق اور شمولیت کے ساتھ اختراع کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ”وِکست بھارت 2047“کے خواب کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔تقریب میں پروفیسر فیصل دیوجی (بیلیول کالج، یونیورسٹی آف آکسفورڈ) اور ڈاکٹر عبد القدیر (چیئرمین، شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز) کو بالترتیب انٹرنیشنل اور نیشنل سرسید ایکسیلنس ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر نے سر سید سے تحریک یافتہ اپنے تعلیمی مشن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شاہین اسکولوں نے مذہبی اور عصری تعلیم کے امتزاج سے بچوں کے لیے ایک عمدہ اقامتی تعلیمی ماحول فراہم کیا ہے، اور ایک بامقصد اور متحرک نسل کو تیار کرنے کے لئے اس نظام کو وسعت دینا وقت کی ضرورت ہے۔
تقریب میں اے ایم یو کے طلبہ زینب فائزہ اسلام اور ابو معاذ نے تقاریر کیں۔ اساتذہ میں پروفیسر فضا تبسم اعظمی اور پروفیسر محمد قمرالہدی فریدی نے سر سید کی علمی، تعلیمی اور سماجی خدمات پر روشنی ڈالی۔آل انڈیا مضمون نویسی مقابلہ بعنوان ”سر سید احمد خاں اور علی گڑھ تحریک: ہندوستان میں سیکولر تعلیم کے لئے ایک معقول نقطہ نظر“کے فاتحین کو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون اور پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے انعامات اور اسناد سے نوازا۔اے ایم یو رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے سبھی معزز مہمانان کا خیر مقدم کیا جب کہ ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر رفیع الدین نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر شارق عقیل اور ڈاکٹر فائزہ عباسی نے کی۔ تقریب کا اختتام یونیورسٹی ترانہ اور قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔

uttar pradesh

نوویں سے 12ویں جماعت تک کے آن لائن فارم میں غفلت پر یوپی بورڈ سخت

Published

on

دیوبند:تعلیمی سال 2026-27 کے لئے درجہ 9اور درجہ 11کے طلبہ وطالبات کے آن لائن ایڈوانس رجسٹریشن اور بورڈ امتحانات 2027کے لئے ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ کے ریگولر وپرائیویٹ امتحان فارم یوپی بورڈ کی ویب سائٹ پرآن لان بھرنے کے لئے اسکولوں وکالجوں کی جانب سے بہت زیادہ غفلت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ۔
موجودہ پروگریس رپورٹ کے مطابق ایڈوانس رجسٹریشن اوربورڈ امتحانات فارم کی آن لان انٹری نہایت سست رفتاری کے ساتھ کی جارہی ہے ۔اسکولوں وکالجوں کی اس غفلت ،لاپرواہی اورسست روی پر بورڈ سکریٹری بھگوتی سنگھ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے تمام اضلاع کے انسپکٹر آف اسکولز کے نام ایک نوٹس جاری کرکے یہ احکامات دیئے ہیں کہ انسپکٹرآف اسکول اپنے ضلع سبھی منظور شدہ ہائی اسکولوں وانٹرکالجوں سے رابطہ قائم کیا جائے اورانہیں سخت احکامات وہدایات دی جائیں کہ فوری طور پر ایڈوانس رجسٹریشن فارم اور ہائی اسکول وانٹر کے امتحان فارم 2027کو آن لائن کرائے جانے کے کام کو فوری طور پر انجام دیا جائے ۔تاکہ ایڈوانس رجسٹریشن برائے درجہ 9اور درجہ 11؍ نیز بورڈ امتحان فارم کو آن لائن کئے جانے کا کام مقررہ مدت میں مکمل کیا جاسکے ۔
بورڈ سکریٹری نے بھیجی گئی تحریر میں واضح کردیا ہے کہ اب اس کام کے لئے مزید مہلت نہیں دی جائیگی اس لئے طے شدہ وقت تاریخ تک ہر حال میں مذکورہ کاموں کو مکمل کرنے کویقینی بنانا ہوگا ۔

Continue Reading

uttar pradesh

کانوڑ یاترا کے دوران شراب اور ڈی جے پر مکمل پابندی کا مطالبہ

Published

on

امروہہ: ۔ کانوڑ یاترا کے پیش نظر ضلع امروہہ میں مذہبی ہم آہنگی، امن و امان اور عدالتِ عظمیٰ کے احکامات پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے مطالبہ کے ساتھ صدرِ جمہوریہ ہند کے نام ایک مکتوب ضلع مجسٹریٹ امروہہ کے ذریعے پیش کیا گیا۔ اس مکتوب میں کانوڑ یاترا کے مرکزی راستوں پر شراب اور بیئر کی تمام دکانوں کو مکمل طور پر بند رکھنے اور ڈی جے کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ مکتوب حاجی ناصر فاروق (ایڈوکیٹ)، مولانا، امروہہ کی جانب سے دیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ماہ جولائی میں شروع ہونے والی کانوڑ یاترا کے دوران امروہہ کے اہم شاہراہوں پر بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ ایسے میں شراب کی دکانوں کا کھلا رہنا اور بلند آواز میں ڈی جے کا استعمال عوامی نظم و نسق، مذہبی ماحول اور سماجی ہم آہنگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈی جے کے استعمال سے خصوصاً طلبہ، مریضوں اور عام شہریوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلند آواز کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، جبکہ اسپتالوں اور مریضوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ، نئی دہلی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ افسران کو عدالت کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ہدایت دی جائے۔
مکتوب میں مزید نشاندہی کی گئی کہ کانوڑ یاترا کے راستوں میں متعدد مندروں، مساجد، گرجا گھروں اور دیگر مذہبی مقامات کے علاوہ رہائشی علاقے بھی واقع ہیں، جہاں غیر ضروری شور شرابہ اور بے ہنگم صوتی آلات کے استعمال سے عام لوگوں اور عبادت گاہوں کے تقدس پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔آخر میں صدرِ جمہوریہ سے گزارش کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کو مناسب احکامات جاری کیے جائیں تاکہ کانوڑ یاترا کے دوران شراب کی دکانیں مکمل طور پر بند رہیں، ڈی جے کے استعمال پر پابندی نافذ کی جائے اور سپریم کورٹ کے احکامات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس اقدام کو ضلع میں امن، سماجی ہم آہنگی اور عوامی مفاد کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

معروف فکشن نگار پریم چندکی یوم پیدا ئش کے موقع پریک روزہ قومی پریم چند سیمینار و ڈرامہ30 جولائی کو

Published

on

میرٹھ:چودھری چر ن سنگھ یونیورسٹی ،میرٹھ کے اٹل سبھا گار میں معروف فکشن نگار منشی پریم چند کی یوم پیدا ئش اور معروف رنگ کرمی آنجہانی سریندر شرماکی یاد میں 30/ جولائی 2026ء کو چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے اٹل سبھا گار میں شعبہئ اردو، سی سی ایس یونیورسٹی، وی کمٹ سوسائٹی اور میرٹھ آرٹسٹ ایسو سی ایشن کے اشتراک سے یک روزہ قومی پرم چند سیمینار اور مزاحیہ ڈرا مہ”گورکھ دھندا“ کا انعقاد کیا جائے گا۔
یہ معلو مات معروف ادیب و ناقد اور میرٹھ آرٹسٹ ایسوسی ایشن کے صدر پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے پریم چند سیمینار ہال میں پریس کانفرنس کے دوران فراہم کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ منشی پریم چند کی یوم پیدا ئش کے مو قع پر یک روزہ قو می پریم چند سیمینار کا انعقاد30/ جولائی کو شام چار بجے کیا جائے گا جس میں اسکالرز منشی پریم چند کی اردو اور ہندی خدمات پر اپنے مقالات اور اظہار خیال فر مائیں گے بعد ازاں شام چھ بجے سے مزا حیہ ڈرا مہ”گورکھ دھندا“ اسٹیج کیا جائے گا۔ ڈارمہ کی ہدایت کاری سینئر رنگ کرمی انل شرما کے ذریعے کی جائے گی، ڈرا مے کو تحریر کیا ہے جے وردھن نے،لائٹ اور موسیقی جتیندر سی راج کے ذریعے کی جائے گی۔اس موقع پر سابق ممبر آ ف پارلیامنٹ راجندر اگر وال مہمان خصوصی کی حیثیت سے شر کت فرمائیں گے۔
ڈرامے کے کنوینر ونود کمار بے چین نے پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامے کی پوری تیاری کی جاچکی ہے اور اس انعقاد میں ڈرامہ تحریر کرنے والے جے وردھن اور فلم اور ٹی وی ڈائریکٹر نیرج شر ما خاص طور پر شرکت فرمائیں گے۔میرٹھ آرٹسٹ ایسوسی ایشن کے نائب صدر انل شر ما نے بتایا کہ اس مو قع پر سینئر رنگ کرمی آنجہانی سریندر شرما جی کو بعد از مرگ اعزاز سے نوازا جائے گا۔ اس مو قع کے لیے خاص طور سے ان کے اہل خانہ کو پروگرام میں مدعو کیا گیا ہے۔
دیگر مہمانان میں سابق وزیر پربھو دیال بالمیکی، انجینئر ذاکر حسین خصوصی طور پر پروگرام میں شرکت فرمائیں گے۔
پریس کانفرنس میں وی کمٹ سوسائٹی کے صدر اتل سکسینہ،میرٹھ آرٹسٹ ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری راشد یوسف، ہیمنت گویل، جتیندر سی راج، شہزاد، فیضان یاسین، مائیکل ٹیساورڈ،شاہد غوری، جیش ٹیساورڈ، ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر ارشاد سیانوی، فرحت اختر، محمد شمشاد وغیرہ موجود رہے۔آپ سے گذارش ہے کہ مورخہ30/ جولائی2026 کو اپنے مؤقر روزنامے سے کیمرہ پرسن اور نامہ نگار بھیجنے کی زحمت گوارا فرمائے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network