تازہ ترین
محکمے سڑک کے سپرنٹنڈنگ انجینئر کے گھر پرچھاپے، پٹنہ سمیت 4 مقامات پر تلاشی، 10 لاکھ روپے نقد برآمدپٹنہ: ڈاک بنگلہ سے رُکن پورا تک چوڑی کی جائے گی سڑک ،توسیع کاری میں گرائی جائیں گی موریہ لوک اور کوتوالی تھانے کی دیواریںٹرین میں پیسے نہ دینے پر خواجہ سراؤں نے مسافرکو پیٹاجامعہ رحمانی کی علمی و دینی ساکھ کی حفاظت سب کی ذمہ داری، حضرت مولانا قاری سید حبیب احمد باندوی کی خانقاہ رحمانی، مونگیر حاضری، طلبہ و اساتذہ سے خصوصی خطابسہرسہ کے میونسپل کمشنر پربھات جھا معطل، بغیرکسی ٹینڈر کے کرا دیئے 8 کروڑ روپے کے کامیوپی کے مذہبی اقدار کو کچلنے کی ہورہی ہے سازش، مذہبی توہین کرنے والوں کا اتر پردیش کی سرزمین پرکوئی جگہ نہیں، باگیشور دھام کے بہانے اکھلیش یادو کاریاستی حکومت پر حملہرابطہ مدارس کے اجلاس میں منظور قرار دادیں مدارس کے لئے انتہائی اہمغیر ملکی ایپ کے ذریعے حوالہ کاری کا کاروبار، ٹھکانے لگائی گئی کروڑوں روپے کی کالی کمائی ، 15 افراد پولیس کی گرفت میں
Bihar

جامعہ رحمانی کی علمی و دینی ساکھ کی حفاظت سب کی ذمہ داری، حضرت مولانا قاری سید حبیب احمد باندوی کی خانقاہ رحمانی، مونگیر حاضری، طلبہ و اساتذہ سے خصوصی خطاب

(پی این این)
مونگیر: حکیم الامت حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد باندویؒ کے جانشین اور رکنِ شوریٰ دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا قاری سید حبیب احمد باندوی دامت برکاتہم جامعہ رحمانی، خانقاہ مونگیر تشریف لائے۔جہاں اساتذہ، طلبہ اور کارکنان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔حضرت مولانا کے ہمراہ ان کے صاحبزادہ مولانا سید محمد انس اور جناب مفتی نور اللہ صاحب موجود تھے۔
خانقاہ رحمانی کی مسجد میں اپنے خصوصی خطاب کے دوران انہوں نے طلبہ کو حصولِ علم میں اخلاص، استقامت، محنت و مجاہدہ اور اساتذہ سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی تلقین کی۔ اپنے والدِ گرامی حضرت مولانا قاری صدیق احمد باندویؒ کے زمانۂ طالب علمی کے صبر، علمی شوق اور حصولِ علم کے لیے برداشت کی گئی مشقتوں کے واقعات سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “آج ہم ذرا سی آسانی نہ ملنے پر تعلیم چھوڑنے کا بہانہ تلاش کرتے ہیں، جب کہ ہمارے اکابر نے فقر و عسرت اور بے شمار مشقتوں کے باوجود علم حاصل کیا اور دین کی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔” جامعہ رحمانی کی علمی و دینی نسبت کو بڑی نعمت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “آپ حضرات کا انتخاب ایسے علمی مرکز اور درس گاہ میں ہوا ہے جس کی نسبت بہت بڑی ہے۔ یہاں سے دین کا جو فیض پہنچ رہا ہے، آپ بھی اس امانت کو صحیح معنوں میں ادا کرنے والے بنیں۔” انہوں نے اساتذہ اور طلبہ کو خصوصی ہدایت کی کہ یہاں کی نسبت اور ساکھ پر آنچ نہ آنے پائے اور ہر شخص اپنی ذمہ داری پوری طرح ادا کرے، تاکہ “یہ نظام قیامت تک برکتوں کا ذریعہ بنا رہے۔”
اس موقع پر جامعہ رحمانی کے ناظمِ تعلیمات جناب مولانا جمیل احمد صاحب مظاہری نے مہمانِ گرامی کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ علمی و دینی حلقوں میں حضرت مولانا قاری صدیق احمد باندویؒ کا مقام نہایت بلند اور باوقار ہے، اور مولانا ان کے بڑے صاحبزادے اور جانشیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خانقاہ رحمانی آمد ادارے کے لیے باعثِ عزت و مسرت ہے، اور جامعہ کے اساتذہ و طلبہ کے لیے سعادت کی بات ہے کہ انہیں ان سے ملاقات اور ان کی علمی شخصیت سے استفادے کا موقع ملا۔خطاب کے اختتام پر مولانا حبیب احمد باندوی نے جامعہ کی ترقی، حفاظت اور مقبولیت، نیز اس کے بانیان اور خدام کے لیے خصوصی دعا کی۔اس موقع پر فکر و نظر ٹی وی کی جانب سے ان کا خصوصی انٹرویو بھی لیا گیا، جس میں انہوں نے جامعہ رحمانی سے اپنے تعلق کے حوالے سے مخلصانہ تاثرات کا اظہار کیا۔
جامعہ رحمانی کے شعبہ صحافت کے ایچ او ڈی جناب فضل رحمٰں رحمانی صاحب نے ان کی خدمت میں چند کتابیں پیش کیں اور شعبے کے تعلیمی مقاصد، مشن اور سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہیں رخصت کرنے کے لیے جامعہ رحمانی کے ناظم الحاج مولانا محمد عارف صاحب رحمانی،جناب مولانا جمیل احمد صاحب مظاہری، جناب مولانا جمال اکبر صاحب،جناب مولانا عبدالعظیم صاحب رحمانی، جناب مولانا سیف الرحمٰن صاحب ندوی، جناب قاری نثار احمد صاحب رحمانی، جناب مولانا رضی احمد صاحب رحمانی، جناب مولانا قاری تسلیم صاحب قاسمی،جناب مولانا عبدالعلیم رحمانی ازہری صاحب، جناب مولانا شاہد سنگارپوری صاحب اور جناب مولانا نور عالم صاحب رحمانی و دیگر اساتذہ و ذمہ داران خاص طور پر موجود تھے۔

متعلقہ خبریں