تازہ ترین
چھوٹی صنعتوںکو فروغ دینے کیلئے حکومت کی نئی پالیسی،بہار کے اگلے بجٹ میں سرمایہ کاری پر ہوگی دولت کی بارش، نتیش کمار کی تشکیل کردہ کمیٹی نے سمراٹ حکومت کوسونپی رپورٹمدارس کی تعلیمی صورتحال اور ملحقہ کنونشن کیلئے میٹنگ منعقد، مدرسہ ایجوکیشن بورڈکا قیام اور ملحقہ مدارس، مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کی مرہون منتافسران سے ملی بھگت کے ذریعہ فرضی رجسٹری کراکر زمین پر قبضہ کر رہے ہیں ’زمین مافیا‘چھپرا : 6 ماہ پرانے تنازع پر ہوا خونی تصادم، چاقو زنی سے 3 افراد ہلاکیوپی میںچیف الیکشن کمشنر کے خلاف ایس پی کا احتجاج،غازی آباد،میرٹھ،رائے بریلی، باغپت اور مظفر نگرمیں سڑکوں پر اترےسماجوادی پارٹی کے کارکنان ،نکالاپیدل مارچ،ای سی آئی کا پتلا نذر آتشپارٹی کی توقعات پوری کرنے کی کروں گاکوشش ،صوبہ کا ر گزار صد منتخب ہونے کے بعد عمران مسعود کی میڈیا سے گفتگوجمعیۃ علماء کی میٹنگ میں اصلاح معاشرہ، مردم شماری اور ہندو- مسلم اتحاد کی حکمت عملی طےرام لیلا بھگوان شری رام کی اقدار کی زندہ روایت :ریکھا
uttar pradesh

تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے راکھی و تھال سجاوٹ مقابلے کا انعقاد

لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ ہوم سائنس کی جانب سےوائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی سرپرستی اور پروفیسر تطہیر فاطمہ کی رہنمائی میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو پلیٹ فارم فراہم کرنے اور ہندوستانی فن، ثقافت و روایات کے تئیں ان کی دلچسپی کو فروغ دینے کے مقصد سے ’’راکھی سازی و تھال سجاوٹ مقابلے‘‘ کا انعقادکیا گیا۔
اس مقابلے میں طلبہ نے اپنی تخلیقی سوچ اور فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوبصورت اور دلکش راکھیوں کی تیاری کی۔ اس کے ساتھ ہی پھولوں، رنگوں، آرائشی اشیا اور روایتی سامان کا استعمال کرتے ہوئے خوبصورت اور فنکارانہ تھالیاں بھی سجائیں۔مقابلے کا مقصد طلبہ میں تخلیقی فکر، جمالیاتی ذوق، دستکاری کی مہارت اور ہندوستانی روایتی فنون کے تئیں بیداری و دلچسپی پیدا کرنا تھا۔ اس مقابلے کے ذریعے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کو تخلیقی انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صحت مند مسابقت کے ماحول میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں اور ہنر کو نکھارنے کا موقع ملا۔
اس مقابلے میں شریک طالبات کی حوصلہ افزائی اور ہندوستانی روایت و ثقافت میں راکھی کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ راکھی محض ایک دھاگا نہیں بلکہ یہ بھائی اور بہن کے درمیان محبت، اعتماد، خلوص اور تحفظ کے مقدس رشتے کی علامت ہے۔ ہندوستانی تہذیب و ثقافت میں رکشا بندھن کی روایت کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس طرح کے مقابلوں کے ذریعے طلبہ نہ صرف اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنی شاندار تہذیبی و ثقافتی روایات سے جڑنے کا بھی موقع ملتا ہے۔انھوںنے کہا کہ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس طرح کی غیر نصابی اور ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد بھی ضروری ہے۔
ایسی سرگرمیاں طلبہ میں خود اعتمادی، فنکارانہ ذوق، ہنرمندی اور ٹیم ورک کے جذبے کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے مقابلے میں حصہ لینے والی تمام طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس مقابلے میںبہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شرکاء کو انعامات سے نوازا گیا۔ مقابلے میں طلبہ نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔