تازہ ترین
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ’سوچھتا ہی سیوا 2026‘ کے تحت صفائی مِتر تحفظ کیمپ منعقدڈسٹرکٹ چائلڈ ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن کمیٹی کا اجلاسخدمتِ عہد مہم 2026 کے تحت مہوا میں بلاک سطحی پینٹنگ اور تقریری مقابلہ منعقدوکست بھارت2047 کے تناظر میں ادبِ اطفال پر جے این یو میں اہم پروگرام کا انعقادماضی کے ورثے اور مستقبل کی تعمیرہےلائبریریریکھاگپتا نے مالویہ نگر علاقے میں گیتانجلی فائر اسٹیشن کا کیاافتتاحمسکان قتل کیس میں 350 صفحات کی چارج شیٹدہلی نے 18 سال میں ستمبر کی سب سے سرد رات
اتر پردیش

بی کے ڈی نے مسائل حل نہ ہونے پر پاور کارپوریشن کے خلاف تحریک چلانے کی دی وارننگ

ہڑتال پر بیٹھے ہوئے کسان

(پی این این)
دیوبند: بجلی کے سب اسٹیشن پر کسانوں کے مطالبات کو لے کر بھارتیہ کسان یونین جن کلیان کے زیر قیادت چلنے والی ہڑتال اور احتجاج 9ویں دن میں داخل ہوگئی ،اس احتجاج اور ہڑتال میں شامل کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے چودھری نواب سنگھ نے کہا کہ ایک طرف تو حکومت کسانوں کو مفت بجلی دینے کا وعدہ پورا کرنے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن دوسری جانب بجلی محکمہ کے تاناشاہ افسران کسانوں کا مسلسل استحصال کررہے ہیں۔

انہوں نے بجلی محکمہ پر تنقید کرتے ہوئے اور اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی فصلوں کو برباد کرنے کی غرض سے ان کے بجلی کے کنکشن کاٹے جارہے ہیں ،اسی وجہ سے بجلی محکمہ کے افسران کے استحصالی رویہ سے پریشان متاثرہ کسان گذشتہ 9 دنوں سے احتجاجاً ہڑتا ل پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ کسانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے پاروکارپوریشن اور سرکاری افسران نے کسانوں کے پاس آکر ان کے مسائل کو سننے اور سمجھنے تک کی زحمت نہیں کی ،افسران کے اس رویہ سے دل برداشتہ ہوکر کسانوں نے 17 اپریل سے بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔چودھری نواب سنگھ نے پاور کارپوریشن اور سرکاری افسران کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسانوں کے مسائل کو نہیں سناگیا اور اس کا مناسب حل نہیںنکالاگیا تو پاور کارپوریشن کے خلاف کسان بڑی تحریک شروع کریں گے ،ہڑتال پر بیٹھنے والے کسانوں نے چودھری کنور پال سنگھ ،بھوپ سنگھ،رجنیش سنگھ ،ابیناش ،وجیندر سنگھ، شیو کمار ،اوم سنگھ اور رجب سنگھ کے نام قابل ذکر ہیں ۔

 

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔