(پی این این)
پٹنہ:بہار میں اگلے پانچ برسوں کے دوران سالانہ ایک لاکھ ٹن گرین ہائیڈروجن کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے بہار گرین ہائیڈروجن پالیسی نافذ کی جا رہی ہے۔ اس پالیسی کے تحت صنعتی شعبے میں سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے 1040 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس سے ریاست میں گرین ہائیڈروجن کی صنعت کے شعبے میں تقریباً 16 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعے تقریباً 12 ہزار افراد کو روزگار ملے گا۔ اس سے ماحولیاتی تحفظ کو فروغ ملے گا اور پٹرولیم مصنوعات کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار میں کمی آئے گی۔
ریاست میں گرین ہائیڈروجن پالیسی نافذ ہونے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں تقریباً 10 لاکھ ٹن کی کمی آنے کی امید ہے۔ اس سے قدرتی گیس پر انحصار کم ہوگا اور صاف توانائی کو فروغ ملے گا۔ گرین ہائیڈروجن بنیادی طور پر بجلی کی مدد سے پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کرکے تیار کی جاتی ہے۔ اس سے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمد شدہ قدرتی گیس پر ہونے والے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔بتایا جا رہا ہے کہ سال 2030 تک مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں کاربن کے اخراج کی شدت کو سال 2005 کی سطح کے مقابلے میں 45 فیصد تک کم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے میں بہار بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
اس سلسلے میں توانائی کے وزیر شلیش کمار عرف بولو منڈل نے کہا کہ بہار گرین ہائیڈروجن پالیسی 2026 اس سمت میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔ یہ پالیسی ریاست کی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ اور عوامی فلاح و بہبود کو بھی نئی تقویت فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی بہار کو گرین انرجی اور صنعتی ترقی کا ایک اہم مرکز بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اس سے ماحولیاتی تحفظ کو فروغ ملنے کے ساتھ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ریاست کی معیشت مضبوط ہوگی۔
ریاستی حکومت کا عزم بہار کو صاف توانائی، ماحول دوست صنعت کاری اور پائیدار اقتصادی ترقی کا ایک اہم مرکز بنانا ہے۔ اس سمت میں ہماری حکومت ذمہ داری کے ساتھ مسلسل کوششیں جاری رکھے گی۔
بہار میں گرین ہائیڈروجن کی پیداوار کو منظوری، 12 ہزار افراد کو ملے گا روزگار، حکومت نے 1040 کروڑ روپے کئے فراہم
