تازہ ترین
بہارمیں کئی بڑے ہوٹلوںاور مٹھائی کی دکانوں پر چھاپے، ریاست کے مختلف اضلاع میں کھانے پینے کی اشیا میں پائی گئیں بے ضابطگیاں،دیوالی سے قبل محکمہ تحفظ خوارک کی ٹیم کی بڑی کارروائیایک بار پھر احسان الحق رضا کے ہاتھ میں طلبہ جے ڈی یو کی کمان،چار رنگوں کے ’ڈسٹ بِن‘ سے بچوں نے سکھایا کچرا انتظام، گھر گھر پہنچایا صفائی کا پیغام، اردو پرائمری اسکول چاترگھاٹ میں ایکو کلب کے تحت بیداری مہم کا اہتمام5 سیٹیں نہیں، 50 اضلاع میں ہوئی بی جے پی کی شکست, اترپردیش میں ایم ایل سی انتخابات کے نتائج پر اکھلیش یادو کا شدید حملہاے ایم یوطلبہ یونین کے سابق صدرڈاکٹر اعظم بیگ پہنچے علی گڑھ، طلبہ یونین انتخابات کے امیدواروں اور دیگرطلبہ سے کی ملاقاتدیوبند کوتوالی انچارج نے عوامی دربارمیں سنے عوام کے مسائل، دیر رات تک سڑکوں پر بلاوجہ گھومنے اور شرپسند واسٹنٹ کرنے والوں کے خلاف کی جائے گی سخت کارروائی: سندیپ بالیاندنیا کیلئے3 منٹ، آخرت کیلئے ہمیشہ کی کریں تیاری : خطیب محمد اقبال، آگرہ کی مسجد نہر والی میں خطبۂ جمعہ کے دوران دنیا کی عارضی زندگی اور آخرت کی دائمی زندگی پر خطابمالیگاؤں میں ابوبکر علی حسن چودھری کا شاندار عوامی استقبال، دیولالی اسمبلی حلقے کی اہم ذمہ داری ملنے پر رابطہ آفس میں جشن کا سماں
بہار

بہارمیں کئی بڑے ہوٹلوںاور مٹھائی کی دکانوں پر چھاپے، ریاست کے مختلف اضلاع میں کھانے پینے کی اشیا میں پائی گئیں بے ضابطگیاں،دیوالی سے قبل محکمہ تحفظ خوارک کی ٹیم کی بڑی کارروائی

(پی این این)
پٹنہ:دیوالی سے قبل بہار کی منڈیوں میں فروخت ہونے والی خراب اور نقلی غذائی اشیا کے خلاف کارروائی تیز کر دی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں پٹنہ سمیت بہار کے اہم شہروں میں واقع بڑے ہوٹلوں، ریستورانوں اور مٹھائی کی دکانوں پر محکمۂ تحفظِ خوراک کی ٹیم نے چھاپے مارے۔ اس دوران کئی مقامات پر کھانے پینے کی اشیا میں بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ کہیں پنیر خراب حالت میں ملا، تو کہیں سبزی خور اور گوشت سے بنی غذائی اشیا ایک ہی جگہ رکھی ہوئی پائی گئیں۔
بہار کے مختلف مقامات پر جانچ کے دوران بے ضابطگیاں سامنے آنے کے بعد 15 اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، جبکہ دو اداروں کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے۔ دیگر اداروں کو نوٹس جاری کرکے خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عام لوگوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے بازاروں میں دستیاب تمام غذائی اشیا پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔ محکمۂ صحت کی ہدایت پر غذائی تحفظ کی ٹیمیں دکانوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں پہنچ کر کھانے پینے کی اشیا کی جانچ کر رہی ہیں۔ پورے بہار میں اب تک درجنوں اداروں کا معائنہ کیا جا چکا ہے۔ ان میں ہوٹل، ریستوران، مٹھائی کی دکانیں، غذائی اشیا تیار کرنے والی اکائیاں، پیک شدہ پینے کے پانی کی صنعتیں، گھر تک اشیا پہنچانے والی کمپنیوں کے گودام اور اس نوعیت کے دیگر ادارے شامل ہیں۔
محکمۂ صحت کے مطابق، ریاست بھر میں جن اداروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، ان میں سب سے زیادہ 87 اداروں کا معائنہ پٹنہ میں کیا گیا ہے۔ پٹنہ میں محکمۂ تحفظِ خوراک کی ٹیم اب تک بیشتر ہوٹلوں، ریستورانوں، مٹھائی کی دکانوں، ڈیری مراکز، فاسٹ فوڈ سینٹروں، پیک شدہ پینے کے پانی کی اکائیوں اور آن لائن غذائی اشیا فراہم کرنے والے اسٹوروں کا معائنہ کر چکی ہے۔اس دوران خراب اور بدبودار پنیر، مٹھائیاں، دودھ، میعاد ختم ہونے والی غذائی اشیا اور دیگر غیر محفوظ مصنوعات ضبط کرکے تلف کر دی گئی ہیں۔
پٹنہ کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی محکمۂ تحفظِ خوراک نے بڑے پیمانے پر جانچ مہم چلائی۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران روہتاس میں 41، سارن میں 40، گوپال گنج میں 37، سیوان میں 27، گیا میں 26، ویشالی میں 24، مظفرپور میں 20، بھاگلپور اور مغربی چمپارن میں 18-18، پورنیہ میں 16، بھوجپور اور سمستی پور میں 15-15، جبکہ دربھنگہ اور مشرقی چمپارن میں 14-14 غذائی اداروں کا معائنہ کیا گیا۔
اسی طرح ارول اور کیمور میں 13-13، کٹیہار میں 12، مدھوبنی، سہرسہ اور سیتامڑھی میں 10-10، کھگڑیا میں 7، سوپول میں 6، بیگوسرائے میں 5، جبکہ ارریہ، اورنگ آباد، مدھے پورہ اور نالندہ میں 4-4 اداروں کی جانچ کی گئی۔ بانکا، بکسر اور جہان آباد میں 3-3، جموئی، لکھی سرائے اور مونگیر میں 2-2، جبکہ کشن گنج اور نوادہ میں ایک ایک غذائی ادارے کا معائنہ کیا گیا۔ویشالی، مظفرپور اور سوپول سمیت بعض دیگر اضلاع میں متعدد اداروں سے پیک شدہ پینے کا پانی، پنیر اور دیگر غذائی اشیا ضبط کرکے تلف کر دی گئیں۔
عوام کی صحت سے کوئی
وہیں بہار کے وزیرِ صحت نشانت کمار نے کہا کہ عام لوگوں کو محفوظ، صاف ستھری اور معیاری غذائی اشیا فراہم کرنے کے مقصد سے محکمۂ تحفظِ خوراک کی جانب سے ریاست بھر میں معائنہ اور نفاذ کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس کے تحت مختلف اداروں میں غذائی اشیا کے معیار، محفوظ ذخیرہ اندوزی، باورچی خانے کی صفائی، غذائی تحفظ کے مقررہ معیار پر عمل درآمد اور لائسنس کی قانونی حیثیت کی جانچ کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تمام بڑے ہوٹلوں، ریستورانوں، مٹھائی کی دکانوں، غذائی اشیا تیار کرنے والی اکائیوں اور پیک شدہ پانی کے کاروبار سے وابستہ اداروں کو خصوصی طور پر جانچ کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ حکومت عام لوگوں کی صحت کے تحفظ کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

متعلقہ خبریں