Connect with us

uttar pradesh

اے ایم یو میںپروفیسر ٹی این ستھیسن کے اعزاز میں تقریب منعقد

Published

on

علی گڑھ:(پی این این)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹس کے تحت مختلف شعبوں کے صدور اور ڈائریکٹرز کی جانب سے سابق ڈین، فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ٹی این ستھیسن کے اعزاز میں الوداعی و تہنیتی تقریب منعقد کی گئی، ساتھ ہی نئے ڈین پروفیسر محمد رضوان خان کا خیرمقدم بھی کیا گیا۔
حاضرین کا خیرمقدم کرتے ہوئے شعبہ لسانیات کے صدر پروفیسر محمد جہانگیر وارثی نے بطور استاد،محقق و منتظم پروفیسر ستھیسن کی نمایاں خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے پروفیسر ستھیسن کو ایسا دانشور قرار دیا جن قیادت نے فیکلٹی آف آرٹس کی ترقی اور استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ پروفیسر وارثی نے پروفیسر محمد رضوان خان کا بھی خیرمقدم کرتے ہوئے بطور استاد، محقق، مترجم اور علمی منتظم ان کی خدمات کا ذکر کیا اور ان کی وقیع علمی تصنیفات اور یونیورسٹی میں مختلف قائدانہ ذمہ داریوں کو سراہا۔
اس موقع پر متعدد شعبوں کے صدور اور سینئر اساتذہ بشمول ڈاکٹر عبد الہادی، پروفیسر معراج احمد، پروفیسر فیضان بیگ، پروفیسر محمد قمرالہدیٰ فریدی، پروفیسر زبیر شاداب، پروفیسر اے نجُم، ڈاکٹر عامر ریاض، پروفیسر محمد عثمان غنی اور پروفیسر شاہینہ ترنم نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے پروفیسر ستھیسن کی علمی کامیابیوں، انتظامی بصیرت، انکساری اور ادارہ جاتی ترقی کے تئیں ان کی وابستگی کو سراہا۔ انہوں نے پروفیسر محمد رضوان خان کی قیادت اور فیکلٹی کو مزید مستحکم کرنے کے ان کے وژن پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔
پروفیسر آزرمی دخت صفوی کا پیغام ڈاکٹر محمد احتشام الدین نے پڑھ کر سنایا، جس میں پروفیسر ستھیسن کی شفقت، غیر جانبداری اور علمی امتیاز کو اجاگر کیا گیا۔ پروفیسر لطیف حسین شاہ کاظمی، پروفیسر محمد علی جوہر، پروفیسر محمد سمیع اختر اور ڈاکٹر ارشد اقبال نے بھی یونیورسٹی کے لیے ان کی خدمات پر اپنے تاثرات پیش کیے۔اپنے الوداعی خطاب میں پروفیسر ستھیسن نے اے ایم یو سے تقریباً 38 سالہ وابستگی کے دوران ملنے والی محبت اور تعاون پر اظہارِ تشکر کیا اور کہا کہ علی گڑھ ان کا پہلا گھر بن چکا ہے۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر محمد رضوان خان نے پروفیسر ستھیسن کو غیر معمولی علمی مقام کا حامل دانشور قرار دیا اور تمام شعبوں پر زور دیا کہ وہ فیکلٹی آف آرٹس کے علمی وقار کو مزید بلند کرنے کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔ اس موقع پر پروفیسر ستھیسن کو یادگاری نشان پیش کیا گیا، جبکہ پروفیسر محمد رضوان خان کو مختلف شعبوں کے صدور نے تہنیت پیش کی۔ شعبہ سنسکرت کی چیئرپرسن پروفیسر ساریکا وارشنے نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔

uttar pradesh

صرف جانچ کے احکامات دینا کافی نہیں،لکھنؤ آتشزدگی پر ڈمپل یادو نے حکومت کو گھیرا، جوابدہی طے کر کے متاثرین کو انصاف دینے کا کیا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
اٹاوہ:مین پوری سے سماجوادی پارٹی (ایس پی) کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے لکھنؤ کے علی گنج میں واقع کوچنگ ادارے میں ہوئے آتشزدگی کے واقعے پر صوبائی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے واقعے کی منصفانہ جانچ، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو زیادہ سے زیادہ مالی امداد دیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بڑے منگل کے آخری منگل پر سیفئی میں واقع نیتا جی ملائم سنگھ یادو اسمرتی استھل کے قریب ہنومان مندر میں منعقدہ بھنڈارے میں شرکت کے لیے پہنچیں رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے کہا کہ لکھنؤ میں پیش آیا آتشزدگی کا واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ نظام کے طریقہ کار پر سنگین سوال پیدا کرنے والا واقعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ آگ لگنے کے بعد راحت اور بچاؤ کے وسائل وقت پر موقع تک کیوں نہیں پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے میں جان گنوانے والے طلبہ کے اہل خانہ کے ساتھ ان کی گہری ہمدردی ہے۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری زخمیوں کے مناسب علاج کا انتظام یقینی بنانا ہے اور کسی بھی بچے کے علاج میں وسائل کی کمی بیچ میں نہیں آنی چاہیے۔
رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ واقعے کی تفصیلی جانچ کر کے یہ پتہ لگایا جانا چاہیے کہ آگ لگنے کے حالات کیا تھے اور فائر بریگیڈ سمیت ہنگامی خدمات کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں تاخیر کیوں ہوئی۔ اگر کہیں لاپرواہی پائی جاتی ہے تو متعلقہ حکام اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صرف جانچ کے احکامات دینا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے نتائج کو عام کر کے قصورواروں کو سزا بھی دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جن خاندانوں نے اپنے بچوں کو کھویا ہے، ان کے نقصان کی تلافی ممکن نہیں ہے، لیکن حکومت کو انسانی نقطہ نظر اپناتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ مالی امداد اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنا چاہیے۔ صوبے کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اتنے بڑے واقعے کے پیچھے کیا وجوہات تھیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی تکرار کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

Continue Reading

uttar pradesh

مدارس کی کاغذی کارروائی حکومتی گائیڈ لائن کے مطابق کریں مکمل،جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ میںمنعقد رابطہ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میںمولانا عاقل کا خطاب

Published

on

(پی این این)
دیوبند:آج رابطہ مدارسِ اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند شاخ ضلع سہارنپور کی عاملہ کا ایک اہم اجلاس جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ میں زیر صدارت مولانا جمشید علی قاسمی منعقد ہوا، جس کا آغاز محمد علی کی تلاوت اور محمد شائق کی نعت پاک سے ہوا۔ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند مغربی یو پی زون نمبر تین کے صدر اور دارالعلوم کے رکن شوری مولانا محمد عاقل قاسمی مہتمم جامعہ بدر العلوم گڈھی دولت نے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران کو تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے،انتظامی امور میں شفافیت برتنے اور سرکاری گائیڈ لائن کے مطابق کاغذی کاروائی مکمل کرنے کی تاکید کی۔
اس موقع پر عاملہ کی میعاد مکمل ہونے پر نئے ٹرم کیلئے 21ارکان عاملہ اور 5مدعوئین خصوصی پر مشتمل 26رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ، جس میں بالاتفاق مولانا جمشید علی قاسمی کو صدر مولانا محمد اطہر حقانی کو ناظم عمومی، الحاج قاری سعید احمد تڑفوی اور مولانا محمد صادق قاسمی کو نائب صدر ، مولانا محمد حبیب اللہ قاسمی کو خازن مولانا محمد مستقیم رشیدی اور مفتی عطاء الرحمان جمیل قاسمی کو سکریٹری طے کیا گیا۔اجلاس کی کاروائی رابطہ مدارس اسلامیہ دارالعلوم دیوبند شاخ ضلع سہارن پور کے ناظم عمومی مولانا محمد اطہر حقانی نے چلائی۔
انہوں نے ایجنڈے کے مطابق ضلعی و صوبائی عاملہ کے سابقہ اجلاس کی رپورٹ بھی ارکان عاملہ کے سامنے پیش کی۔ مولانا محمد اطہر حقانی ندوی نے نئے ٹرم کے لیے منتخب ہونے والے تمام عہدہ داران و ارکان عاملہ کی طرف سے مرکزی ذمہ داران کو نظام کو وسیع و مفید بنانے کے لئے مسلسل جدو جہد کرنے حسب دستور محنت کے ساتھ کام کرنے کی یقین دہانی کرائی۔رابطہ کے تحت منعقد ہونے والے سالانہ مشترکہ امتحانات اور رابطہ کے دیگر مقامی انتظامی امور میں مزید بہتری لانے اور کام کو سہل و مؤثر بنانے کے لیے بلاک سطح پر ہر بلاک کیلئے ایک رکن عملہ کو ذمہ دارینامزد کیا گیا ۔سابقہ کارکردگی سے متعلق ارکان عاملہ کے سوالات پر زون کے صدر مولانا محمد عاقل قاسمی نے جواب دیئے۔نو منتخب عہدیداران اور ارکان عاملہ نے آئندہ ماہ منعقد ہونے والے عمومی اجلاس کیلئے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور ضلع کی سطح پر جامعہ ہدی للعالمین ہلال پور میں درجات حفظ اور درجات عربی کیلئے تدریب المعلمین کے انعقاد کی تجویز بھی اتفاق رائے سے منظور کی گئی،عاملہ کے آئندہ اجلاس کیلئے جامعہ قاسم العلوم گاگلہیڑی کو تجویز کیا گیا۔
شرکت کرنے والوں میں مولانا محمد عرفان قاسمی ،مفتی وزیر اکرم سنسار پوری ،مولانا محمد طاہر قاسمی، قاری محمد اسحاق فلاحی ، مفتی محمد اسجد قاسمی ، مولانا محمدمشرف رشیدی ، مولانا عبد الرحمان قاسمی مولانا محمد دلبہار قاسمی ،مولانا محمد نادر مظاہری ،مولانا محمد مشتاق قاسمی ، مولانا محمد مستقیم رشیدی ، مولانا محمد گلفام مظاہری ، مولانا عبدالخالق مغیثی،مولانا شمشیر الحسینی مولانا عبداللہ ندوی، مولانا محمد مسرور حیدر ندوی ، قاری محمد ایوب قاسمی ، حافظ محمد ساجد ، مولانا شمشاد مظاہری کے نام قابل ذکر ہیں۔

Continue Reading

uttar pradesh

مدرسہ اسلامیہ اصغریہ دیوبند میں مولانا قمر الزماں الہ آباد ی کی آمد

Published

on

(پی این این)
دیوبند:گزشتہ شب یہاں قدیم دینی ادارہ مدرسہ اسلامیہ اصغریہ دارالمسافرین دیوبند میں مولانا قمر الزماں آلہ آباد ی کی آمد پر ایک دعائیہ مجلس منعقد ہوئی،جس میں حضرت موصوف نے حاضرین مجلس کو نہایت قیمتی نصیحتوں سے نوازتے ہوئے اللہ سے اپناتعلق مضبوط کرنے پر زور دیا ،ساتھ ہی سنت نبوی کے مطابق زندگی گزارنے اور اپنے اخلاق و معاملات کو شریعت محمدی کے مطابق ڈھالنے کی تلقین کی۔ بعد نماز مغرب محلہ قلعہ پر واقع قدیم دینی ادارہ مدرسہ اسلامیہ اصغریہ میں تشریف لائے حضرت علامہ قمر الزماں الہ آبادی نے ادارہ کے صدر و دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ مولانا سید انظر حسین میاں دیوبندی سے ملاقات کی ۔
اس موقع پر ادارہ کے سکریٹری مولانا سید محمد طیب نے مولانا قمر الزماں الہ آبادی اوران کے وفد کا والہانہ استقبال کیا اور ان کی مدرسہ آمد پر خوشی کااظہار۔ اس موقع پر مولانا قمر الزماں الہ آبادی نے مختصر دعائیہ مجلس میں نہایت قیمتی اور کار آمد گفتگو کی اور حاضرین مجلس کو قرآن و سنت کے طریقہ کے مطابق زندگی گزارنے کی نصیحت کی، ساتھ ہی علم دین کی اہمیت و فادیت پر بھی روشنی ڈالی۔
اس دوران انہوں نے پوری ملت اسلامیہ اور ملک و دنیا میں امن و سلامتی کے لئے رقت آمیز دعاء کرائی۔ اس موقع پر مولانا سید تجمل حسین، مولانا سید علی اصغر میاں،قاری دلشاد احمد، قاری مرتضیٰ، مفتی عثمان، مفتی شعیب، مولانا احمد، قاری عابد، مولانا جنید، قاری شوقین،مولانا اظہر، قاری بلال، فیروز احمد، ایڈوکیٹ عابد، ایڈوکیٹ سلمان خان اور راؤ انیس سمیت جملہ اساتذہ اور سرکردہ افراد موجودرہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network