Connect with us

uttar pradesh

اسمبلی انتخابات سے قبل ’ایس پی‘ نےتیار کی بڑی حکمت عملی ،اترپردیش الیکشن کیلئے سماجوادی پارٹی میں اسمبلی ٹکٹوں کی تقسیم کا فارمولہ طے، ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے نجی ایجنسی کے ساتھ پارٹی رہنماؤں کو بھی سونپی اہم ذمہ داریاں

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:سماجوادی پارٹی آئندہ سال ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں میدان میں اترنے سے قبل اپنی انتخابی حکمتِ عملی کو پوری طرح مضبوط اور منظم کرنا چاہتی ہے۔ پارٹی اس بار ٹکٹوں کی تقسیم میں کسی بھی قسم کی غلطی سے بچنے کے لیے بہت محتاط ہے اور اس مقصد کے لیے ایک واضح فارمولہ طے کر لیا گیا ہے۔
ایک نجی ایجنسی کے ذریعے ریاست کی تمام 403 اسمبلی نشستوں کا تفصیلی رپورٹ کارڈ تیار کرایا جا رہا ہے۔ سماجوادی پارٹی کی قیادت اس مرتبہ امیدواروں کے ٹکٹوں کا حتمی فیصلہ اسی رپورٹ کارڈ کے ساتھ ضلعی سطح کے رہنماؤں کی آراء اور فیڈ بیک کی بنیاد پر کرے گی۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں ان امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی جو اپنے حلقے میں مضبوط عوامی حمایت رکھتے ہوں اور جن کی عوامی شبیہ مثبت اور بہتر ہو۔سماجوادی پارٹی کی قیادت اتر پردیش کی تمام 403 اسمبلی نشستوں کے لیے تیار کیے جا رہے رپورٹ کارڈ کی بنیاد پر فیڈ بیک حاصل کرنے کا عمل شروع کر چکی ہے۔ اس مقصد کے لیے پارٹی رہنماؤں کو خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو ان دنوں ضلع وار پارٹی رہنماؤں کے ساتھ مسلسل میٹنگیں کر رہے ہیں۔ ان نشستوں میں رپورٹ کارڈ کی روشنی میں مقامی رہنماؤں سے تفصیلی رائے لی جا رہی ہے۔ اس دوران متعلقہ حلقے میں پارٹی کی موجودہ پوزیشن، ممکنہ امیدواروں کے بارے میں معلومات، نیز پارٹی کی مضبوطی اور کمزوری کی وجوہات پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق سروے رپورٹ اور مقامی رہنماؤں کے فیڈ بیک کی بنیاد پر ہی امیدواروں کے ٹکٹوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔ واضح کیا گیا ہے کہ محض مضبوط دعویداری کافی نہیں ہوگی، اگر کسی امیدوار کے بارے میں موصول ہونے والا فیڈ بیک منفی رہا تو اسے ٹکٹ ملنے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔
لوک سبھا انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرنے والی سماجوادی پارٹی اس بار گزشتہ اسمبلی انتخابات کی طرح کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غلطی کی گنجائش نہیں چھوڑنا چاہتی۔ اسی لیے مقامی رہنماؤں سے حاصل ہونے والے فیڈ بیک اور نجی ایجنسی کی سروے رپورٹ کا باہمی موازنہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں رپورٹوں کے جائزے میں جس امیدوار کی عوامی مقبولیت اور دعویداری ووٹروں کی نظر میں زیادہ مضبوط ثابت ہوگی، اسی کو پارٹی ٹکٹ دیا جائے گا۔ جن اسمبلی حلقوں میں یہ عمل مکمل ہو چکا ہے، وہاں ممکنہ امیدواروں کو بتدریج انتخابی تیاری شروع کرنے کے لیے گرین سگنل بھی دیا جا رہا ہے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جن رہنماؤں کو انتخابی سرگرمیوں کے آغاز کی اجازت دی جا رہی ہے، انہیں سختی سے ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام یا بیان نہ دیں جس سے ان کی ذاتی ساکھ یا پارٹی کی سیاسی پوزیشن کو نقصان پہنچے۔سماجوادی پارٹی کی قیادت کا ماننا ہے کہ 2022 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں پارٹی نے مجموعی طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا، تاہم معمولی سی چوک کے باعث اقتدار تک پہنچنے سے محروم رہ گئی تھی۔ دوسری جانب 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج نے پارٹی کے حوصلے مزید بلند کر دیے ہیں۔

uttar pradesh

قانون کے تحت پولیس کو ذاتی معلومات طلب کرنےکا کوئی حق نہیں، سی اے اے-این آر سی مظاہروں سے متعلق ایک معاملےکےملزمین کو مقامی پولیس انتظامیہ کے ذریعہ مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے خلاف امروہہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو سونپاگیا میمورنڈم

Published

on

(؍پی این این)
امروہہ: شہرمیں2019کے سی اے اے-این آر سی مظاہروں سے متعلق ایک معاملےکےملزمین کو مقامی پولیس انتظامیہ تصدیق کےنام پرمبینہ طور پر ہراساں کررہی ہے جس کی وجہ سے ملزمین اورانکے اہل خانہ میں خوف ہراس ہے۔ اس معاملے کو لیکر جمعرات کو ملزمین کےوکیل مراد عارف ایڈوکیٹ نےجمعرات کو امروہہ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کوایک میمورنڈم پیش کرتے ہوے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی پولیس کو ہدایت کریں کہ وہ ملزمین کو غیر ضروری طور پر ہراساں نہ کرے جس میں ان کی مداخلت بہت ضروری ہے تاکہ لوگوں کی بے چینی کم ہو سکے- شہرکےمحلہ چاہ غوری کے رہائشی سینیر ایڈوکیٹ مراد عارف دیگر وکلاء کے ساتھ جمعرات کی دوپہر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے دفتر پہنچے۔
انہوں نے بتایا کہ امروہہ سٹی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر نمبر ٨١٤/٢٠١٩ کے تحت تقریباً ٨٥ مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کیس کے تقریباً تمام ملزمین ضمانت پر باہر ہیں اور یہ مقدمہ فی الحال ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ( فرسٹ) ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں زیر التوا ہے۔
وکلاء کا الزام ہے کہ چارج شیٹ داخل کرنے اور مقدمے کی سماعت شروع ہونے کے باوجود امروہہ سٹی پولیس اسٹیشن ملزمین کے گھر-گھرجاکرتصدیق کے نام پر ذاتی معلومات جیسے بینک اسٹیٹمنٹس، جائیداد کی تفصیلات، پین کارڈ اور پاسپورٹ مانگ رہی ہےاب تک کہاں خان کا سفر کیا کاروبار کیا ہے اور کس پارٹی سے تعلق ہےجیسے سوالات بھی کے جا رہے ہیں۔
میمورسنڈم میں کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت پولیس کو کسی بھی فرد یا کسی ملزم سے اس طریقے سے ذاتی معلومات طلب کرنےکا کوئی حق نہیں ہے۔
ایڈوکیٹ مراد عارف نےسپرنٹنڈنٹ آف پولیس پر زور دیا کہ وہ امروہہ سٹی پولیس اسٹیشن کو ہدایت دیں کہ وہ تصدیق کےنام پرملزمین کو ہراساں کرنےسے بازرہیں، اوریہ کہ اگر کوئی تصدیق ضروری ہے تواسےقانونی دائرے میں رہ کر کرایا جائےجس کی اطلاع پیشگی دی جائے اور ملزمین کو پریشان نہ کیا جائے-ایس پی نے وکلاء کےوفد کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے میں منصفانہ کا روائی کریں گیں اورکسی کو بے وجہ ہراساں نہیں کیا جاےگا ۔
فوٹو -وکلاء کے ساتھ ایس پی کو میمورنڈم دینے جاتے ایڈوکیٹ مراد عارف ۔

 

Continue Reading

uttar pradesh

ہماری پہچان صرف ہندوستانی: پروفیسرصغیر افراہیم،شعبۂ اردو سی سی ایس یونیورسٹی میں آزادی کے موقع پرآن لائن مشاعرہ و قوی سمیلن کا انعقاد

Published

on

میرٹھ:آج کے پروگرام میں اردو کی نفاست اور ہندی کی لطافت ہے۔ مشاعرہ اور کوی سمیلن میں مسکرا ہٹ بھی ہے اور طنز بھی، خوشی بھی ہے اور سنجیدگی بھی۔ یہاں پر جنگ آزادی نے ہمیں یہی بتایا ہے کہ ہندی اور اردو کو ہم الگ نہیں کرسکتے۔ اومان، لندن،ماریشس وغیرہ دوسرے ممالک میں جہاں ہندوستانی بستے ہیں وہاں ملک کی آزادی کو لوگ بڑی خوشی سے مناتے ہیں۔ایسٹ انڈیا کمپنی نے زبردست دھوکہ دیا اور ہمارے گھر، مذہب، مسلک، تیوہار وغیرہ پر حملہ کیا۔جنگ آزادی ہندو،مسلمان کی جنگ نہیں بلکہ ہند کے ہر باشندے کی جنگ تھی۔یہ ترنگا ہم سے امن اور بھائی چارے کی بات کرتا ہے۔ آج بسمل،حسرت،رواں،جوش،ٹیگور، نذر الاسلام وغیرہ نے آزادی کا جوبیج بویا تھا وہ انسانیت اور بھائی چارے کا بیج تھا۔ اشفاق اللہ خان،بھگت سنگھ،آزاد وغیرہ نے بہت سی قربانیاں پیش کیں۔ میرٹھ تو جنگ آزادی کا مرکز ہے۔ہم کہیں بھی جائیں لیکن ہماری پہچان ہندوستانی ہے۔یہ الفاظ تھے معروف ادیب و ناقد پروفیسر صغیر افراہیم]علی گڑھ[ کے جو شعبہئ اردو اور ایو ساکے زیر اہتمام منعقد ”آزادی کے موقع پر مشاعرہ و کوی سمین“پروگرام میں اپنیصدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔ہدیہئ نعت فرحت اختر نے پیش کیا۔پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقد پروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔مہمانانِ خصوصی کے بطورپروفیسر فاروق بخشی ] سابق صدر شعبہئ اردو،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدر آباد[ اور امیر مہدی] انگلینڈ[ نے آن لائن شرکت فرمائی۔مدعو شعرا کے بطور ڈاکٹر ایشور چند گمبھیر، ایڈوکیٹ ارشاد بیتاب]چوہان[،وارث وارثی، سروج دوبے، میشاب الہ آبادی، وندنا کنور رائے زادہ،ڈاکٹر فرقان سردھنوی اور مولانا سید نا یاب الدین نایابؔنے شر کت کی۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی،نظامت کے فرا ئض ڈاکٹر الکا وششٹھنے انجام دیے۔
موضوع کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ جس طرح ہمارے ادبا و ناقدین ادب نے ناولوں، افسانوں اور تحقیقی و تنقیدی تحریروں میں ملک سے محبت کے جذبات و احساسات کو پیش کیا اسی طرح سے بہت سے شعرا نے بھی اپنے کلام میں ملک سے محبت اور وطن کی آزادی کے تعلق سے اپنے جذبات کو بڑی فن کاری سے قلم بند کیا۔ملک سے محبت اور ملک میں رہنے والوں کے لیے علامہ اقبال، فیض، جوش وغیرہ نے نظمیں اور غزلیں پیش کیں۔معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب سے پہلے ہندوستانی ہیں۔ ملک کی آزادی میں سبھی کی قربا نیاں شامل ہیں۔ ہم سب گنگا جمنی تہذیب کو سجانے اور سنوارنے کی کوشش میں لگے ہو ئے ہیں۔ ملک کی محبت میں ہم سب کو آگے آ نا چاہئے اور یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ملک میں ہمیشہ امن و چین اور سکون بر قرار رہے۔ ملک کی آزادی میں بھی ہندو، مسلمان سبھی شعرا نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
سروج دوبے نے کہا کہ آزادی کے دیوانوں کو شکست کسی طرح بھی قبول نہیں تھی۔ ملک کے باشندگان نے محبت اور اپنی ہمت کی بدولت اپنے ملک کی آزادی کو حاصل کیا۔ ہمارے ملک میں سبھی طرح کے لوگ بستے ہیں،وہ ہندو ہوں یا مسلمان سبھی ملک کی محبت میں سر شار ہیں۔وندنا کنور رائے زادہ نے کہا کہ آج ہم آزادی کے تعلق اس پروگرام میں شامل ہیں اور شاعری کے حوالے سے میں اپنے والد کی وراثت کو آگے بڑھا رہی ہوں۔ شہیدوں کو سلام کرتے ہوئے میں کہتی ہوں؎بارود سے چاقو سے نہ خنجر سے بات کر/ گر کر سکے تو دل کے ہی اندر سے بات کر/ جس میں کھلیں بہار بن کے ایکتا کے پھول/ کچھ اس طرح سے د ل کے تو بنجر سے بات کر/ملتی ہے جس میں جاکے ہر ایک پیار کی ندی/ انسانیت کے ایسے سمندر سے بات کر۔
ڈاکٹر فرقان سردھنوی نے کہا ؎ تم نے میری تنہائی کا منظر نہیں دیکھا/ آنکھوں میں میری اشکوں کا لشکر نہیں دیکھا/ کیا مجھ پہ گزرتی ہے جدائی میں تمہاری/ جس دن سے گئے تم نے پلٹ کر نہیں دیکھا/ ویسے تو تمہیں رہتی ہے میری فکر شب و روز/ کس حال میں ہوں تم نے کبھی آکر نہیں دیکھا۔ وارث وارثی نے کہا؎ ہمارا ہندوستان/ یہ پیارا ہندوستان/ اس میں جنمے ویر بھگت سنگھ،اشفاق اللہ خان/ ہمارا ہندوستان،یہ پیارا ہندوستان/ ہر دن تیو ہاروں کے رنگ برنگے مان/ ہمارا ہندوستان،یہ پیارا ہندوستان/ دیکھو دیکھو وارث اس کی مسکا تی ہے شان/ ہمارا ہندوستان،یہ پیارا ہندوستان۔ ایڈوکیٹ ارشاد بے تاب نے کہا ؎ غم کا احساس بھلایا بھی تو جاسکتا ہے/ ظلم و دہشت کو مٹا یا بھی تو جاسکتا ہے/ سونی آنکھوں کو یہ پاگل کردیتی ہے/انسان کے احساس کو بھی گھا ئل کردیتی ہے/حسرتوں کیوں اداس آج بیٹھی ہو تم /پاس دریا کے رہ کے بھی پیاسی ہو تم۔
مولانا سید نایاب الدین نایابؔ نے اپنی نظم’شکوہئ وطن‘ پیش کرتے ہوئے کہا ؎گاندھی،پٹیل،نہرو مرے غم گسار تھے/ دنیا میں ان کا نام تھا وہ با وقار تھے/مجھ کووہ کرکے کس کے حوالے چلے گئے/ کیوں مسجدوں سے دور شوالے چلے گئے/ گھٹ گھٹ کے رو رہا ہوں مرا کوئی اب نہیں / جمہوریت کہاں ہے پتا کوئی اب نہیں۔میشاب الہ آبادی نے کہا ؎دوستو خوشیاں مناؤ یوم آزادی ہے آج/پورے بھارت کو سجاؤ یومِ آزادی ہے آج۔ڈاکٹر ایشور چند گمبھیر نے کہا ؎شہادت اور قربانی ہمیں یوں ہی نہیں کھلتے/تبھی تو لوگ ڈرتے ہیں وطن کی راہ پر چلتے،/اب تو دامن بھی چاک سر راہ ہوتا ہے/ آج نردوش کا ثابت گناہ ہوتا ہے۔امیر مہدی نے کہا ؎ کسی کو قتل کردیتا کسی کا گھر جلاتا/ شجاعت اس کو کہتے ہیں تو اپنی بزدلی اچھی/ چاک ہے شب کا گریباں مگر کیا کیجئے/ صبح کے رُخ پہ کوئی نور،کوئی آب نہیں / اس سے بہتر تو وہی رات کی تاریکی تھی/ کم سے کم صبح کی امید لیے رہتے تھے/ اس سحر سے تو وہی سحر اچھی تھی۔
پروفیسر فاروق بخشی نے کہا ؎ اے وطن اے وطن میرے پیارے وطن/تیری دھرتی کا منہ چومتا ہے گگن/ تیرے ماتھے کی مالا کا جھو مر سجے/ تیرے دامن میں گنگا کی دھارا بہے/ تیرے کھیتوں میں کیسر مہکتی رہے/ تیری مٹی سے مہکے میرا تب بدن/اے وطن اے وطن میرے پیارے وطن/کچھ الگ اپنی مٹی کی تاثیر ہے/ اس کے پیروں میں کب کوئی زنجیر ہے/ یہ محبت کی اک ایسی جاگیر ہے/اپنا اپنا ہے سب کا یہاں پر چلن/اے وطن اے وطن میرے پیارے وطن۔ اس موقع پر ڈاکٹر سکینہ ماریشس، ڈاکٹر شاداب علیم، سیدہ مریم الٰہی، محمد شمشاد، شاہِ زمن، وغیرہ پروگرام سے جڑے رہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

اے ایم یو کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں طلبہ کا اورینٹیشن پروگرام منعقد

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (ایف ایم ایس آر) کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن نے 2026-28 بیچ کے طلبہ کے لئے اورینٹیشن پروگرام منعقد کیا، جس میں ایم بی اے، ایم بی اے -آئی بی، ایم بی اے -ایچ اے اور ایم بی اے -آئی بی ایف کے سالِ اول اور سال آخرکے طلبہ نے شرکت کی۔
پروگرام کی صدارت اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان نے کی، جبکہ الحمد فوڈ پروڈکٹس، علی گڑھ کے چیئرمین حاجی ظہیر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔پروفیسر ایم محسن خان نے طلبہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں باہمی تعاون سے کام کرنے، مثبت تعلیمی ماحول برقرار رکھنے اور یونیورسٹی میں وقت کا درست استعمال کرنے کی ترغیب دی۔ حاجی ظہیر نے طلبہ کو محنت کرنے اور اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ثابت قدمی کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہے۔
فیکلٹی کے ڈین پروفیسر محمد نوید خان نے مہمانوں اور طلبہ کا خیرمقدم کیا اور قائدانہ صلاحیتوں کی نشوونما میں فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے کردار کو اجاگر کرنے کے ساتھ طلبہ کے لیے دستیاب سہولیات اور وسائل کے بارے میں بھی بتایا۔ شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کی چیئرپرسن پروفیسر سلمیٰ احمد نے اساتذہ اور عملے کے ارکان کا تعارف کرایا۔اورینٹیشن پروگرام کے دوران پروفیسر پرویز طالب نے شعبہ اور فرینک اینڈ ڈیبی اسلام مینجمنٹ کمپلیکس کی تاریخ اور ترقی کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ پروفیسر جمال احمد فاروقی نے نصاب، کریڈٹ کی ضروریات، انٹرن شپ، تحقیقی مقالے اور تعلیمی ضوابط کے بارے میں بتایا۔
پروفیسر ولید احمد انصاری نے لائبریری اور رہنمائی کی سہولیات، پروفیسر آصف علی سید نے ہم نصابی سرگرمیوں، کھیلوں اور صحت و تندرستی، جبکہ پروفیسر فضا تبسم اعظمی نے صنعتی اداروں میں انٹرن شپ کے حوالے سے طلبہ کی رہنمائی کی۔سال آخر کی طالبات مس ثانیہ راشد اورمسٹر عریب خان نے نئے طلبہ کے سامنے اپنے تجربات بیان کیے۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر زرین حسین فاروق نے کی، جبکہ ڈاکٹر لمے بن صابر نے اظہارِ تشکر کیا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network