Connect with us

uttar pradesh

مایاوتی کا میرٹھ میں قومی سطح کی کبڈی کھلاڑی کے قتل پر افسوس کا اظہار

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے میرٹھ ضلع میں قومی سطح کی کبڈی کھلاڑی انوشکا پال کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔محترمہ مایاوتی نے سردھنا اسمبلی حلقہ کے گاؤں چروڑی کی رہنے والی قومی کبڈی کھلاڑی انوشکا پال (17) کے قتل کو “انتہائی افسوسناک اور تشویشناک” قرار دیا ہے۔
انہوں نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ بدمعاشوں کے ہاتھوں یہ قتل معاشرے کو جھنجھوڑ دینے والا ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام افراد کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا جائے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔محترمہ مایاوتی نے زور دے کر کہا کہ فوری کارروائی متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کو یقینی بنائے گی اور مستقبل میں ایسے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکے گی۔
قابل ذکر ہے کہ پیر کو انوشکا پال کے قتل کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا تھا۔ پولیس نے اس کیس کے سلسلے میں ایک فاسٹ فوڈ فروش کو گرفتار کیا اور اس کی اطلاع کی بنیاد پر تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد ایک نالے سے لاش برآمد کی۔ لاش کی حالت انتہائی خراب ہونے کے باعث اس کی شناخت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے گا۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اویناش پانڈے نے پیر کو بتایا کہ تفتیش کے دوران، کال ڈیٹیل ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر، پولیس کو پتہ چلا کہ انوشکا کی آخری سرگرمیاں ملزم شیام دھانک کے ساتھ درج ہوئی تھیں۔ ملزم جو اصل میں دہرادون کا رہنے والا ہے، واقعہ کے بعد چنڈی گڑھ چلا گیا تھا۔ پولیس نے اسے وہاں حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جس کے دوران اس نے اعتراف جرم کر لیا۔
پولیس کے مطابق انوشکا کنکرکھیڑا علاقے میں کرائے پر رہ کر تعلیم اور کبڈی کی مشق کر رہی تھی۔ اس کی رہائش کے نزدیک ملزم کی فاسٹ فوڈ کی دکان تھی جہاں اس پر کچھ رقم واجب الادا تھی۔ 15 اپریل کی رات دونوں کے درمیان پیسوں کو لے کر جھگڑا ہوا۔ الزام ہے کہ ملزم نے اس کے سر پر اینٹ ماری جس کے نتیجے میں اس کی موت ہوگئی۔ بعد ازاں لاش کو بوری میں بھر کر روہٹہ روڈ پر نالے میں پھینک دیا اور ملزمان فرار ہوگئے۔دورالا علاقے کے گاؤں چروڑی کی رہنے والی انوشکا پال نے قومی سطح کے کبڈی مقابلوں میں حصہ لیا ہے۔ حال ہی میں، اس نے ایک میں انعام بھی جیتا تھا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

ہر ضرورت مند کو فلاحی اسکیموں کا ملنا چاہیے فائدہ،یوگی آدتیہ ناتھ نے جنتا درشن میں تقریباً 200 افراد سے کی ملاقات،سنے ان کے مسائل، متعلقہ افسران کو تمام مسائل حل کرنے کی دی ہدایت

Published

on

(پی این این)
گورکھپور: اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جنتا درشن کے دوران افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی فلاحی اسکیموں کا فائدہ ہر مستحق شہری تک پہنچانا یقینی بنایا جائے۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے منگل کی صبح گورکھناتھ مندر میں منعقدہ جنتا درشن میں تقریباً 200 افراد سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور کہا کہ رہائش سے لے کر علاج تک، بیٹیوں کی تعلیم، شادی سے لے کر بے سہارا اور بزرگ افراد کی پنشن تک، معاشرے کے ہر ضرورت مند کے لیے حکومت کی متعدد اسکیمیں موجود ہیں۔ تمام مستحق افراد سے درخواستیں حاصل کر کے ان تک ان اسکیموں کے فوائد پہنچائے جائیں۔
اس موقع پر انہوں نے ضرورت مند افراد کو رہائش سمیت دیگر سرکاری اسکیموں کا فائدہ دلانے اور سنگین بیماریوں میں مبتلا افراد کے علاج کے لیے بھرپور مالی امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر ضرورت مند اور مستحق شخص کو فلاحی منصوبوں سے مستفید کرنے اور ہر مسئلے کے مؤثر حل کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے لوگوں سے کہاکی کہ وہ اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضرور درخواست دیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے افسران کو بھی ہدایت دی کہ ہر مستحق شخص کی متعلقہ اسکیم میں درخواست جمع کرا کے اسے فائدہ پہنچایا جائے۔
جنتا درشن میں آنے والے افراد کے مسائل سننے کے بعد وزیر اعلیٰ نے درخواستوں کو نمٹانے کے لیے متعلقہ انتظامی اور پولیس افسران کے حوالے کرتے ہوئے ہدایت دی کہ تمام مسائل کا حل مقررہ وقت میں، غیر جانبدارانہ اور اطمینان بخش انداز میں کیا جائے۔

Continue Reading

uttar pradesh

اے ایم یو میںپروفیسر ٹی این ستھیسن کے اعزاز میں تقریب منعقد

Published

on

علی گڑھ:(پی این این)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹس کے تحت مختلف شعبوں کے صدور اور ڈائریکٹرز کی جانب سے سابق ڈین، فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ٹی این ستھیسن کے اعزاز میں الوداعی و تہنیتی تقریب منعقد کی گئی، ساتھ ہی نئے ڈین پروفیسر محمد رضوان خان کا خیرمقدم بھی کیا گیا۔
حاضرین کا خیرمقدم کرتے ہوئے شعبہ لسانیات کے صدر پروفیسر محمد جہانگیر وارثی نے بطور استاد،محقق و منتظم پروفیسر ستھیسن کی نمایاں خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے پروفیسر ستھیسن کو ایسا دانشور قرار دیا جن قیادت نے فیکلٹی آف آرٹس کی ترقی اور استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ پروفیسر وارثی نے پروفیسر محمد رضوان خان کا بھی خیرمقدم کرتے ہوئے بطور استاد، محقق، مترجم اور علمی منتظم ان کی خدمات کا ذکر کیا اور ان کی وقیع علمی تصنیفات اور یونیورسٹی میں مختلف قائدانہ ذمہ داریوں کو سراہا۔
اس موقع پر متعدد شعبوں کے صدور اور سینئر اساتذہ بشمول ڈاکٹر عبد الہادی، پروفیسر معراج احمد، پروفیسر فیضان بیگ، پروفیسر محمد قمرالہدیٰ فریدی، پروفیسر زبیر شاداب، پروفیسر اے نجُم، ڈاکٹر عامر ریاض، پروفیسر محمد عثمان غنی اور پروفیسر شاہینہ ترنم نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے پروفیسر ستھیسن کی علمی کامیابیوں، انتظامی بصیرت، انکساری اور ادارہ جاتی ترقی کے تئیں ان کی وابستگی کو سراہا۔ انہوں نے پروفیسر محمد رضوان خان کی قیادت اور فیکلٹی کو مزید مستحکم کرنے کے ان کے وژن پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔
پروفیسر آزرمی دخت صفوی کا پیغام ڈاکٹر محمد احتشام الدین نے پڑھ کر سنایا، جس میں پروفیسر ستھیسن کی شفقت، غیر جانبداری اور علمی امتیاز کو اجاگر کیا گیا۔ پروفیسر لطیف حسین شاہ کاظمی، پروفیسر محمد علی جوہر، پروفیسر محمد سمیع اختر اور ڈاکٹر ارشد اقبال نے بھی یونیورسٹی کے لیے ان کی خدمات پر اپنے تاثرات پیش کیے۔اپنے الوداعی خطاب میں پروفیسر ستھیسن نے اے ایم یو سے تقریباً 38 سالہ وابستگی کے دوران ملنے والی محبت اور تعاون پر اظہارِ تشکر کیا اور کہا کہ علی گڑھ ان کا پہلا گھر بن چکا ہے۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر محمد رضوان خان نے پروفیسر ستھیسن کو غیر معمولی علمی مقام کا حامل دانشور قرار دیا اور تمام شعبوں پر زور دیا کہ وہ فیکلٹی آف آرٹس کے علمی وقار کو مزید بلند کرنے کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔ اس موقع پر پروفیسر ستھیسن کو یادگاری نشان پیش کیا گیا، جبکہ پروفیسر محمد رضوان خان کو مختلف شعبوں کے صدور نے تہنیت پیش کی۔ شعبہ سنسکرت کی چیئرپرسن پروفیسر ساریکا وارشنے نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔

Continue Reading

uttar pradesh

اسمبلی انتخابات سے قبل ’ایس پی‘ نےتیار کی بڑی حکمت عملی ،اترپردیش الیکشن کیلئے سماجوادی پارٹی میں اسمبلی ٹکٹوں کی تقسیم کا فارمولہ طے، ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے نجی ایجنسی کے ساتھ پارٹی رہنماؤں کو بھی سونپی اہم ذمہ داریاں

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:سماجوادی پارٹی آئندہ سال ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں میدان میں اترنے سے قبل اپنی انتخابی حکمتِ عملی کو پوری طرح مضبوط اور منظم کرنا چاہتی ہے۔ پارٹی اس بار ٹکٹوں کی تقسیم میں کسی بھی قسم کی غلطی سے بچنے کے لیے بہت محتاط ہے اور اس مقصد کے لیے ایک واضح فارمولہ طے کر لیا گیا ہے۔
ایک نجی ایجنسی کے ذریعے ریاست کی تمام 403 اسمبلی نشستوں کا تفصیلی رپورٹ کارڈ تیار کرایا جا رہا ہے۔ سماجوادی پارٹی کی قیادت اس مرتبہ امیدواروں کے ٹکٹوں کا حتمی فیصلہ اسی رپورٹ کارڈ کے ساتھ ضلعی سطح کے رہنماؤں کی آراء اور فیڈ بیک کی بنیاد پر کرے گی۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں ان امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی جو اپنے حلقے میں مضبوط عوامی حمایت رکھتے ہوں اور جن کی عوامی شبیہ مثبت اور بہتر ہو۔سماجوادی پارٹی کی قیادت اتر پردیش کی تمام 403 اسمبلی نشستوں کے لیے تیار کیے جا رہے رپورٹ کارڈ کی بنیاد پر فیڈ بیک حاصل کرنے کا عمل شروع کر چکی ہے۔ اس مقصد کے لیے پارٹی رہنماؤں کو خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو ان دنوں ضلع وار پارٹی رہنماؤں کے ساتھ مسلسل میٹنگیں کر رہے ہیں۔ ان نشستوں میں رپورٹ کارڈ کی روشنی میں مقامی رہنماؤں سے تفصیلی رائے لی جا رہی ہے۔ اس دوران متعلقہ حلقے میں پارٹی کی موجودہ پوزیشن، ممکنہ امیدواروں کے بارے میں معلومات، نیز پارٹی کی مضبوطی اور کمزوری کی وجوہات پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق سروے رپورٹ اور مقامی رہنماؤں کے فیڈ بیک کی بنیاد پر ہی امیدواروں کے ٹکٹوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔ واضح کیا گیا ہے کہ محض مضبوط دعویداری کافی نہیں ہوگی، اگر کسی امیدوار کے بارے میں موصول ہونے والا فیڈ بیک منفی رہا تو اسے ٹکٹ ملنے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔
لوک سبھا انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرنے والی سماجوادی پارٹی اس بار گزشتہ اسمبلی انتخابات کی طرح کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غلطی کی گنجائش نہیں چھوڑنا چاہتی۔ اسی لیے مقامی رہنماؤں سے حاصل ہونے والے فیڈ بیک اور نجی ایجنسی کی سروے رپورٹ کا باہمی موازنہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں رپورٹوں کے جائزے میں جس امیدوار کی عوامی مقبولیت اور دعویداری ووٹروں کی نظر میں زیادہ مضبوط ثابت ہوگی، اسی کو پارٹی ٹکٹ دیا جائے گا۔ جن اسمبلی حلقوں میں یہ عمل مکمل ہو چکا ہے، وہاں ممکنہ امیدواروں کو بتدریج انتخابی تیاری شروع کرنے کے لیے گرین سگنل بھی دیا جا رہا ہے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جن رہنماؤں کو انتخابی سرگرمیوں کے آغاز کی اجازت دی جا رہی ہے، انہیں سختی سے ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام یا بیان نہ دیں جس سے ان کی ذاتی ساکھ یا پارٹی کی سیاسی پوزیشن کو نقصان پہنچے۔سماجوادی پارٹی کی قیادت کا ماننا ہے کہ 2022 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں پارٹی نے مجموعی طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا، تاہم معمولی سی چوک کے باعث اقتدار تک پہنچنے سے محروم رہ گئی تھی۔ دوسری جانب 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج نے پارٹی کے حوصلے مزید بلند کر دیے ہیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network