تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
دلی این سی آر

امیر جماعتِ اسلامی ہند کی کابل اسپتال پر حملے کی شدید مذمت، شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ

(پی این این)
نئی دہلی: جماعتِ اسلامی ہند کے امیر، سید سعادت اللہ حسینی نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اسپتال پر مبینہ پاکستانی فضائی حملے کی سخت مذمت کی ہے۔
میڈیا کو جاری اپنے بیان میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ’’ ہم کابل میں اسپتال پر پاکستان کی جانب سے مبینہ فضائی حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، جس میں 400 سے زائد افراد جاں بحق اور 250 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ ہم متاثرین کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور اس المناک وقت میں افغانستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ رات کے وقت ہوا اور اس نے اس طبی مرکز کو بری طرح تباہ کر دیا جہاں بڑی تعداد میں کمزور اور زیرِ علاج مریض موجود تھے۔ اسپتال دیکھ بھال اور تحفظ کی جگہ ہوتے ہیں، اور ایسے اداروں پر کسی بھی قسم کا حملہ بین الاقوامی انسانی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایسے حملوں میں قیمتی جانوں کا ضیاع، خصوصاً اُن افراد کا جو پہلے ہی تکلیف میں تھے اور علاج کے مراحل سے گزر رہے تھے، یہ جنگ کے نتیجے میں ہونے والے شدید انسانی بحران کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
امیر جماعت نے مزید کہا کہ ’’ یہ افسوسناک واقعہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے، دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تنازعہ، جو ایک طویل اور حساس سرحد کے حامل ہیں، پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ شہری ڈھانچے کی تباہی اور ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کو واضح کرتی ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے تحمل کے مظاہرے اور کشیدگی کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ “دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جنگ کو ہر حال میں ٹالا جانا چاہیے اور کسی بھی صورت اسے بھڑکنے نہیں دینا چاہیے۔ خطے کا امن اور استحکام انتہائی اہم ہے، اور کشیدگی میں اضافہ پورے علاقے کے لیے سنگین نتائج لا سکتا ہے۔ مسائل اور اختلافات کو طاقت یا جنگ کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ہم پاکستان اور افغانستان دونوں سے اپیل کرتے ہیں کہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مزید بے گناہ جانوں کے ضیاع کا سبب بنیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ ” واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن بحال کرنے کے لیے نئی اور سنجیدہ سفارتی کوششوں کی فوری ضرورت ہے۔ پائیدار امن، جنگ اور تصادم سے نہیں ، انصاف، انسانی وقار کے احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ہی قائم ہو سکتا ہے، ۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔