تازہ ترین
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ’سوچھتا ہی سیوا 2026‘ کے تحت صفائی مِتر تحفظ کیمپ منعقدڈسٹرکٹ چائلڈ ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن کمیٹی کا اجلاسخدمتِ عہد مہم 2026 کے تحت مہوا میں بلاک سطحی پینٹنگ اور تقریری مقابلہ منعقدوکست بھارت2047 کے تناظر میں ادبِ اطفال پر جے این یو میں اہم پروگرام کا انعقادماضی کے ورثے اور مستقبل کی تعمیرہےلائبریریریکھاگپتا نے مالویہ نگر علاقے میں گیتانجلی فائر اسٹیشن کا کیاافتتاحمسکان قتل کیس میں 350 صفحات کی چارج شیٹدہلی نے 18 سال میں ستمبر کی سب سے سرد رات
انٹر نیشنل

امریکہ کی اسلامک سینٹر آف سانڈیاگو پر حملہ،5ہلاک،بال بال بچے مدرسہ کے طلبا

واشنگٹن:ذہبی نفرت کی آگ امریکہ میں بھی پھیل گئی ہے۔ امریکہ کی اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو میں آج زبردست گولہ باری کی گئی۔ اسلامک سینٹر کی یہ سب سے بڑی مسجد ہے، جہاں بچوں کو عربی تعلیم کے ساتھ دین کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ جس وقت حملہ ہوا بچے مسجد میں موجود تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں قائم بڑے اسلامی مرکز میں ہونے والی خوفناک فائرنگ نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا جہاں حملے کے نتیجے میں سیکیورٹی گارڈ سمیت 3 افراد جان سے گئے جبکہ دو مبینہ حملہ آور بھی ہلاک ہو گئے۔امریکی حکام کے مطابق واقعہ سان ڈیاگو کے معروف اسلامک سینٹر میں پیش آیا، جہاں اچانک فائرنگ کی آوازیں گونج اٹھیں۔
اس دوران مسجد میں موجود نمازیوں اور بچوں میں بھگدڑ مچ گئی، جبکہ سیکیورٹی پر مامور گارڈ نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے جان قربان کر دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔واقعے کے بعد پولیس، ایف بی آئی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا۔سان ڈیاگو پولیس چیف کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ واقعہ نفرت انگیزی پر مبنی حملہ ہو سکتا ہے۔
حکام نے بتایا کہ دونوں مشتبہ حملہ آور کم عمر تھے اور ان کی لاشیں مسجد کے قریب ایک گاڑی سے ملی ہیں۔اسلامک سینٹر انتظامیہ کے مطابق یہ مسجد سان ڈیاگو کاؤنٹی کا سب سے بڑا اسلامی مرکز ہے جہاں روزانہ سینکڑوں افراد عبادت کے لیے آتے ہیں جبکہ جمعہ اور مذہبی تقریبات کے دوران ہزاروں افراد یہاں موجود ہوتے ہیں۔اسی مرکز میں دینی و تعلیمی سرگرمیاں بھی جاری رہتی ہیں اور الراشد اسکول بھی قائم ہے۔
مسجد کے امام طحہٰ حسنیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے باوجود بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا جس سے بڑا سانحہ ٹل گیا۔ انہوں نے سیکیورٹی گارڈ کی قربانی کو بہادری کی مثال قرار دیا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔