uttar pradesh
کھاد، بیج کی کالابازاری اور بجلی بحران کے خلاف کانگریس کا کلکٹریٹ پر دھرنا
علی گڑھ:دھان کی روپائی اور خریف فصلوں کی بوائی کے موسم میں کسانوں کو مناسب مقدار میں کیمیائی کھاد، بیج اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے مطالبے کو لے کر آج سابق رکن اسمبلی وویک بنسل کی قیادت میں ضلع اور شہر کانگریس کمیٹی کے زیر اہتمام کلکٹریٹ احاطے کے سامنے ایک بڑا دھرنا و احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
دھرنے میں موجود کانگریس کارکنان اور شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے سابق رکن اسمبلی وویک بنسل نے کہا کہ دھان کی روپائی اور خریف فصلوں کی بوائی کا وقت شروع ہونے والا ہے، لیکن کیمیائی کھاد کی ذخیرہ اندوزی کے باعث کسانوں کو کھلے بازار میں مہنگے داموں کھاد خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری مراکز پر بھی کسانوں کو ضرورت کے مطابق کھاد دستیاب نہیں ہو رہی ہے۔ جس کسان کو چار بوری کھاد کی ضرورت ہوتی ہے، اسے پورا دن قطار میں کھڑے رہنے کے بعد صرف ایک بوری کھاد ہی مل پاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں بجلی کی ناکافی فراہمی کے سبب کسانوں کو آبپاشی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے بجلی کٹوتی نہ کرنے کی ہدایات کے باوجود ریاست میں بجلی کا بحران برقرار ہے، جس سے کسان شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
وویک بنسل نے کہا کہ سال 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں کی آمدنی دس برسوں میں دوگنی کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن بارہ برس کے اقتدار کے بعد بھی کسانوں کی حالت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ چھوٹے کسان آج روزگار کی تلاش میں اپنے گاؤں چھوڑ کر شہروں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورتحال میں حکومت ’’سمردھ کسان، خوشحال دیش‘‘ کا نعرہ کس بنیاد پر دے رہی ہے۔
دھرنے سے شہر کانگریس صدر نوید خان، سبودھ نندن شرما، سابق صدر حاجی نوشاد قریشی، ڈی آر یادو، ونیش کمار سنگھ، ڈاکٹر محمد سہیل اختر، یوتھ کانگریس ضلع صدر سنجے یادو اور رئیس غازی سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ تمام مقررین نے موجودہ حالات میں کسانوں کی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی پروگرام کے اختتام پر کیمیائی کھاد اور بیج کی مناسب دستیابی اور بلا تعطل بجلی فراہمی کو یقینی بنانے کے مطالبے پر مشتمل گورنر اتر پردیش کے نام ایک میمورنڈم اے سی ایم دوم دگ وجے سنگھ کو پیش کیا گیا۔دھرنے کی صدارت ضلع کانگریس صدر ٹھاکر سومویر سنگھ نے کی جبکہ نظامت ندیم غفور نے انجام دی۔
اس موقع پر سابق صدر صلاح الدین واسی، محمد اسلم قریشی، شاہ رخ خان، ارشاد فریدی،عامل حسین، شاہد خان، صابر محمد، ندیم احمد زیدی، اکھلیش کمار پرجاپتی، ڈاکٹر راکیش سارسوت، سعید الدین چودھری، مجیدن نیتانی، رضوانہ بیگم، سید راشد علی، قطب الدین، نصرالدین احمد، فقیرا، باب الدین عباسی، شہباز ضیاء الدین، محمد آصف، نبی احمد، عارف صدیقی، وکاس چیتن، سریندر بگھیل، عقیل احمد قصار، سنی پرجاپتی، انوراگ پرتاپ سنگھ، رشبھ گاندھی، ارپت یادو، الیاس سیفی، کنور شعیب، پرشانت سنگھ، وشال، پرمود سمیت بڑی تعداد میں کانگریس کارکنان اور کسان موجود رہے۔
uttar pradesh
کیمبرج یونیورسٹی میں اے ایم یو کی پروفیسر کی کتاب پر مذاکرہ منعقد
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ انگریزی کی پروفیسر سمیع رفیق کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ”اِنّوسینٹ ریپچرز: اسٹوریز آن دی نان ہیومن“ (ہواکال، 2026) پر برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے وولفسن کالج میں ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ کتاب انسانوں اور غیر انسانی دنیا کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالتی ہے۔
ہائبرڈ انداز میں منعقد ہونے والے اس مذاکرے میں کیمبرج یونیورسٹی کے طلبہ، محققین اور اساتذہ نے شرکت کی، جبکہ دنیا کے مختلف حصوں سے متعدد شرکاء آن لائن شریک ہوئے۔
اپنی کتاب پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر سمیع رفیق نے بتایا کہ ان کی تحریروں پر بچپن کے تجربات اور چرند و پرند سے ان کے تعلق کا گہرا اثر رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیات کے تحفظ اور قدرتی ماحول کی دیکھ بھال کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
کنگز کالج لندن کے پی ایچ ڈی اسکالر عبدالصبور قدوائی اور اے ایم یو کے شعبہ انگریزی کے ڈاکٹر آیوش گوڑ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مذاکرے کی نظامت کیمبرج یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی اسکالر مس مدیحہ نعمان نے کی۔ تقریب کا اختتام سوال و جواب کے سیشن اور کتاب پر دستخط کی تقریب کے ساتھ ہوا۔
uttar pradesh
قبرستان میں پہنچا بارش کا پانی ،باہر آئیںکئی لاشیں ، لوگوں کااظہارغم
دیوبند:سہارنپور ضلع کے گاگلہیڑی علاقہ کے سونا سید ماجرا گاؤں میں دریا کا تیزی سے کٹاؤ قبرستان تک پہنچ گیا اور کئی لاشیں باہر نکل گئی، اس کی اطلاع ملتے ہی گاؤں والے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور آنسو بہاتے ہوئے اپنے پیاروں کی لاشوں کو تلاش کرنے لگے۔ لاشوں کو مذہبی رسومات کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔
سونا سید ماجرا قبرستان ہنڈن ندی کے کنارے واقع ہے۔ پچھلے دو دنوں سے مسلسل بارش اور شیوالک علاقہ سے تیز دھارے کی وجہ سے ندی کی سطح آب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پانی قبرستان تک پہنچ گیا اور کٹاؤ شروع ہو گیا۔ دریں اثنا، تقریباً چھ ماہ قبل دفن کی گئی دو لاشیں ان کی قبروں سے نکلیں۔ اس کی اطلاع ملتے ہی گاؤں والے قبرستان پہنچ گئے اور اپنی قبریں تلاش کرنے لگے۔
گاؤں کے پردھان شاہ زیب حسین نے بتایا کہ ندی میں تجاوزات اور واٹر کورس میں تبدیلی کی وجہ سے دریا کا بہاؤ قبرستان کی طرف بڑھ گیا ہے۔ نتیجتاً ندی کا پانی قبرستان کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جس سے مسلسل کٹاؤ ہو رہا ہے۔ اطلاع ملنے پر تھانہ انچارج دھرمیندر کمار اور محکمہ ریونیو کی ایک ٹیم نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قبرستان اور ندی کے پانی کی سطح کا معائنہ کیا۔
نائب تحصیلدار ببلو کمار اور نائب تحصیلدار اسمرتی شکلا نے بتایا کہ دونوں لاشوں کو ریونیو ٹیم کی موجودگی میں دوبارہ دفنایا گیا ہے۔ پورے معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ تیار کرکے اعلیٰ حکام کو بھیجی جائے گی تاکہ ضروری کارروائی کی جاسکے۔
اس پورے واقعہ سے گاؤں میں تشویش اور غم کا ماحول ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ دریا کے تیز بہاؤ سے قبرستان کا بڑا حصہ متاثر ہوا ہے جس سے خدشہ ہے کہ اگر پانی کی سطح مزید بلند ہوئی تو دیگر قبروں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
uttar pradesh
سہارنپور میں فوڈ سیفٹی محکمہ کی کارروائی
دیوبند:ریاستی حکومت کی ہدایات اور ضلع مجسٹریٹ کے احکامات کے مطابق ضلع میں غذائی اشیاء کے معیار کو یقینی بنانے اور ملاوٹ پر مؤثر روک لگانے کے لیے فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن محکمہ کی خصوصی مہم مسلسل جاری ہے۔
اسی سلسلے میں چیف فوڈ سیفٹی آفیسر پنکج کمار گپتا کی قیادت میں چھجوپورہ انڈسٹریل ایریا میں واقع شیو لوک فوڈ پروڈکٹ پر چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔
معائنہ کے دوران ادارے میں اچار، ٹماٹو ساس، ریڈ چلی ساس، سویا ساس اور مصنوعی سرکہ فروخت کے لیے تیار حالت میں پائے گئے، جبکہ موقع پر اچار کی پیکنگ کا کام بھی جاری تھا۔ فوڈ سیفٹی ٹیم نے شبہ کی بنیاد پر فروخت کے لیے تیار رکھے گئے ٹماٹو ساس اور ریڈ چلی ساس کے دو نمونے حاصل کر کے فوڈ اینالیسس لیبارٹری بھیج دیے ہیں۔ محکمہ کے مطابق جانچ رپورٹ موصول ہونے کے بعد فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ معائنہ کے دوران ادارے میں پائی جانے والی بعض خامیوں کی بنیاد پر انتظامیہ کو امپروومنٹ نوٹس جاری کیا جا رہا ہے اور مقررہ مدت کے اندر ضروری اصلاحات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اس کارروائی میں فوڈ سیفٹی آفیسران جگدمبا پرساد، جواہر لال، ونود کمار، کلدیپ تیواری اور امت گوتم بھی شریک رہے۔ چیف فوڈ سیفٹی آفیسر پنکج کمار گپتا نے کہا کہ ضلع میں عوام کو معیاری اور خالص غذائی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں اور سیمپلنگ کی مہم آئندہ بھی مسلسل جاری رہے گی۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر11 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
